Geo News
Geo News

Time 16 اگست ، 2024
پاکستان

اسپیکر کیلئے لگژری گاڑیوں کی خریداری پر پنجاب اسمبلی کےافسران نے چپ سادھ لی

اسپیکر کیلئے لگژری گاڑیوں کی خریداری پر پنجاب اسمبلی کےافسران نے چپ سادھ لی
پنجاب اسمبلی کے سامنے والے حصے کا ایک منظر - ریڈیو پاکستان/فائل

ایک اسپیکر کو 2 لگژری گاڑیاں لینے کا اختیار حاصل ہے، جس میں فیول کے استعمال کی کوئی حدنہیں ہے۔

پنجاب حکومت کے افسران حال ہی میں پنجاب اسمبلی کے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور دیگر عہدیداروں کے دفاتر کے لئے خریدی گئی لگژری گاڑیوں کی معلومات چھپا رہے ہیں۔ اپوزیشن ممبران نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبائی حکومت نے قومی خزانے سے 18 کروڑ روپے مالیت کی 5 لگژری گاڑیوں کی خریداری کی ہے۔

25 جولائی کو پنجاب کے وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے پنجاب اسمبلی کے مختلف افسران کے لیے لگژری گاڑیوں کی خریداری کی تصدیق کی۔ 

مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ ”جو ہماری پنجاب اسمبلی ہے یہ پاکستان کی سب سے بڑی اسمبلی ہے پروونشیل اسمبلیز(صوبائی اسمبلیوں) میں سے، اور اگر آپ باقی اسمبلیز میں دیکھیں تو تمام اسمبلیز کے اسپیکرز جو ہیں، ان کے پاس اس طرح کی لگژری گاڑیاں ہیں، جس طرح کی یہاں پہ ہمارے اسپیکر صاحب کے پاس نہیں تھی ۔“

مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ گاڑیاں غیرملکی معززین اور پنجاب کے دورہ پر آنے والے وفود کی سہولت اور پروٹوکول کے لئے منگوائی گئی ہیں، لیکن انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ واضح نہیں کیا کہ اس مقصد کے لئے کون کون سی اور کتنی مالیت کی گاڑیاں خریدی گئی ہیں۔

اگلے روز، ایک ٹیلی ویژن پریس کانفرنس میں پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان نے ان معلومات کو دہرایا۔ 

ملک محمد احمد خان نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ”مجھے تو کوئی اعتراض نہیں تھا، یہ ان ٹائٹلمنٹ پرووائڈ [مہیا] کی ہوئی تھی۔ 

رولز [ضوابط] کے اندر تھی، in good sense of my کہ میں نے کوئی بڑی جرمن لگژری گاڑی نہیں منگوائی، کہ ملک کے حالات ایسے نہیں ہیں، ایک آف روڈ جیپ آ گئی، کیا آ گیا؟ لیکن تماشا لگا دیا۔“

ملک محمد احمد خان نے اس پریس کانفرنس میں اپنے دفتر کے لئے خریدی گئی گاڑیوں کے ماڈل یا ان کی قیمتوں کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

جیو فیکٹ چیک نے یکم اگست کو اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان سے ان گاڑیوں کی خریداری کے حوالے سے تفصیلات اور دستاویزات کی درخواست کی۔ جس کے جواب میں 5 اگست کو انہوں نے ضروری معلومات فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ لیکن 6، 7، 8، 9، 10 اور 13 اگست کو لگاتار یاد دہانیوں کے باوجود ان کی طرف سےجیو فیکٹ چیک کو مزید کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

جیو فیکٹ چیک نے ملک محمد احمد خان سے اس حالیہ خریداری سے قبل پنجاب اسمبلی کےاسپیکر  کے زیر استعمال سرکاری گاڑیوں کے بارے میں بھی پوچھا، لیکن انہوں نے اس کا بھی کوئی جواب نہیں دیا۔

ان معلومات کے حصول کے لئے جیو فیکٹ چیک نے ڈپٹی اسپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر انہوں نے بھی اس سلسلے میں کسی قسم کا کوئی تعاون نہیں کیا۔

تاہم، اس ہفتے کے آغاز میں اسپیکر پنجاب اسمبلی کے پرسنل سیکریٹری نے ان گاڑیوں کی خریداری سے متعلق قواعد وضوابط کی ایک کاپی جیو فیکٹ چیک کے ساتھ شیئر کی۔

پنجاب سیکرٹریٹ سٹاف کار ریگولیشنز 2024 کے عنوان سے یہ قواعد و ضوابط حال ہی میں 30 مارچ کو وضع کئے گئے تھے۔ ان قواعد و ضوابط کے مطابق لگژری گاڑیوں کی تعریف یہ ہے کہ جن گاڑیوں کے انجن کی کیپیسٹی 1,800 سی سی سے زیادہ ہو اور اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر سمیت مختلف حکام کو یہ گاڑیاں لینے کا اختیار حاصل ہے۔

ان قواعد و ضوابط کے مطابق، Punjab Provincial Assembly Speaker (Salary, Allowances, and Privileges) Act 1975کے مطابق ایک اسپیکر 2 لگژری گاڑیاں لینے کا اختیار رکھتا ہے، جس میں فیول کے استعمال کی کوئی حد نہیں ہے۔ اسی قسم کے اختیارات ڈپٹی اسپیکر کو بھی حاصل ہیں۔

ان قواعد و ضوابط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ گاڑیاں غیرملکی وفود، وی وی آئی پیز، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے مہمانوں کو لے جانے کے لئے استعمال کی جا سکتی ہیں۔

اسپیکر کیلئے لگژری گاڑیوں کی خریداری پر پنجاب اسمبلی کےافسران نے چپ سادھ لی
حال ہی میں بنائے گئے پنجاب سیکرٹریٹ سٹاف کار ریگولیشنز 2024 کے مطابق اہلکاروں کو گاڑیوں کی الاٹمنٹ

تاہم، اپوزیشن ممبر ان علی امتیاز وڑائچ اور احمد مجتبیٰ چوہدری اسمبلی کی فنانس کمیٹی کے اس دن ہونے والے اجلاس میں بھی شریک تھے، جہاں ان گاڑیوں کی خریداری کی منظوری دی گئی تھی، ان دونوں نے جیو فیکٹ چیک سے بات کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کےافسران کے لئے 5 گاڑیاں خریدی گئی ہیں جن میں اسپیکر پنجاب اسمبلی کےدفتر کے لئے ایک ٹویوٹا لینڈ کروزر، جس کی مالیت تقریباً 9 کروڑ روپے ہے۔ اس کے علاوہ ڈپٹی اسپیکر اور سیکرٹری پنجاب اسمبلی کے لئے 2 ٹویوٹا فارچونرز اور2 ویگو ڈالے بھی شامل ہیں۔

دونوں ممبران کا یہ دعویٰ ہے کہ ان گاڑیوں کی خریداری کی کل مالیت 18 کروڑ روپے ہے۔