14 فروری ، 2023
بلوچستان پاکستان کا اہم ترین صوبہ ہے۔ اس صوبے کی معاشی، عسکری اور معاشرتی حوالے سے بہت اہمیت ہے۔ اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ بلوچستان کے عوام اپنے ملک پاکستان سے بے حد محبت کرتےہیں۔ ان کی حب الوطنی مسلمہ ہے۔
بس چند لوگ ہیں جو بہکائے گئے ہیں اور بھارت کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔ ان بھٹکے ہوئے چند لوگوں کو بھارت استعمال کرتا ہے۔ ان کے دل ودماغ میں ان کے اپنے ہی ملک کے خلاف نفرت کا زہر بھرا گیا ہے ۔ وہ وہاں بدامنی وفساد پھیلانے کی کوششیں کرتے ہیں۔ جہاں وہ پیدا ہوئے۔ جہاں وہ پلے بڑھے، جہاں وہ جوان ہوئے۔ جہاں ان کے عزیز واقارب رہتے ہیں۔ جوان کا اپنا ملک ہے جو ان کا گھر ہے جو ان کی ریاست ہے اور یہ تو سب جانتے اور مانتے ہیں کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے۔ یہ بات یقینی ہے کہ ان چند لوگوں کو گمراہ کیا گیا ہے۔
ورنہ جو ان کی، ان کے صوبے ، گھروں اور ان کے بہن بھائیوں اور عزیز واقارب کی حفاظت کرتے ہیں یہ بھٹکائے اور بہکائے گئے چند لوگ، ان محافظوں پر ہی حملے کرکے ان کو شہید کررہے ہیں۔ یہ اپنے صوبے یعنی اپنے گھر کو آباد کرنے میں تعاون کرنے کی بجائے اسے برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ آزاد بلوچستان کے نام پر بیوقوف بنائے جارہے ہیں۔ ایسے لوگ بہت زیادہ نہیں ہیں جو پورے صوبے کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔
یہ بھی سب کو پتہ ہے کہ ان کی پشت پناہی بھارت کرتا ہے۔ یہ لوگ بھارت آتے جاتے ہیں۔ وہاں ان کی باقاعدہ تربیت کی جاتی ہے اور پھر ان کے ذہنوں میں پاکستان کے خلاف مزید زہر بھر کے اور پیسہ دے کر واپس بھیجا جاتا ہے۔ ان کو اسلحہ وغیرہ بھی بھارت فراہم کرتا ہے۔
افغانستان شروع سے ایسے تمام پاکستان مخالفوں کا ٹھکانہ رہا ہے۔ افغانستان میں موجودہ طالبان حکومت قائم ہونے اور ان کے وعدوں کے بعد یہ امید بندھ گئی تھی کہ اب کسی پاکستان مخالف گروہ، تنظیم یا افراد کے لئے افغانستان میں کوئی ٹھکانہ میسر نہیں رہے گا۔ اور اسی میں دونوں پڑوسی ملکوں کا مفاد بھی ہے۔ لیکن افسوس کہ تاحال ایسا کچھ نظر نہیں آرہا۔
افغانستان آج بھی پاکستان کے دشمنوں کا ٹھکانہ ہے۔آج بھی وہاں سے دہشت گرد آکر پاکستان میں دہشت گردی کی کوششیں کرتے ہیں۔ اب بھی پاکستان کو امید ہے کہ طالبان حکومت اپنے وعدوں کا پاس کرے گی اور ایسے تمام افراد کو افغانستان سے مار بھگائے گی جو برادر اسلامی ملک میں جاکر دہشت گردی کی وارداتیں کرتے ہیں۔
بلوچستان کے ان راہ گم کردہ لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ جن کودشمن سمجھ کر شہید کرنے اور اس صوبے میں بدامنی پھیلانے کی کوششیں کرتے ہیں وہ انہی کے بھائی ہیں ،ان کی جان ومال اور عزتوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ایسے بہکائے گئے لوگوں کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ یہ ان کا اپنا ملک، اپنا صوبہ اور اپنا گھر ہے۔ بھلا کوئی باشعور انسان اپنے گھر کو آگ لگانے کا سوچ بھی سکتا ہے۔ بلوچستان میں تعینات سکیورٹی اداروں کے اہلکاراور حکومت پاکستان کے ساتھ ساتھ پوری قوم بلوچستان کو خوشحال،پرامن اور ترقی کے میدان میں آگے بڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہے۔
بلوچستان کے عوام کی بھی شدید خواہش ہے کہ بلوچستان میں امن قائم ہو اورترقی وخوشحالی کا دور واپس لوٹے۔ الغرض پرامن اور خوشحال بلوچستان سب کی خواہش بھی ہے اور بلوچستان کی ترقی ملک کے لئے ضروری بھی ہے۔ بس چند ہی لوگ ہیں جو چند ٹکوں اور ذاتی مفادات کے لالچ میں بھٹک گئے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی مذموم کوششیں کرتے ہیں، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ گمراہ لوگ بلوچستان اور وہاں کے عوام کی ترقی وخوشحالی کے دشمن ہیں، جو بلوچستان کو برباد، پس ماندہ اور محروم رکھنا چاہتے ہیں۔
بلوچستان پاکستان کے جسم کا نہایت اہم حصہ ہے۔ پوری قوم بلوچستان کے غیور عوام کے ساتھ ہے۔ تمام بھٹکے ہوئے لوگوں کو چاہئے اور ان سے یہ اپیل بھی ہے کہ وہ واپس آجائیں اور بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کریں ۔ ورنہ وہ اپنے ہی ملک، اپنے ہی صوبے وگھر اور اپنے ہی بہن بھائیوں کے لئے نقصان، بدنامی وبربادی کا باعث بنتے رہیں گے۔
جائز مطالبات ان کا حق ہے۔ اور ان جائز مطالبات کو پورا کرنا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔ لیکن جائز مطالبات کی بجائے بغاوت اور فساد پھیلانا بالکل مختلف عمل ہے جس کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی اور ایسے مذموم عمل کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔ پاک فوج بلوچستان کے عوام سے خصوصی محبت کرتی ہے۔
اسلئے ایک طرف وہ بلوچستان میں قیام امن کے لئے کوشاں ہے اور اس کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتی رہی ہے تو دوسری طرف وہاں کے عوام کے لئے تعمیر وترقی، صحت اور تعلیم کے علاوہ پاک فوج میں ملازمت کے لئے بھرپور کوششیں کررہی ہے۔ جو نظر بھی آتی ہیں۔ حکومت کوبھی چاہئےکہ بلوچستان کی ترقی وخوشحالی پر فوری اور خصوصی توجہ دے۔ اور ایسے اقدامات کرے جو نظر بھی آئیں اور وہاں کے عوام کا احساسِ محرومی بھی جاتا رہے۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔