Time 04 اپریل ، 2025
پاکستان

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 46 ویں برسی منائی گئی

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 46 ویں برسی منائی گئی
فوٹو: فائل

پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 46 ویں برسی آج منائی گئی۔

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو  کو 1979 میں آج ہی کے دن راولپنڈی میں پھانسی دی گئی تھی۔

 سپریم کورٹ پچھلے سال مارچ میں یہ فیصلہ دے چکی کہ ذوالفقار علی بھٹو کا مقدمے میں ٹرائل منصفانہ نہیں تھا۔

پیپلزپارٹی کےبانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی 46 ویں برسی کے موقع پر آج سندھ بھر میں عام تعطیل رہی۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے گڑھی خدا بخش میں جلسہ بھی کیا گیا جس سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کیا۔

صدر مملکت آصف علی زرداری کا ذوالفقارعلی بھٹوکی برسی پر پیغام

صدر آصف علی زرداری نے سابق وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹوکی برسی پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ  شہید بھٹو ایک عظیم مدبر، جرات مند رہنما اور عوام کے حقیقی نمائندہ تھے ، ان کی خدمات ، جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

 صدر آصف زرداری نے کہا کہ شہیدبھٹو نے پاکستان کو ترقی، خودمختاری اور عوامی فلاح کے راستے پر گامزن کیا ، پہلا متفقہ آئین دیا ، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی ، خارجہ پالیسی کو ایک آزاد اور خودمختار تشخص دیا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی پر ایک نظر

شعلہ بیان اور ہمہ جہت ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ میں پيدا ہوئے انہوں نے کيلی فورنيا اور آکسفورڈ سے قانون کی تعليم حاصل کی، 1963 ميں وہ جنرل ایوب خان کی کابینہ میں وزير خارجہ بنے اور بعد میں سیاسی اختلافات پر حکومت سے الگ ہوگئے۔

بعدازاں ترقی پسند دوستوں کے ساتھ مل کر انہوں نے 30 نومبر 1967 کو پاکستان پيپلز پارٹی کی بنیاد رکھی جو اپنے نظریات کی بدولت ملک کی مقبول ترین جماعت بنی۔

1970 کے الیکشن میں ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی،کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا تاہم انتخابات میں کامیاب ہو کر جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو ملک دولخت ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے وہ سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور پھر 1971 سے 1973 تک پاکستان کے صدر رہے جب کہ 1973 سے 1977 تک وہ منتخب وزيراعظم رہے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو متفقہ آئین دیا، بھارت سے شملہ معاہدہ کر کے پائیدار امن کی بنیاد رکھی اور ہزاروں مربع میل رقبہ اور جنگی قیدیوں کو بھارت سے چھڑایا۔

بھٹو کے دور میں پسے ہوئے طبقات کے حقوق کے لیے کئی اقدامات کیےگئے تاہم مبینہ داخلی اور خارجی سازشوں کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور قتل کے الزام ميں مقدمہ چلا کر 4 اپریل 1979 کو انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ان کی سیاسی فکر کو ان کی بیٹی بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا اور ان کی شہادت کے بعد اب بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا کے سیاسی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔

مزید خبریں :