02 اگست ، 2017
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کا اجلاس ہوا جس میں عائشہ گلا لئی کے الزامات پر گفتگو کی گئی۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ان کے حق میں مظاہرہ کرنے والی تحریک انصاف کی خواتین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی خواتین نے ن لیگ کا مکروہ چہرہ بے نقاب کردیا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ن لیگ سیاسی، اخلاقی اور قانونی طور پر منہدم ہوگئی ہے، الزامات کی سیاست کرنا ان کا وتیرہ ہے، ن لیگ نے ماضی میں بے نظیر بھٹو اور مجھ پر ایسے الزامات لگائے ہیں، مستقبل میں بھی کردار کشی کے ایسے حملے ناکام ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن ضمیروں کی سوداگر ہے، اربوں ڈالر ضبط ہونے کے ڈر سے کسی بھی حد تک گر سکتی ہے، ن لیگ مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں عمران خان کے خلاف گلالئی کے الزامات کو بے ہودگی اور شرانگیزی کی ایک کوشش قرار دیا گیا۔
پی ٹی آئی اعلامیے کے مطابق اجلاس میں نیب کی جانب سے شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز پر کارروائی میں طوالت پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا۔
اجلاس میں قانونی ٹیم نے چیئرمین تحریک انصاف اور قائدین کو مقدمات کے مستقبل پر بریفنگ دی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ شریف برادران نے ماضی میں نصرت بھٹو سے بینظیر بھٹو تک ہر سیاسی مخالف کے خلاف بیہودگی کا سہارا لیا، عدالت کے اندر اور باہر بے آبرو ہونے کے بعد شریفوں نے گھٹیا پن کا سہارا لیا۔
پی ٹی آئی کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں کہا گیا کہ ملک بھر میں خواتین کے مظاہرے عمران سے قوم کی بہنوں، بیٹیوں کی عقیدت کا اظہار ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف جھوٹےمقدمات میں ناکامی اس بےہودگی کی بڑی وجہ ہے۔
اجلاس میں نو منتخب وزیر اعظم شاہد خاقان کے قومی اسمبلی میں پہلے خطاب کے مندرجات کا تجزیہ کرتے ہوئے ن لیگ کی سیاسی حکمت عملی اور شریف خاندان کےمستقبل پر بھی بات چیت کی گئی۔
پی ٹی آئی اعلامے کے مطابق اجلاس میں ڈمی وزیراعظم کی حلف برداری کےبعدنواز شریف سےملاقات کےقانونی، آئینی اور سیاسی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں کہا گیا کہ نااہل قرار دیے گئے شخص کا حکومت سازی میں کردار آئین سے انحراف کی شرمناک کوشش ہے۔
پی ٹی آئی کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں حکومت سازی، کابینہ کی تشکیل میں نواز شریف کے کردار پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی اس معاملے پر خاموشی پر اظہار تشویش کیا گیا۔