16 جون ، 2016
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ طورخم بارڈرپرکشیدگی کوجنگ کانام نہ دیاجائے، سرحدی کشیدگی سےمتعلق بات چیت جلد کسی نتیجےپرپہنچ جائےگی،ایران کاکل بھوشن یادوسےمتعلق جواب انکےتعاون کاحصہ ہے۔
ترجمان دفترخارجہ نفیس زکریا نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایاکہ پاک افغان سرحدپر آمد و رفت کو ضابطے میں لانے کیلئے پُرعزم ہے۔ 2250کلومیٹر طویل سرحد پر ایک نہیں چار گیٹ بنائیں جائیں گے ۔ خطے میں جو ممالک امن کے حامی نہیں وہ افغانستان کو بہکا رہے ہیں۔
پاکستان افغانستان کے درمیان کوئی باقاعدہ جنگ نہیں ۔ سرحد وں پر ایسی جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ اس کشیدگی کو جنگ کا نام نہ دیا جائے۔بین الاقوامی بارڈرز پر چھوٹے موٹے مسائل ہوتے رہتے ہیں جو مذاکرات سے حل کیے جاتے ہیں
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات صرف ہمسایہ ملک کے نہیں بلکہ دونوں ممالک تاریخی، مذہبی، ثقافتی تعلقات میں بندھے ہوئے ہیں۔افغان سفیر کی دفتر خارجہ اور جی ایچ کیو میں ہونے والے ملاقاتوں کا واحد مقصد کشیدگی میں کمی اور بات چیت کا آغاز کرنا تھا۔
پاکستان کا مقصد افغانستان میں امن قائم کرنا ہے ،پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل سرحد ہے ،اس بارڈر کی مینجمنٹ انتہائی ضروری ہے۔بارڈر مینجمنٹ ہماری انسداد دہشت گردی کی کوششوں کا حصہ ہے۔
افغان پاک سرحدی کشیدگی کے حوالے سے بات چیت جاری ہے،جلد ہی بات چیت کسی نتیجے پر پہنچے گی، افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے اورہماری افغانستان سے وابستگی ہے افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کی توسیع کے حوالے سے عالمی برادری کو قابل احترام اقدامات کرنے چاہئیں تا کہ ان کی گھروں کو واپسی یقینی بنایا جا سکے۔