ریٹائرڈ یا مستعفی جج کیخلاف کونسل کو کارروائی سے روکنے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

کوئی جج مستعفی ہو جائے یا ریٹائرڈ ہو جائے تو کونسل کارروائی نہیں کر سکتی، سابق جج اعجازالاحسن اورجسٹس منیب اخترپرمشتمل بینچ کا فیصلہ— فوٹو:فائل
کوئی جج مستعفی ہو جائے یا ریٹائرڈ ہو جائے تو کونسل کارروائی نہیں کر سکتی، سابق جج اعجازالاحسن اورجسٹس منیب اخترپرمشتمل بینچ کا فیصلہ— فوٹو:فائل

سپریم کورٹ میں ریٹائرڈ یا مستعفی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو کارروائی سے روکنے کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی گئی۔

وفاقی حکومت نے عافیہ شہر بانو کیس میں تین رکنی بینچ کا فیصلہ پریکٹس پروسیجر قانون کے تحت سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔

وفاقی حکومت نے عافیہ شہر بانوں ضیا کیس فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی۔

اپیل میں جوڈیشل کونسل اور رجسٹرار سپریم کورٹ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ اصول طے کرے کسی جج کے مستعفی ہونے کے باوجود کونسل کارروائی جاری کر رکھ سکتی ہے۔

 وفاقی حکومت  نے استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ 27 جون 2023 کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔

خیال رہے کہ سابق جج اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے عافیہ شہر بانو ضیا کیس کا فیصلہ دیا تھا اور فیصلے میں قرار دیا گیا تھا کہ کوئی جج مستعفی ہو جائے یا ریٹائرڈ ہو جائے تو کونسل کارروائی نہیں کر سکتی۔


مزید خبریں :