Time 15 مئی ، 2024
کاروبار

غیریقینی سیاسی صورتحال ملکی معیشت پر منفی اثرات ڈال رہی ہے: اسٹیٹ بینک

آئی ایم ایف کے ساتھ عارضی انتظام (ایس بی اے) نے بیرونی کھاتے پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملی تاہم معیشت کو بدستور ساختی رکاوٹوں کا سامنا ہے: مرکزی بینک/ فائل فوٹو
آئی ایم ایف کے ساتھ عارضی انتظام (ایس بی اے) نے بیرونی کھاتے پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملی تاہم معیشت کو بدستور ساختی رکاوٹوں کا سامنا ہے: مرکزی بینک/ فائل فوٹو

کراچی: اسٹیٹ بینک نے کہا ہےکہ غیریقینی سیاسی صورتحال ملکی معیشت پر منفی اثرات ڈال رہی ہے۔ 

اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2024 کی پہلی ششماہی رپورٹ بعنوان’پاکستانی معیشت کی کیفیت‘ منگل کوجاری کی جو جولائی تا دسمبر مالی سال 2024 کے اعدادوشمار کے تجزیے پر مشتمل ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق حقیقی اقتصادی سرگرمیوں میں گذشتہ سال کے سکڑاؤ کے برعکس معتدل بحال ہوئی جبکہ آئی ایم ایف کے ساتھ عارضی انتظام (ایس بی اے) نے بیرونی کھاتے پر دباؤ کم کرنے میں مدد دی۔

اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ پہلی ششماہی میں ملک کے معاشی حالات بہتر ہوئےہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ عارضی انتظام (ایس بی اے) نے بیرونی کھاتے پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملی تاہم معیشت کو بدستور ساختی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق جو بڑے مسائل درپیش ہیں ان میں محدود بچتیں، طبیعی اور انسانی سرمائے میں پست سرمایہ کاری، پست پیداواریت، جمود کا شکار برآمدات، ٹیکس دہندگان کی کم تعداد اورسرکاری شعبے کے کاروباری اداروں کی نا کارکردگی شامل ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے کہا ہےکہ غیریقینی سیاسی صورتحال ملکی معیشت پر منفی اثرات ڈال رہی ہے، سیاسی اور پالیسی کی غیر یقینی صورتِ حال میں بہتری لاکر اور مزید مالیاتی یکجائی سے قلیل مدت میں مہنگائی کو تیزی سے کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔