30 دسمبر ، 2017
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ رواں برس اکتوبر میں کینیڈین امریکن خاندان کی بازیابی کے دوران ایک اغواکار کو بھی گرفتار کیا گیا تھا، جس کا تعلق حقانی نیٹ ورک سےہے۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نےکینیڈین امریکن خاندان کی بازیابی کے دوران گرفتار اغواکار تک رسائی مانگی تھی لیکن پاکستان نے منع کردیا۔
رپورٹ کے مطابق سربراہ امریکی سنٹرل کمانڈ نے گرفتار شخص کو انتہائی اہم قرار دیا ہے، جو ایک اور مغوی امریکی کے بارے میں معلومات دے سکتا ہے۔
امریکی اخبار نے اسلام آباد کی جانب سے رسائی نہ دینے کو پاکستان اور امریکا کے درمیان اختلافات کی ایک وجہ قرار دیا اور لکھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے پہلے سے التوا کا شکار پاکستان کی 255 ملین ڈالر امداد روکنے پر غور شروع کردیا ہے۔
یاد رہے کہ 5 برس سے یرغمال امریکی خاتون کیٹلان کولمین اور ان کے کینیڈین شوہر جوشوابوائل کو بچوں سمیت رواں برس اکتوبر میں پاک فوج نے بازیاب کرایا تھا۔
غیر ملکیوں کو دہشت گردوں نے 2012 میں افغانستان سےاغواء کیا تھا اور انہیں وہیں رکھا، بعدازاں امریکی خفیہ اداروں نے 11 اکتوبر2017 کو ان کی خیبر ایجنسی کے راستے پاکستان منتقلی کی معلومات دیں، جس پر پاک فوج نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں بازیاب کروایا تھا۔
اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک فوج کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ پانچوں غیر ملکیوں کی بازیابی پاک-امریکا تعلقات میں مثبت لمحہ ہے۔