Time 27 فروری ، 2025
بلاگ

مقبول بٹ ناقابل شکست کیوں؟

تہاڑ جیل دہلی کے سابق جیلر سنیل کمار گپتا کی کتاب ’’بلیک وارنٹ‘‘ میں ایسا کیا ہے جو اس کتاب پر بنائی گئی ڈرامہ سیریل میں نہیں ہے؟ یہ ہے وہ سوال جو بہت سے قارئین نے پوچھا ہے۔ اس سوال کا جواب دینا بہت ضروری ہے کیونکہ نیٹ فلیکس پر ’’بلیک وارنٹ‘‘ کے نام سے دکھائی جانے والی ڈرامہ سیریل میں سنیل کمار گپتا کے مقبول بٹ شہید کے بارے میں تاثرات اور مشاہدات غائب ہیں۔ 

مقبول بٹ شہید کو برطانیہ میں ایک بھارتی سفارت کار کے قتل کے الزام میں پھانسی دی گئی گپتا کی نگرانی میں کئی قیدیوں کو پھانسی دی گئی لیکن جس شان اور آن کے ساتھ مقبول بٹ نے پھانسی کے پھندے کو چوما اس پر تہاڑ جیل کا نگران سنیل کمار گپتا بھی دنگ رہ گیا۔ گپتا نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ مقبول بٹ اس کے سامنے فیض احمد فیضؔ کا یہ شعر گنگنایا کرتے تھے؎

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے

یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں

اگر نیٹ فلیکس پر مقبول بٹ کو فیض کا یہ شعر گنگناتے دکھا دیا جاتا تو بھارتی ریاست کی بڑی سبکی ہوتی جس نے عدالتوں میں بیٹھے ججوں کے بازو مروڑ کر بڑی مشکل سے قومی مفاد کے نام پر مقبول بٹ کیلئے پھانسی کا فیصلہ حاصل کیا تھا۔ مقبول بٹ کے آخری لمحات کے متعلق حقائق کو ٹی وی اسکرین سے تو غائب کر دیا گیا لیکن سنیل کمار گپتا کی کتاب میں یہ حقائق آج بھی موجود ہیں۔ آج کے دور میں ٹی وی اور موبائل فون کی اسکرین کو زیادہ اہمیت حاصل ہے لیکن گپتا کی کتاب یہ بتاتی ہے کہ آج بھی کتاب کی اہمیت قائم ہے۔ نام نہاد جمہوری حکومتیں ٹی وی کی اسکرین کو کنٹرول کرسکتی ہیں۔

 سوشل میڈیا پر پابندیاں لگاسکتی ہیں لیکن کتاب میں چھپی سچائیوں کو پابند نہیں کر سکتیں۔ ایسی کتاب پر ایک ملک میں پابندی لگائی جاسکتی ہے لیکن باقی دنیا میں پابندی نہیں لگائی جاسکتی ۔گپتا کی کتاب ’’بلیک وارنٹ‘‘ انٹرنیٹ پر موجود ہے اور اسے دنیا کے کسی بھی ملک میں بیٹھا کوئی بھی قاری ڈائون لوڈ کرکے یہ پڑھ سکتا ہے کہ تہاڑ جیل دہلی کے سابق جیلر سنیل کمار گپتا نے مقبول بٹ کا ذکر ایک دہشت گرد کے طور پر نہیں بلکہ اپنے استاد کے طور پر کیا۔ گپتا اپنی انگریزی بہتر بنانے کیلئے مقبول بٹ صاحب کے ساتھ انگریزی میں بات کرتا تھا۔ گپتا نے مقبول بٹ کو ایک سیاسی قیدی قرار دیا ہے جن کا زیادہ وقت کتابوں کے مطالعے اور عبادت میں گزرتا تھا۔ گپتا نے انہیں ایک مبلغ اسلام کے طور پر دیکھا جو ہر وقت ساتھی قیدیوں کی مدد کرتے رہتے تھے۔ گپتا نے ان کیلئے ’’فرسٹ کلاس انسان‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ گپتا نے لکھا ہے کہ جن لوگوں نے بھارتی سفارت کار مہاترے کو برطانیہ میں قتل کیا ان کا مقبول بٹ کے ساتھ کوئی تعلق ثابت نہ ہوسکا۔ 6 فروری 1984ء کو مہاترے کی لاش ملی اور11 فروری 1984ء کو اندرا گاندھی کی حکومت نے مقبول بٹ کو تہاڑ جیل میں پھانسی کے پھندے پر لٹکا کر انہیں اسی جیل کے اندر دفنا دیا۔ گپتا نے کتاب میں اس پھانسی کے متعلق ’’جوڈیشل مرڈر‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ پھانسی سے ایک دن قبل ایک سکھ مجسٹریٹ نے مقبول بٹ سے پوچھا کہ کیا آپ اپنی وصیت لکھوانا چاہتے ہیں؟ 

بٹ صاحب نے کہا کہ وصیت تو نہیں لیکن میں اپنا آخری پیغام لکھوانا چاہتا ہوں۔ بٹ صاحب نے انگریزی میں اپنا یہ آخری پیغام لکھوایا ’’بہت سے مقبول بٹ آئیں گے اور چلے جائیں گے لیکن کشمیر کی جدوجہد آزادی جاری رہے گی‘‘ گپتا نے لکھا ہے کہ مقبول بٹ نے پھانسی سے قبل نماز ادا کی، چائے پی اور خاموشی سے پھانسی کے تختے کی طرف روانہ ہو گئے۔ وہ سکون کی تصویر نظر آرہے تھے۔ ایک دن ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے کبھی تہاڑ جیل سے فرار کے بارے میں سوچا؟ مقبول بٹ نے جواب میں کہا کہ فرار ہو کر کہاں جاتا؟ کشمیریوں کیلئے پاکستان اور بھارت دونوں جگہ کوئی عزت نہیں۔ یہاں آپ مقبول بٹ صاحب سے اختلاف کر سکتے ہیں کیونکہ پاکستان میں تو کشمیریوں کی تحریک آزادی کی حمایت کرنے والے بہت سے لوگ موجود ہیں۔ 

بٹ صاحب پر لاہور کے شاہی قلعے میں اور مظفر آباد کے ایک ٹارچر سیل میں جو تشدد ہوا اس کی وجہ سے پاکستان کے حکمران طبقے کے بارے میں ان کا لہجہ تلخ ہوگیا تھا۔ پاکستانی عوام کے وہ آخری لمحات تک احسان مند رہے۔ پاکستانی حکمرانوں سے شکوے شکائتوں کی وجہ صرف جنرل ایوب خان اور جنرل یحییٰ خان کی حکومتوں کی طرف سے مقبول بٹ پر کیا جانے والا ٹارچر نہیں تھا۔ جب بٹ صاحب کو پھانسی دی گئی تو وہ پاکستانی پاسپورٹ ہولڈر تھے پاکستان کے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے مقبول بٹ کی پھانسی رکوانے کیلئے کوئی قابل ذکر سفارتی کوشش نہیں کی۔ اِندرا گاندھی کی حکومت نے مقبول بٹ کو پھانسی دینے کے فوراً بعد 1984ء کے موسم بہار سے پہلے پہلے سیاچن کی چوٹیوں پر قبضہ کر لیا لیکن چند ماہ کے بعد 31اکتوبر 1984ء کو اندرا گاندھی کو ان کے دو سکھ محافظوں ستونت سنگھ اور بے انت سنگھ نے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

 گپتا نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ مقبول بٹ کی پھانسی کے بعد تہاڑ جیل میں کچھ عجیب واقعات پیش آئے۔ پھانسی کے کچھ دن بعد سنیل کمارگپتا کا ایک ماتحت چیختا ہوا اس کے پاس آیا اور بتایا کہ سرسر! مقبول بٹ وہاں کھڑا ہے اس نے کُرتے اور پاجامے میں ملبوس مقبول بٹ کو اپنی قبر کے قریب کھڑا دیکھا تھا۔تہاڑ جیل میں تامل ناڈو اسپیشل پولیس فورس تعینات تھی اس پولیس کے اہلکاروں کو بھی اکثر مقبول بٹ صاحب اپنی قبر کے ارد گرد گھومتے نظر آتے تھے۔ ایک اہلکار نے تو شکائت کی کہ بٹ صاحب نے پیچھے سے آکر میری گردن دبوچ لی، یہ اہلکار اکثر مقبول بٹ کو دیکھ کر جیل کا الارم بجا دیتے تھے۔کچھ قیدی ایسے بھی تھے جنہیں مقبول بٹ نے بتایا کہ وہ بہت جلد رہا ہو جائیں گے اور وہ رہا ہو گئے۔یہ وہ واقعات ہیں جو نیٹ فلیکس پر ’’بلیک وارنٹ‘‘ کے نام سے دکھائی جانے والی سیریل سے غائب ہیں۔

ستم ظریفی دیکھئے کہ بھارتی حکومت نے مقبول بٹ کو پھانسی کے بعد بھی تہاڑ جیل میں قید کر رکھا ہے۔ اب اسی جیل میں مقبول بٹ کا ایک پیروکار یاسین ملک بھی قید ہے اور بٹ صاحب کی طرح پھانسی کے پھندے کو چومنے کیلئے تیار ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں مقبول بٹ کی لکھی گئی کتاب ’’سرینگر جیل سے فرار کی کہانی‘‘ اور ان کے خطوط پر مشتمل کتاب’’شعورِ فردا‘‘ پر پابندی ہے۔ پہلے بھی گزارش کی تھی دوبارہ گزارش کر رہا ہوں۔ جو لوگ موت سے نہیں ڈرتے ان سے کوئی بھی ریاست نہیں جیت سکتی۔ مقبول بٹ کشمیر کی تحریک آزادی کی علامت ہے جب تک یہ تحریک زندہ ہے مقبول بٹ زندہ رہے گا۔ پاکستانی ریاست نے مقبول بٹ کی کتابوں پر پابندی لگا کر اپنے ہی وجود اور قانون کی نفی کر رکھی ہے۔ اس پابندی کو ختم کر دیں اور دنیا کو بتا دیں کہ پاکستان اور بھارت میں بہت فرق ہے۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔