بلاگ

’’چیف صاحب اور اللّٰہ کی غیبی مدد‘‘

شکریہ چیف صاحب! آپ نے پاکستان بچا لیا، سازش ناکام بنا دی۔حضرت انسان زمین پر اپنی اسکیم کاجال بچھانے میں تندہی سے مستعد جبکہ اللّٰہ تعالیٰ عرش پر اسی انسان کیلئے اپنی تدبیرکر تا ہے ،’’کُن فیکون ‘‘اور اللّٰہ کی تدبیر نافذ العمل ہو جاتی ہے۔ پچھلے 8\9 ماہ کے واقعات کا اجمالی جائزہ لیں۔ 

جنرل عاصم منیر کا فقط قصور اتنا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کے وقت سینئر ترین تھے، اَن گنت قوتیں اُنکی تعیناتی رکوانے میں جُت گئیں۔ واقعات کا ایک تسلسل ، اہتمام ملحوظ خاطر رکھا گیا کہ27 نومبر کو ریٹائر ہو جائیں تاکہ دوڑ سے باہر رہیں۔ 27 نومبرریٹائرمنٹ کے پیچھے بھی ایک کہانی اور سازش کار فرما یہاں اُسکی تفصیل غیر ضروری ہے۔عمران خان کی اقتدار سے علیحدگی اور نئی حکومت کے قیام کے پیچھے بھی میجک تاریخ 29 نومبر 2022 کا عمل دخل تھا۔ چشم تصور میں جنرل باجوہ نے عمران خان کی رُخصتی کے ساتھ ہی نئی نویلی اتحادی حکومت کو بھی گھر بھجوانے کا پروگرام بنا رکھاتھا۔ زبان زدِ عام کہ، 29 مئی 2022کو شہباز شریف کی الوداعی تقریر تیار تھی ۔ سب کچھ نواز شریف صاحب کی زیر نگرانی لندن میں طے ہو گیا۔ اللّٰہ تعالیٰ کی تدبیرنے جنرل باجوہ کی تدبیر پر غالب رہنا تھا۔

مہینوں پہلے اپنے جیوٹی وی پروگرام میں کہا،’’جنرل باجوہ پلان کیمطابق عمران خان کی اقتدار سے علیحدگی طے،تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگی اورنئی اتحادی حکومت وجود میں آئے گی‘‘۔جنرل باجوہ کی دوعملی نے مجبور رکھا کہ جب تک عمران خان کا خاتمہ بالخیر نہ ہو جائے، اُس پر یہ تاثر قائم رہے کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہے۔ چنانچہ چوہدری پرویز الٰہی اور کئی دیگر سیاستدانوں ، عدالتوں کو عمران خان کا گرویدہ بنائے رکھا ۔ دوسری طرف ادارے کے اندر بھی پہلی دفعہ خطرناک کھیل کھیلا گیا۔ جنرل فیض حمید کے ذریعے ادارے کی مخصوص سپورٹ عمران خان کو جاری رکھی گئی۔

 جنرل باجوہ کا فلسفہ، عمران خان متذبذب اور توانارہیں تاکہ عمران خان کا دباؤ استعمال کر کے اتحادی حکومت کو گھر بھیجا جا سکے ،برخاست بھی نہ ہوں تاکہ توسیع مدت ملازمت میں آسانی رہے۔ یعنی نگران حکومت مل جائے تو توسیع مدت ملازمت یااپنی مرضی کا آرمی چیف یا کم ازکم جنرل عاصم منیر کا راستہ روکا جاسکتا تھا۔ ایک جگہ پر بھی بتادیں کہ جنرل عاصم منیر کا کوئی قصورہو؟ اُس کے خلاف گھناؤنی مہم زور و شور سے جاری ہو گئی۔

آنے والے دنوں میں وطن پر ٹوٹنے والی قیامت وجود میں آ چکی تھی۔ عمران خان نے اپنے خطرناک ہونے کا عندیہ دیا تھا، وہ خطرناک بننے کو تھا۔ جنرل باجوہ نے عمران خان کو UNDERESTIMATE کیا۔ اُس کی دو صلاحیتیں، ابلاغ عامہ کے استعمال پر غیر معمولی قدرت اور لڑنا مرنا، جارحانہ اندازِ سیاست میں مہارت اُس کی سیاست کو چار چاند لگانے کیلئے کافی تھا۔ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ان دو مدوں میں عمران خان کا مقابلہ ضرور کرتی رہی، عمران خان کے ہاتھوں رُسوا ہوئی۔ پلک جھپکتے عمران خان وطنی سیاسی منظر نامہ پر چھا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ کی بے توقیری اور اُسکو ُرسوا رکھنے میں زمین آسمان کے قلابے ملاڈالے۔ پوری دنیا میں پاکستانی فوج کے وقار کو دھچکا لگا ۔صدافسوس، جنرل باجوہ کو توسیع ملازمت نے ایسا اندھا رکھا ، احساس ہوا نہ ترس آیا کہ ادارہ گھائل ہو رہا ہے۔

اِدھر ستمگرستمبر کا مہینہ شروع ہوا اُدھر جنرل عاصم منیر کیخلاف تحریک انصاف سوشل میڈیاکی انتہائی غلیظ مہم زوروں پر پہنچ گئی۔تب ہی میرا وجدان کہتا تھاکہ اللّٰہ تعالیٰ نے بڑی پوزیشن کے لئےجنرل عاصم منیرکو چُن لیا ہے۔ اگر اللّٰہ نے اس مملکت کو کچھ اور سانسیں دینی ہیں تو جنرل باجوہ پلان ناکام ہوکر رہے گا۔ جیو پر اور وی لاگز میں تیقن کیساتھ کہتا رہا،’’اگلے آرمی چیف جنرل عاصم منیر ہی ہونگے۔‘‘

انہی دنوں عمران خان نے جنرل عاصم منیر کی تعیناتی رکوانے کے لئے دباؤ بڑھا دیا۔ لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔ لوگوں سے شمولیت کے لئے قرآن پر حلف لئے گئے کہ لاکھوں لوگوں کے ساتھ راولپنڈی پر حملہ آور ہونا تھا۔ادارے کے اندر ہی سے ہلا شیری،تقاریر میں میجر جنرل فیصل نصیر اور کئی دوسرے جرنیلوں کی کردار کشی ہوتی رہی۔ بالآخرایک موقع آیا کہ ڈاکٹر عارف علوی کے ساتھ مل کر نوٹیفیکیشن سے کھیلنے کا اعلان کر دیا ۔ دوسری طرف ادارے کے اندر ہی سے جنرل عاصم منیر کا راستہ روکنے کے لئے ادارے کے ڈسپلن کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ لندن میں اکلوتا نوازشریف فیصلہ کر بیٹھا تھا، اس پر دباؤ بڑھانے کے لئے’’فوجیں‘‘لندن پہنچ گئیں ۔ جنرل باجوہ نے اکتوبر میں 12جرنیلوں کو 3اسٹار جنرل بنایاتا کہ ادارے میں اثرو رسوخ برقراربڑھا سکیں۔ سیاسی اور حکومتی سطح پر اکیلا نواز شریف بمقابلہ ’’کل مسلمین‘‘،نوازشریف ڈٹ گیا کہ یہ اللّٰہ کی غیبی مدد ہی تو تھی ۔ یوں جنرل عاصم منیر دنیا کی چوتھی بڑی فوج کے سپہ سالار بن گئے۔ ایسے نا مساعد اور مشکل حالات وجود میںلائے گئے کہ آنے والے ایک سال پھونک پھونک کر قدم اٹھاتے تو بھی ادارے کے ڈسپلن کو بحال کرنا اور سیاسی اثرو رسوخ سے نکالنا ناممکن نہیں تو مشکل ترین کام رہتا۔ تاثر عام کیاگیا کہ چیف صاحب کی ادارے پر گرفت ڈھیلی ہے۔

9 مئی کا اندوہناک واقعہ بظاہر ایک شر ،خیر دے گیا۔ ریاست پر حملے نے پلک جھپکتے جنرل عاصم منیر کی کایا پلٹ دی۔ اللّٰہ تعالیٰ کی غیبی مدد چیف صاحب کو دوبارہ حاصل ہو گئی، ایک واقعہ نے مضبوط بنا دیا۔ قوم کی اکثریت چیف کے پیچھے کھڑی ہو گئی۔ عمران خان کا تخریبی بیانیہ دُبک گیا۔

8 مئی تک عمران خان کا عفریت ناقابل تسخیر بن چُکا تھا، سارا کریڈٹ جنرل باجوہ کو دینا ہوگا۔ 9\10 مئی کو جب ریاست پر حملہ ہوا تو یوں لگا کہ مملکت ڈھیر ہو چکی ہے۔ واقعہ کو محض 15دن نہیں ہوئے، جنرل عاصم منیر کے عزمِ صمیم اور بَر وقت حوصلہ افزائی نے دل گرفتہ اور شکستہ دل قوم کو کھڑا کر دیا۔ شدید ردعمل سے عمران خان کی پارٹی زمیں بوس، تتر بتر ہو چکی ہے۔ سیاست غیر یقینی صورتحال سے دوچار، اپنے انجام کو پہنچنے کو ہے۔

25 مئی کو ہم نے’’یوم تکریم شہدا‘‘منایا ہے، قوم کے اندر نیا عزم اور جنون دیکھنے کو ملا۔ جنرل عاصم منیر نئے عزم کیساتھ تاریخ کے مضبوط ترین سپہ سالارکے طور پر اُبھرے ہیں۔ یوں گماں کہ جنرل عاصم منیر نے 11 مئی کو عہدہ سنبھالا ہو۔ جنرل عاصم منیر ! آپکو نئے سرے سے چیف بننا مبارک، پاکستان بچانا مبارک۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔