Time 25 فروری ، 2024
دنیا

بچے بھوکے تھے، کھانے کو کچھ نہ تھا گھوڑے کا گوشت کھلادیا: فلسطینی باپ کی دہائی

ہمیں اپنی زندگی کے اس مشکل مرحلے کا اندازہ ہے لیکن 4 اور 5 سال کے بچوں کو بھوکا ننگا رکھنا بہت مشکل ہے : فلسطینی باپ کا اے ایف پی کو انٹرویو/فوٹوبشکریہ غیر ملکی میڈیا
 ہمیں اپنی زندگی کے اس مشکل مرحلے کا اندازہ ہے لیکن 4 اور 5 سال کے بچوں کو بھوکا ننگا رکھنا بہت مشکل ہے : فلسطینی باپ کا اے ایف پی کو انٹرویو/فوٹوبشکریہ غیر ملکی میڈیا

7 اکتوبر سے اب تک غزہ میں جاری اسرائیلی فوج کی انسانیت سوز کارروائیوں میں جہاں 29 ہزار 600 سے زائد فلسطینی شہید اور 70 ہزار کے قریب زخمی ہو چکے ہیں وہیں کئی ہزار بے گھر اور  بے سروسامان فلسطینی قحط زدہ حالات میں اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اسی دوران غزہ کے شمالی علاقے میں جبالیہ کے پناہ گزین کیمپ میں بھوک سے تڑپتے بچوں کا باپ بچوں کی خاطر اپنے گھوڑے ذبح کرنے پر مجبور ہوگیا۔

العربیہ کی ایک رپورٹ کےمطابق ابو جبریل نامی فلسطینی نے غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا 'میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا کہ بھوک سے نڈھال بچوں کو خوراک دے سکوں اس لیے میں نے اپنے گھوڑوں کو ذبح کر دیا تاکہ ہم کچھ اور نہ ملنے کے باعث گھوڑوں کا گوشت کھا کر ہی زندہ رہ سکیں۔

ابو جبریل نے مزید بتایا کہ ہم بڑی عمر کے لوگ تو بھوک اور  پیاس برداشت کر لیتے ہیں کیونکہ ہمیں اپنی زندگی کے اس مشکل مرحلے کا اندازہ ہے لیکن 4 اور  5 سال کے بچوں کو بھوکا پیاسہ رکھنا بہت مشکل ہے، انہیں بھوکا سلانا اور بیدار ہوتے ہی بھوک سے بلکتا دیکھ کر ہماری برداشت جواب دے جاتی ہے۔

مزید خبریں :