معاشی صورت حال یہی رہی تو مارچ تک ہنگامے پھوٹ پڑیں گے: صنعتکار گورنر اسٹیٹ بینک کے سامنے پھٹ پڑے

سپلائی چین نہ کھلی تو بے روزگاری کا سیلاب آئے گا، رمضان میں دالیں 1000 روپے کلو تک پہنچ جائیں گی، صنعتکار۔ فوٹو فائل
سپلائی چین نہ کھلی تو بے روزگاری کا سیلاب آئے گا، رمضان میں دالیں 1000 روپے کلو تک پہنچ جائیں گی، صنعتکار۔ فوٹو فائل

کراچی: صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ سپلائی چین نہ کھلی تو بے روزگاری کا سیلاب آئے گا اور رمضان میں دالیں 1000 روپے کلو تک ہو جائیں گی۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (ایف پی سی سی آئی) آمد پر صدر ایف پی سی سی آئی عرفان شیخ نے کہا کہ ایکسپورٹرز اور امپورٹرز اسٹیٹ بینک کی طرف دیکھ رہے ہیں،

سابق صدر ایف پی سی سی آئی ناصر مگوں کا کہنا تھا اسٹیٹ بینک میں بیٹھے افراد خود کو ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سمجھتے ہیں، یہی صورت حال رہی تو مارچ تک ہنگامے پھوٹ پڑیں گے۔

ناصرمگوں کا کہنا تھا اوپن اکاؤنٹ میں ڈالر منتقلی کی اجازت دی جائے، جب مر رہے ہوں تو مرا ہوا بھی حلال ہو جاتا ہے، ایران سے یورپ اور انڈیا بارٹر ٹریڈ کر رہا ہے، اس طرح کروڑوں ڈالرز بچائے جا سکتے ہیں، سپلائی چین نہ کھلی تو بے روزگاری کا سیلاب آئے گا، رمضان میں دالیں 1000 روپے کلو ہو جائیں گی، شرح سود کا مہنگائی سےکوئی تعلق نہیں ہے۔

سابق صدر ایف پی سی سی آئی انجم نثار کا کہنا تھا بحران کے حل کے لیے وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے پاس کوئی پالیسی نہیں ہے، ایسا لگتا ہے کہ اسٹیٹ بینک کمرشل بینکس سے ملا ہوا ہے، صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور لوگ فارغ کیے جا رہے ہیں، بینکس سے ڈالر کے تین تین ریٹس دیے جا رہے ہیں۔

سابق صدر ایف پی سی سی آئی زکریا عثمان کا اس موقع پر کہنا تھا ڈالرز کا اپنے طور انتظام پر کھلی امپورٹ کی اجازت دی جائے، ملک انارکی کی طرف جا رہا ہے۔

صنعت کار انجینئر جبار کا کہنا تھا مفتاح اسماعیل نے اسٹیٹ بینک بورڈ میں اپنے دو دوستوں کو ڈلوایا، 64 لوگ جنیوا جاتے ہیں اور بڑے ہوٹلوں میں رہتے ہیں۔

اس موقع پر شبیر منشا چھرہ کا کہنا تھا اسٹیٹ بینک افسران ایف پی سی سی آئی رہنماؤں کی فون کالز تک نہیں اٹھاتے جبکہ خرم سعید کا کہنا تھا مہنگائی کے خاتمے کے لیے بھارت سے سستا مال منگوایا جائے، ایکسپورٹرز کے ڈالرز کو مارکیٹ ریٹ پر لایا جائے،

سینئر صنعت کار سلیم بکیا گورنر اسٹیٹ بینک سے ملازمین کو نکالنے کا ذکر کرتے ہوئے رو پڑے اور ان کا کہنا تھا 950 ملازمین میں سے صرف 350 رہ گئے ہیں، کل میرا بیٹا آیا اور کہا کہ مزید 100 ملازمین فارغ کرنا ہوں گے۔

صنعتکاروں نے گورنر اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا کہ بند ہونے والی صنعت کا سود اسٹیٹ بینک اپنے ذمے لے، پاکستان میں بہت ڈالرز ہیں، اسٹیٹ بiنک انہیں تلاش کرے۔

مزید خبریں :