10 اپریل ، 2015
کراچی.........انیس سو تہتر کا آئین 42 سال سے نافذ ہے ، تاہم اس عرصے میں یہ3بار معطل کیا گیا اور 22 ترامیم ہو چکیں۔سابق صدر اور وزیر اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کو اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے پاکستان کو یہ پہلا مستقل آئین دیا۔ اپریل انیس سو تہتر کو منظور کیے گئے آئین کو پاکستان کا متفقہ آئین کہا جاتا ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی اسے ذوالفقار علی بھٹو کا اہم کارنامہ قرار دیتی ہے۔اس وقت تمام سیاسی جماعتیں اس آئین کی حفاظت کے لئے پر عزم ہیں۔سینئر قانون دان اور سیاست دان احمد رضا قصوری کہتے ہیں کہ 1973 کا آئین متفقہ ہونے کا تاثر غلط ہے، اس وقت اہم اپوزیشن رہنماؤں شاہ احمد نورانی، عبدالحئی بلوچ ، مخدوم نور محمد، محمود علی قصوری نے اس آئین کو پاس کرنے کے لیے ووٹ نہیں دیا جب کہ بھٹو نے 7ترامیم کر کے اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ اکثر سیاسی مبصرین متفق ہیں کہ 1973 کا آئین ذوالفقار علی بھٹو کا عظیم کارنامہ تھا اور وفاق کے تحفظ کا ضامن بھی۔سینئر تجزیہ نگار ضیاء الدین کہتے ہیں کہ بھٹو دور کی ترامیم حالات کا تقاضا تھا ، آئینی ترمیم کے تحت صوبائی خود مختاری دینا بھی اہم کارنامہ ہے۔اکثر حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے 1973 کے آئین میں مرضی کی ترامیم کیں تاہم پیپلز پارٹی کی ہی گزشتہ حکومت نے اس آئین کو اصل شکل میں بحال کیا اور اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے وہ تمام اختیارات وزیر اعظم کو واپس منتقل کر دیے جو آئین کے تحت اُسی کے تھے ۔