Time 17 جون ، 2024
دنیا

غزہ جنگ جاری رکھنے پر اختلافات، نیتن یاہو نے جنگی کابینہ تحلیل کر دی

غزہ جنگ جاری رکھنے پر اختلافات، نیتن یاہو نے جنگی کابینہ تحلیل کر دی
وزرا کے مستعفی ہونے کے بعد نیتن یاہو پر انتہاپسند جماعتوں کی جانب سے جنگی کابینہ میں نئے ارکان کو شامل کرنے کا دباؤ تھا— فوٹو: فائل

اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے اختلافات بڑھنے پر 6 رکنی جنگی کابینہ تحلیل کردی۔

گزشتہ دنوں مقبوضہ فلسطین کے محصور علاقے غزہ میں جنگ جاری رکھنے پر اختلافات کے بعد جنگی کابینہ میں شامل 2 وزرا مستعفی ہوگئے تھے۔

وزرا کے مستعفی ہونے کے بعد نیتن یاہو پر انتہاپسند جماعتوں کی جانب سے جنگی کابینہ میں نئے ارکان کو شامل کرنے کا دباؤ تھا۔

تاہم آج اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جنگی کابینہ تحلیل کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ بینی گینٹز کے مستعفی ہونے کے بعد جنگی کابینہ کی ضرورت نہیں رہی۔

خیال رہے کہ بینی گینٹز اسرائیلی اپوزیشن رہنما ہیں تاہم 7 اکتوبر کے بعد بنائی جانے والی 6 رکنی جنگی کابینہ کا حصہ تھے۔

استعفے کے بعد مقامی ٹی وی کو انٹرویو میں بینی گینٹز  نے کہا تھا کہ نیتن یاہو جنگ میں ہمیں حقیقی کامیابی کی جانب بڑھنے سے روک رہے ہیں، اسی لیے ہم نے ایمرجنسی کابینہ چھوڑ دی۔

دوسری جانب سابق اسرائیلی سفارتکار الون نے کہا کہ نیتن یاہو کے جنگی کابینہ کے خاتمے کے فیصلے کے بعد غزہ اور لبنان میں اسرائیلی حملے بڑھنے کا امکان ہے۔