Geo News
Geo News

Time 12 اگست ، 2021
کھیل

جاپانی کھلاڑی کا گولڈ میڈل چبانے والے میئر مشکل میں پڑ گئے

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے میئر تاکاشی کے اس عمل کو کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے اور ایتھلیٹ کا احترام نہ کرنے پر غیر مہذب قرار دیا جارہا ہے— فوٹو: رائٹرز
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے میئر تاکاشی کے اس عمل کو کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے اور ایتھلیٹ کا احترام نہ کرنے پر غیر مہذب قرار دیا جارہا ہے— فوٹو: رائٹرز

ہر اولمپک گیمز میں بطور رسم تقریباً تمام کھیلوں کے فتحیاب کھلاڑی خوشی میں اپنے جیتے گئے میڈلز کو دانتوں سے پکڑ کر تصاویر بنواتے ہیں۔

لیکن اس حوالے سے کچھ عجیب واقعہ ٹوکیو اولمپکس کے بعد جاپان کے شہر ناگویا  میں  جاری ایک  تقریب میں پیش آیا جہاں کے میئر تاکاشی کاوامورا  کو  سافٹ بال ایونٹ میں گولڈ میڈل جیتنے والی جاپانی ٹیم کی رکن میو گوتو کے گولڈ میڈل کو  دانتوں سے چباتے دیکھا گیا۔

 سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے میئر تاکاشی کے اس عمل کو کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے اور ایتھلیٹ کا احترام نہ کرنے  پر غیر مہذب قرار دیا  جارہا ہے۔

اس معاملے پر جاپان کے ایک ایتھلیٹ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایونٹ میں تمام فتحیاب کھلاڑی کورونا وائرس کے پیش نظر انفیکشن کی روک تھام کے اقدامات کرتے ہوئے خود میڈل پہن رہے تھے یا اپنے ساتھیوں کو پہنا رہے تھے اس کے باوجود میئر نے یہ حرکت کی۔

میئر تاکاشی نے  اپنے عمل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتہائی نامناسب رویہ اختیار کیا جس پر وہ معذرت خواہ ہیں اور بھول گئے تھے کہ وہ میئر جیسے اہم عہدے پر فائز ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ایتھلیٹ کے لیے نئے میڈل کے بندوبست کا خرچہ اٹھانے کے لیے بھی تیار ہیں۔

اس حوالے سے ٹوکیو اولمپکس 2020 کی انتظامیہ کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) اور میو گوتو کے درمیان متبادل میڈل پر اتفاق ہوگیا ہے جس کے تمام اخراجات آئی او سی برداشت کرے گی۔

واضح رہے کہ ٹوکیو اولمپکس کے ویمنز سافٹ بال ایونٹ میں جاپان نے فائنل میں امریکا کو شکست دے کر گولڈ میڈل جیتا تھا اور جاپان کے ناگویا شہر سے تعلق رکھنے والی میو گوتو بھی اس ٹیم کا حصہ تھیں۔