Election 2024 Election 2024

ہائیکورٹ، نوازشریف کی نیب ریفرنسز میں سزاؤں کیخلاف اپیلوں پر سماعت 29 نومبر تک ملتوی

معذرت کے ساتھ چارج درست فریم ہوا نہ ہی نیب کو پتہ تھا کہ شواہد کیا ہیں: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے ریمارکس— فوٹو: آن لائن
معذرت کے ساتھ چارج درست فریم ہوا نہ ہی نیب کو پتہ تھا کہ شواہد کیا ہیں: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے ریمارکس— فوٹو: آن لائن

اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی ایون فیلڈ اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنسز میں سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت 29 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

اسلا آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب پر مشتمل بینچ نے نواز شریف کی ایون فیلڈ اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔

ن لیگ کے قئد نوازشریف اپنی اپیلوں کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔

نوازشریف کے وکیل امجدپرویز نےکہاکہ نیب نے تفتیش میں جے آئی ٹی رپورٹ یا گواہوں کے بیانات پر انحصارکیا، تفتیش بھی ضابطے کی کارروائی کو پورا کرنے کے لیے کی، گواہوں کے بیانات کے سوا کوئی ٹھوس شواہد پیش نہ کیے گئے۔

نیب کے تفتیشی افسرنے دوران سماعت جرح کے دوران کہا کہ سپریم کورٹ آرڈرزکی روشنی میں ان کے پاس ریفرنس کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ نیب نے کہیں اپنا مائنڈ استعمال کرتے ہوئے بھی کچھ کیا یا صرف ڈاکیے کا کام کیا؟ امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا نیب نےصرف کال اپ نوٹس بھجوائے، ایون فیلڈ ریفرنس میں18 میں سے6 گواہوں کے بیانات ہوچکے تھے جب نیب نے ضمنی ریفرنس دائرکیا۔ 

جسٹس میاں گل حسن نے استفسار کیاکہ کیاکسی گواہ نے ایساکوئی بیان دیا جس کےبعد نیب نے ضمنی ریفرنس دائرکرنےکا فیصلہ کیا؟

امجد پرویز ایٖڈووکیٹ نے کہاکہ نوازشریف کو مالک اورمریم نوازسمیت دیگربچوں کوبے نامی دارثابت کرنےکا بوجھ پراسیکیوشن پرتھا،ہمارا مؤقف یہی رہا کہ چارج بھی غلط فریم ہوا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ معذرت کے ساتھ چارج درست فریم ہوا نہ ہی نیب کو پتہ تھا کہ شواہد کیا ہیں، ایک عوامی نمائندہ کے اثاثے اگر معلوم آمدن سے زائد ہیں تو بغیر کرپشن کے وہ یہ کیسے بنا سکتا ہے؟ 

اعظم نذیر تارڑ نے کہا سمجھ سے باہر ہے کہ بنیاد ختم ہو گئی تو عمارت کیسے کھڑی رہ گئی؟ اپیلوں پر مزید سماعت 29 نومبر کو ہوگی۔ 

مزید خبریں :