Geo News
Geo News

Time 17 مئی ، 2023
دنیا

فوٹوگرافرز کی جانب سے گاڑی کا تعاقب، ہیری اور میگھن خوفناک حادثے سے بال بال بچے

فوٹو گرافروں سے پیچھا چھڑانے کیلئے تیز رفتاری کے باعث کئی مقامات پر ان کی گاڑی دوسری گاڑیوں اور پیادل افراد سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی: ترجمان — فوٹو: فائل
فوٹو گرافروں سے پیچھا چھڑانے کیلئے تیز رفتاری کے باعث کئی مقامات پر ان کی گاڑی دوسری گاڑیوں اور پیادل افراد سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی: ترجمان — فوٹو: فائل

برطانوی شہزادے ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن ایوارڈ تقریب سے واپسی پر فوٹوگرافروں کی گاڑیوں کے لگاتار تعاقب کرنے کے دوران خوفناک حادثے سے بال بال بچ گئے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ نیویارک میں ایک ایوارڈ تقریب میں شرکت کے بعد شہزادہ ہیری، میگھن مارکل اور ان کی والدہ جیسے ہی گاڑی میں سوار ہوکر نکلے تو فوٹوگرافروں کی گاڑیوں نے ان کا تعاقب شروع کردیا۔

ترجمان کے مطابق فوٹوگرافروں کی جانب سے لگاتار دو گھنٹے تک ان کے تعاقب کا سلسلہ جاری رہا، فوٹو گرافروں سے پیچھا چھڑانے کیلئے تیز رفتاری کے باعث کئی مقامات پر ان کی گاڑی دوسری گاڑیوں اور پیادل افراد سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی۔

ترجمان کے مطابق تعاقب کرنے والی گاڑیوں کے ڈرائیورز کئی مقامات پر سگنل توڑ نے، فٹ پاتھوں پر گاڑیاں چڑھانے اور رکاوٹوں کو توڑنے کے ساتھ غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے تصاویر بھی بناتے رہے۔

1997 میں شہزادہ ہیری کی والدہ لیڈی ڈیانا بھی فوٹوگرافروں کے تعاقب کے باعث پیش آنے والے ایک کار حادثے میں جاں بحق ہو گئیں تھیں— فوٹو: فائل
1997 میں شہزادہ ہیری کی والدہ لیڈی ڈیانا بھی فوٹوگرافروں کے تعاقب کے باعث پیش آنے والے ایک کار حادثے میں جاں بحق ہو گئیں تھیں— فوٹو: فائل

نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ نے اپنے ایک بیان میں واقعے کے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فوٹوگرافروں کی درجنوں گاڑیوں نے ہیری اور میگھن کی گاڑی کا پیچھا کیا تھا، واقعے میں کوئی زخمی ہوا نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 1997 میں شہزادہ ہیری کی والدہ لیڈی ڈیانا بھی فوٹوگرافروں کے تعاقب کے باعث پیش آنے والے ایک کار حادثے میں جاں بحق ہو گئیں تھیں۔

ڈاکیومینٹری فلم’ڈیانا، سیون ڈیز‘ کیلئے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں شہزادہ ہیری نے فوٹوگرافروں کو کتوں کا جھنڈ قرار دیا تھا جو لگاتار ان کی والدہ کا تعاقب کر تے رہے تھے۔

اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ ہر مرتبہ جب بھی وہ گھر سے نکلتی تھیں، باہر کتوں کا جھنڈ ان کا منتظر ہوتا تھا، ان کا تعاقب کیا جاتا تھا، انہیں ہراساں کیا جاتا تھا، ان کا نام پکار پکار کر ایک ری ایکشن لینے کی کوشش کی جاتی تھی تاکہ انہیں ان کی ایک تصویر مل جائے۔