19 جولائی ، 2016
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نواز شریف کے خلاف عمران خان کی حمایت کرتا ہوں لیکن عمران خان کے غیرآئینی بیان کی مخالفت کرتا ہوں۔
بلاول بھٹو نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزید کہا کہ وہ عمران خان کی اس بات سے متفق ہیں کہ ن لیگ جمہوریت کے لیے خطرہ ہے، لیکن عوامی ردعمل کے لیے عمران خان کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بغاوت کی صورت میں عمران وہی کریں جو انہوں نے 2014ء میں کیا، لیکن ہم آمروں سے لڑیں گے، 1986 ءکی طرح، اسی طرح سڑکوں پر ہوں گے جب بی بی پاکستان آئی تھیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے الیکشن میں کوئی وجہ نہیں کہ عوام (ن)لیگ کو ووٹ دیں، آزاد کشمیر کے الیکشن میں ن لیگ کے پاس دھاندلی کے سوا کوئی چارہ نہیں،آزاد کشمیر کے الیکشن میں دھاندلی اورخون خرابہ ہوا تو وزیراعظم 2014 ءکا دھرنا بھول جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر پر ایک بیان جاری کرکے آپ کیا کررہے ہیں، کشمیر پر موجودہ حکومت کی کوئی خارجہ پالیسی نہیں ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی پر کام کرنے کا وقت آگیا ہے، کشمیر میں لوگوں نے جانیں قربان کی ہیں،عالمی برادری کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ صرف کاروبار کا سوچتے ہیں عوام کا نہیں،آزادیٔـ کشمیر آپ کی ترجیح ہے تو آپ نے اس کے لیے کیا کیا؟ وزیر خزانہ مارکیٹنگ بھی کرتے ہیں، کہتے ہیں دال مہنگی ہے تو مرغی کھاؤ۔