پاکستان

جبری گمشدگیوں کے جرم پر سزا صرف سزائے موت ہونی چاہیے: جسٹس محسن اخترکیانی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے کہ جبری گمشدگیوں کے جرم  پر سزا صرف سزائے موت ہونی چاہیے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں آج شاعر فرہاد علی شاہ کی کمشدگی کے کیس کی سماعت ہوئی، عدالتی حکم کے باوجود اسلام آباد پولیس  فرہاد علی شاہ کو آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش نہ کرسکی۔

پولیس حکام نے عدالت کو  بتایا کہ گھر کے باہر  سے اغوا کار لے کر گئے، بڑی گاڑی تھی جو پیچھے سے کھلی تھی،  اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ بات ڈالے والی ہی ہے۔ 

ایس ایس پی آپریشنز  نے عدالت کو بتایا کہ جیو فینسنگ ہوگئی ہے، موقع سے فنگر پرنٹس بھی لیے گئے ہیں اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ میں آپ کو ابھی بتا دوں کہ فنگر پرنٹس ملیں گے ہی نہیں۔ 

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پھر وقت آگیا ہے کہ سیکرٹری دفاع  اور  سیکٹرکمانڈر آئی ایس آئی ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔ 

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ جتنےلوگ غائب ہوتے ہیں اس کا الزام ایک ہی ادارے پر کیوں جاتا ہے؟ نامعلوم افرادکے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ 24 گھنٹے میں سبق یاد کرا  کے بھجوادیتے ہیں، جبری گمشدگیوں کےجرم پر سزا صرف سزائے موت ہونی چاہیے۔