Time 28 مارچ ، 2024
صحت و سائنس

ڈیری مصنوعات کا زیادہ استعمال دل کے امراض کا سبب بن سکتا ہے

دودھ سے بنی مصنوعات وٹامنز، کیلشیئم اور وٹامن ڈی کا خزانہ ہوتی ہیں جو جلد کو جوان رکھنے کے ساتھ ساتھ ہڈیوں کو بھی مضبوط بناتی ہیں/ فائل فوٹو
دودھ سے بنی مصنوعات وٹامنز، کیلشیئم اور وٹامن ڈی کا خزانہ ہوتی ہیں جو جلد کو جوان رکھنے کے ساتھ ساتھ ہڈیوں کو بھی مضبوط بناتی ہیں/ فائل فوٹو

دودھ اور اس سے بنی مصنوعات کو صحت کیلئے بہترین مانا جاتا ہے لیکن اس کا زیادہ استعمال دل کے امراض کا سبب بن سکتا ہے۔

دودھ سے بنی مصنوعات وٹامنز، کیلشیئم اور وٹامن ڈی کا خزانہ ہوتی ہیں جو جلد کو جوان رکھنے کے ساتھ ساتھ ہڈیوں کو بھی مضبوط بناتی ہیں۔

تاہم دودھ سمیت دیگر ڈیری مصنوعات مثلاً مکھن، پنیر وغیر کا زیادہ استعمال دل کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے کیونکہ کہ یہ مصنوعات جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو بڑھاتی ہیں اور چکنائی کی وجہ سے خون کی شریانیں تنگ ہوجاتی ہیں جس کے سبب دل کو خاطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔

مکمل چکنائی والی ڈیری مصنوعات

دودھ، کریم، فل فیٹ پنیر اور مکھن میں سیر شدہ چکنائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو کولیسٹرول کی سطح کو بڑھا کر دل کی بیماری کا خطرہ بڑھا سکتی ہے، اس لیے کم چکنائی والے دودھ کا انتخاب کرنا چاہیے۔

میٹھا گاڑھا دودھ

میٹھا گاڑھا دودھ چینی اور کیلوریز سے بھرپور ہوتا ہے جو وزن میں اضافے کا باعث تو بنتا ہی ہے لیکن ساتھ ہی دل کو بیماریوں میں بھی مبتلا کرسکتا ہے۔

آئس کریم

آئس کریم میں چینی، سیر شدہ چکنائی اور کیلوریز زیادہ ہوتی ہیں جس کا انتخاب دل کیلئے بالکل بھی درست نہیں، اس سے بہتر ہے گھر میں پھلوں سے تیار کیا گیا میٹھے کا استعمال کیا جائے جو دل کو طاقت فراہم کرے گا۔

پنیر

 پنیر میں اکثر سوڈیم اور سیر شدہ چکنائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو دل پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔