پالیسی مذاکرات مکمل: پاکستان اور آئی ایم ایف کا شرح سود مزید نہ بڑھانے پر اتفاق

آئی ایم ایف شرط پر بینکوں کے منافع پر 40 فیصد تک ونڈ فال ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فوٹو فائل
آئی ایم ایف شرط پر بینکوں کے منافع پر 40 فیصد تک ونڈ فال ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فوٹو فائل

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پالیسی سطح کے مذاکرات میں شرح سود مزید نہ بڑھانے پر اتفاق کر لیا۔

پاکستان اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان آج مذاکرات کا آخری دن ہے اور ذرائع کا اس حوالے سے بتانا ہے کہ آئی ایم ایف مشن کے ساتھ اقتصادی جائزہ مذاکرات کامیابی کے قریب ہیں۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن اور معاشی ٹیم تمام شعبوں میں مذکرات مکمل کر چکے ہیں، نگران وزیر خزانہ شمشماد اختر نے آئی ایم ایف مشن سے پالیسی سطح کے مذاکرات مکمل کیے، آج آئی ایم ایف مشن اور معاشی ٹیم کا MEMORANDUM OF ECONOMIC AND FINANCIAL POLICIES (ایم ای ایف پی) ڈرافٹ تیار کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ بینکوں کے منافع پر 55 ارب روپے تک کا ونڈ فال ٹیکس لگانے پر اتفاق ہوا ہے، آئی ایم ایف شرط پر بینکوں کے منافع پر 40 فیصد تک ونڈ فال ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق بینکوں کے منافع پر ونڈ فال ٹیکس مالی سال 2021 اور 2022 کیلئے لگایا جائے گا، بینکوں کے منافع پر ونڈ فال ٹیکس لگا کر آئندہ ماہ وصولی کی جائے گی۔

ذرائع وزارت خزانہ کا اس حوالے سے بتانا ہے کہ بینکوں پر ونڈ فال ٹیکس لگانے کیلئے فنانس بل میں ترمیم کی ضرورت نہیں ہے تاہم وفاقی کابینہ کی جانب سے منظوری ضروری ہے۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان شرح سود مزید نہ بڑھانے پر اتفاق ہو گیا ہے، آئی ایم مشن اپنی سفارشات آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کو بھجوائے گا اور آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری کے بعد پاکستان کو 71کروڑ ڈالر کی قسط دسمبر میں ملنے کا امکان ہے۔

مزید خبریں :