Time 16 جنوری ، 2023
پاکستان

کراچی بلدیاتی الیکشن کے نتائج مکمل، پیپلز پارٹی سب سے آگے، جماعت اسلامی کا دوسرا نمبر

الیکشن کمیشن نے کراچی ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج جاری کردیے ہیں جبکہ حیدر آباد ڈویژن کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔

الیکشن کمیشن نےکراچی کی تمام 235 یونین کونسلز(یوسیز) کےنتائج جاری کیے ہیں۔

نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی 93 یوسیز میں کامیابی کے بعد سرفہرست ہے جب کہ جماعت اسلامی 86 یوسیز میں کامیابی کے بعد دوسرے نمبرپر ہے۔

کراچی بلدیاتی الیکشن کے نتائج مکمل، پیپلز پارٹی سب سے آگے، جماعت اسلامی کا دوسرا نمبر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کو کراچی ڈویژن میں 40 یوسیز پرکامیابی ملی ہے جب کہ مسلم لیگ ن نے7، جمعیت علمائے اسلام نے 3 اور  تحریک لبیک نے 2 نشستوں پرکامیابی حاصل کی ہے۔

ان کے علاوہ مہاجر قومی موومنٹ ایک یوسی پر اور آزاد امیدوار3 یوسیز پرکامیاب ہوئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق شہر کی 246 میں سے 235 یونین کمیٹیز میں انتخابات ہوئے جب کہ 10 نشستوں پر امیدواروں کے انتقال کی وجہ سے انتخابات ملتوی ہوئے، ایک نشست پر پیپلزپارٹی کا چیئرمین پینل بلا مقابلہ جیت چکا ہے۔

ضلع ملیر میں بھی پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا

کراچی کا ضلع ملیر 3 ٹاؤن اور 30 یونین کونسلز (یو سیز) پرمشتمل ہے۔ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق ضلع ملیر میں پیپلز پارٹی 20 یو سیز پر کامیاب ہوئی۔ پی ٹی آئی ملیر سے 4 یو سیز پرکامیاب ہوئی۔

اس کے علاوہ جماعت اسلامی 3 یو سیز پر کامیاب ہوئی، پاکستان مسلم لیگ ن 2 یو سیز پر کامیاب ہوئی، ایک یو سی پر آزاد امیدوار کامیاب ہوا۔

کراچی کے ضلع جنوبی کا مکمل نتیجہ

کراچی کے ضلع جنوبی میں 26 میں سے 15 یونین کونسلز  پر  پیپلز پارٹی اور 9 پر تحریک انصاف کامیاب ہوئی ہے، ضلع جنوبی میں ایک نشست پر تحریک لبیک کا پینل منتخب ہوا اور ایک نشست پر انتخاب ملتوی ہوگیا۔

لیاری کی 13 میں سے 11 نشستیں پی پی کے نام، پی ٹی آئی ایک پر کامیاب

لیاری ٹاؤن کی 13 میں سے 12 نشستوں کے نتائج سامنے آ چکے ہیں جن میں سے 11 نشستیں پیپلز پارٹی نے جیت لی ہیں اور  پی ٹی آئی ایک نشست پر کام یاب ہو سکی ہے۔

صدر ٹاؤن کی تمام 13 نشستوں کے نتائج سامنے آ چکے ہیں جن میں پی ٹی آئی اب تک 8 نشستیں حاصل کر چکی ہے جب کہ پیپلز پارٹی نے صدر ٹاؤن کی 4 نشستیں حاصل کی ہیں، صدر ٹاؤن کی ایک نشست تحریک لبیک نے حاصل کی ہے۔

ضلع وسطی میں جماعت اسلامی کامیاب

کراچی کے ضلع وسطی میں جماعت اسلامی واضح اکثریت سے کامیاب ہوئی ہے، یہاں جماعت اسلامی نے 42 میں سے 39 یوسیز میں کامیابی حاصل کی ہے۔

جماعت اسلامی گلبرگ اور نارتھ ناظم آباد ٹاؤن میں تمام 16یو سیز  پرکامیاب ہوئی ہے جب کہ لیاقت آباد ٹاؤن میں7 اور نیوکراچی ٹاؤن میں 10 یوسیز جماعت اسلامی کے نام رہی ہیں۔

پیپلز پارٹی ضلع وسطی میں 3 یوسیز میں کامیابی حاصل کی ہے۔

ضلع شرقی میں بھی جماعت اسلامی آگے

ضلع شرقی کے غیر حتمی اور غیر سرکاری مکمل نتائج کے مطابق جماعت اسلامی 22 یوسیز کے ساتھ سب سے آگے ہے جب کہ پیپلز پارٹی 14 یوسیز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، یہاں تحریک انصاف 7 یوسیز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی ہے۔

چنیسر ٹاؤن میں جماعت اسلامی نے4 ، پیپلز پارٹی نے 3 اور پی ٹی آئی نے ایک یوسی جیتی ہے، جناح ٹاؤن میں جماعت اسلامی نے 7، تحریک انصاف نے 4 یوسیز جیتی ہیں، گلشن ٹاؤن میں جماعت سلامی نے 6 یوسیز جیتی ہیں جب کہ 2 یوسز پیپلز پارٹی کے حصے میں آئی ہیں، صفورا ٹاؤن میں جماعت اسلامی نے 5 یوسیز میں کامیابی حاصل کی ہے جب کہ 3 یوسیز پیپلز پارٹی کے حصے میں آئی ہیں،پیپلزپارٹی نے سہراب گوٹھ ٹاؤن میں 6 یوسیز جیتی ہیں جب کہ  2 یوسیز پر پی ٹی آئی کامیاب ہوئی ہے۔

خرم شیر زمان کو اپ سیٹ شکست

کراچی کے الیکشن کا سب سے بڑا اپ سیٹ ضلع جنوبی میں ہوا ہے، پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر اور کراچی سے رکن صوبائی اسمبلی خرم شیر زمان یوسی کا الیکشن ہار گئے ہیں۔

خرم شیر زمان کو صدر ٹاؤن یوسی 11 سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سید نجمی عالم کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، نجمی عالم نے اس نشست پر دو ہزار 696 ووٹ حاصل کیے۔

خرم شیر زمان اس علاقے سے دس سال سے ایم پی اے ہیں اور انہیں پی ٹی آئی کی جانب سے میئر کا امیدوار بھی قرار دیا جا رہا تھا، رکن صوبائی اسمبلی ہونے کے باوجود وہ یوسی چیئرمین کی نشست پر لڑ رہے تھے۔

حیدرآباد ڈویژن میں بھی پی پی کو سبقت

سندھ کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں حیدرآباد ڈویژن کے اضلاع کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے جن میں مجموعی طور پر پیپلز پارٹی کو واضح برتری حاصل ہے۔

ضلع حیدرآباد میں پیپلز پارٹی کو برتری

ضلع حیدرآبادکی 160 یوسیزمیں سے 149 کے نتائج جاری کردیےگئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ضلع حیدرآباد کے بلدیاتی انتخابات میں پیپلزپارٹی 93 یوسیزپرکامیاب ہوئی، پیپلزپارٹی کے 31 امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہوچکے تھے۔

حیدرآباد میں تحریک انصاف 38 یوسیزپرکامیابی کے بعد دوسرے نمبرپرہے جب کہ تحریک لبیک پاکستان دو اورجماعت اسلامی ایک یوسی پرکامیاب ہوئی ہے۔

ان کے علاوہ 15 یوسیزپر آزاد امیدوارکامیاب ہوئے ہیں جب کہ 6 یوسیزپرامیدواروں کے انتقال کے باعث انتخابات ملتوی ہوئے اور 5 یوسیزکے نتائج آنا باقی ہیں۔

ضلع دادو میں بھی پیپلز پارٹی کو برتری

دادو کی 66 یوسیزمیں سے 61 کے غیر حتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی 48 یوسیزپرکامیاب ہوئی ہے۔

پی ٹی آئی 10 یوسیز پرکامیابی کے ساتھ یہاں بھی دوسرے نمبر پر ہے جب کہ 3 یوسیزپر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ پیپلز پارٹی نے  مٹیاری، جام شورو، ٹنڈو الہ یار، ٹنڈو محمد خان، بدین، ٹھٹہ اور سجاول کی ضلع کونسلوں میں برتری حاصل کر لی جب کہ  ٹنڈو الہ یار میونسپل کمیٹی میں بھی میدان مار لیا، میونسپل کمیٹی، بول ہاری، مٹیاری، جوہی، کوٹری اور سیہون شریف میں بھی پیپلز پارٹی سب سے آگے ہے۔

کراچی میں نتائج غیر معمولی تاخیرکا شکار

کراچی کے 7 اضلاع میں بلدیاتی الیکشن کے بعد ووٹوں کی گنتی کے بعد بھی نتائج آنے میں غیر معمولی تاخیر ہوئی اور مکمل نتائج جاری ہونے میں 24 گھنٹے سے زائد لگ گئے۔

اس حوالے سے جیو نیوز سےگفتگو کرتے ہوئے ترجمان الیکشن کمیشن قراة العین کا کہنا تھا کہ الزامات بے بنیاد اور لاعلمی پر مبنی ہیں، 2015 کے بلدیاتی انتخابات میں بھی نتائج 3 دن میں مکمل ہوئے تھے۔

ترجمان الیکشن کمیشن نے دعویٰ کیا کہ انتخابات کے نتائج میں تاخیر نہیں، نتیجے اپنے وقت پر آرہے ہیں۔

حافظ نعیم کا زبردستی نتائج تبدیل کیے جانے کا الزام

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے  مکمل الیکشن نتائج کے بعد اپنے ردعمل میں کہا کہ ہم نے پارٹی کا اجلاس بلالیا ہے، ہمیں ہروایا گیا ہے، پہلے ہمیں نمبر ون پارٹی تسلیم کریں پھربات چیت ہوگی، جونتائج جاری ہوئے ہیں اس پرہم پیپلزپارٹی سے بات نہیں کریں گے۔

اس سے قبل انہوں نے بلدیاتی انتخابات میں 100 نشستوں پرکامیابی کا دعویٰ کیا اور ساتھ ہی زبردستی نتیجہ تبدیل کرانے کا بھی الزام عائد کیا ۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ 30 ووٹر لسٹوں میں گڑ بڑ موجود ہے،پھر بھی ایک معقول تعداد میں لوگوں نے ووٹ ڈالا ہے اور پی پی کے بھی بہت سارے لوگوں نے جماعت اسلامی کو ووٹ دیا ہے لیکن ہماری اکثریت کو کم کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں۔

حافظ نعیم نے دعویٰ کیا تھا کہ جماعت اسلامی تقریباً 100 نشستوں پر کامیاب ہوگئی ہے، باقی سیٹوں پر ابہام اور تنازع ہے، فارم 11 ہم نے بہت مشکل سے حاصل کیے ہیں،رات دیر فارم 11،12 ملنے کا سلسلہ شروع ہوا، آراوز سے ہمیں رزلٹ نہیں مل رہے، پولنگ کو ختم ہوئے 18 گھنٹے گزرنے کے باوجود آراوز سے رزلٹ موصول نہیں ہوئے۔

جو بھی میئر بنے رونا دھونا نہ کرے: وزیراعلیٰ سندھ

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

 وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہےکہ حافظ نعیم کو میں نے اور ناصر حسین شاہ نے فون کرکے پوچھا کہ جو بھی کراچی کا میئر بنتا ہے وہ رونا دھونا نہ کرے۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ کے لوگوں کی مہربانی ہے کہ انہوں نے ہمیں سپورٹ کیا، کراچی میں 235 میں سے100سےزائد سیٹیں ملنےکی امید ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات انتہائی پرامن رہے، کل لا اینڈ آرڈر کے کچھ مسائل تھے لیکن ہم نے حل کیے، پورے الیکشن میں مجموعی طور پر 13 واقعات ہوئے۔

ہو سکتا ہے جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی ملکر حکومت بنالیں: سعید غنی

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا تھا کہ کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں ہم سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئے ہیں، شہر میں اپنا میئر لانے کے لیے رابطے کریں گے۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی کراچی سے صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستیں بھی جیتے گی، ہماری خواہش تھی کہ ایم کیو ایم بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیتی، ایم کیو ایم نے ماضی میں بھی انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے، ایم کیو ایم کا حق ہے کہ احتجاج کرے، بیانات دیں، جو جیت کر آئے ہیں وہ مدت پوری کریں گے اور عوام کی خدمت بھی کریں گے، ہمارا تحریک انصاف سے بات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، پی ٹی آئی کو چھوڑ کر باقی تمام جماعتوں سے بات ہو سکتی ہے۔

پی ٹی آئی کا جماعت اسلامی کو سپورٹ کرنےکا اعلان

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

جیونیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی نے کسی سے بھی اتحاد نہ کرنے کا اعلان کیا۔

فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو لیڈ نہ ملی تو جماعت اسلامی کو غیر مشروط سپورٹ کریں گے، ہم پیپلزپارٹی کو سندھ دشمن جماعت سمجھتےہیں۔

انہوں نےکہا کہ الیکشن کمیشن پاکستان پی ٹی آئی کی حمایت میں نہیں ہے۔

مزید خبریں :