01 ستمبر ، 2024
کیا کبھی آپ نے دیکھا ہے کہ اغوا ہوا بچہ بازیابی کے بعد اپنے ہی والدین کے پاس جانے اور اغوا کار کو چھوڑنے پر پھوٹ پھوٹ کر رو رہا ہو؟
حال ہی میں ایسا غیر معمولی واقعہ بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر علی گڑھ میں پیش آیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دو سالہ بچہ جسے ایک سال قبل اغوا کیا گیا تھا، اپنے اغوا کار کے اتنا قریب ہو گیا تھا کہ جب جے پور پولیس نے اس ننھے کو بچایا تو ان دونوں کو ہی روتا ہوا دیکھا گیا۔
27 اگست کو پولیس نے طویل تفتیش کے بعد پرتھوی نامی بچے کو علی گڑھ سے 33 سالہ تنوج چاہر سے بچایا۔
سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جب بچے کو اغواکار سے علیحدہ کیا جاتا ہے تو وہ اس کے گلے لگ جاتا ہے، اور ساتھ ہی رونا شروع کردیتا ہے، بڑی مشکل سے بچے کو اغوا کار سے الگ کیا گیا۔
پھر جب بچے کو باہر کھڑے اس کے خاندان اور والدہ کے سپرد کیا جاتا ہے تو بچہ پھوٹ پھوٹ کر روتا ہے اور واپس جانے کا کہتا ہے، اس موقع پر تنوج چاہر کی آنکھوں میں بھی آنسو دیکھے گئے۔
رپورٹ کے مطابق 33 سالہ ملزم چاہر، جو علی گڑھ کے ریزرو پولیس لائنز میں سابق ہیڈ کانسٹیبل اور آگرہ کا رہنے والا ہے، ایک سال سے زیادہ عرصے تک پولیس سے بھاگتا رہا۔ اپنی پولیس ڈیوٹی سے معطل، چاہر نے بچنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے طریقہ کار کے بارے میں اپنے علم کا استعمال کیا۔
وہ پرتھوی کے ساتھ دریائے جمنا کے قریب ایک جھونپڑی میں رہتا تھا، اکثر اپنا بھیس بدلتا رہتا تھا اور موبائل فون استعمال نہیں کرتا تھا۔ یہاں تک کہ اس نے لمبی داڑھی بھی بڑھائی اور اپنی شناخت چھپانے کے لیے ایک سنیاسی کا روپ دھار لیا۔
بعدازاں پولیس نے اسے دھر لیا اور بچے کو بازیاب کروالیا۔