18 اپریل ، 2015
کراچی.......شفقت حسین کا کیس کیا تھا، اس نے کب اور کہاں جرم کیا، اسے کیا سزا ہوئی اور سزا پر عمل درآمد میں رکاوٹ کیا ہے؟؟ شفقت حسین کیس مئی 2004ءکا ہے۔ کراچی کےعلاقے نیو ٹاؤن تھانے کی حدود میں 10اپریل کو عمیر نامی بچہ گھر سے نکلا تو واپس نہ آیا، والدین نے گمشدگی درج کرائی اور 20اور 21مئی 2004ءکو پولیس نے باقاعدہ ایف آئی آر درج کی۔ شک کی بنیاد پر کی رہائشی عمارت کے چوکیدار شفقت حسین کو پولیس نے حراست میں لیا۔ پولیس تفتیش میں پہلے تو شفقت نے ٹال مٹول سے کام لیا لیکن پھر اعتراف جرم کرلیا۔ اس نے پولیس کو بتایاکہ عمیر کو بہانے سے گھر بلایا لیکن جب بچہ گھبرا گیا اور شورمچانے لگا تو اس نے سر پر ڈنڈا مارکر اسے ہلاک کردیا اور لاش قریبی نالے میں بہادی۔ پولیس نے متعلقہ جگہ سے بچے کی لاش برآمد کرلی۔ اس جرم پر شفقت حسین کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے قتل اور اغوا برائے تاوان کے جرم میں سزائے موت سنادی۔ فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ، سپریم کورٹ میں اپیلیں مسترد ہوئیں جبکہ، اس دوران سزائے موت کے دیگر فیصلوں کے ساتھ شفقت حسین کی سزائے موت پر بھی عمل نہ ہوسکا، لیکن جب گذشتہ دنوں دوبارہ سزائے موت کے فیصلوں پر عمل کا فیصلہ کیا گیا تو شفقت حسین کی سزائے موت کے لیے ابتدائی تاریخ 14جنوری 2015ءطے ہوئی، لیکن مختلف تنظیموں کی طرف سے شور اٹھا کہ جرم کے وقت شفقت بالغ نہیں تھا اور اس کی عمر 14سال تھی اس لیے اسے سزائے موت نہ دی جائے، حقیقت جاننے کے لیے دو بار شفقت کی سزائے موت ملتوی کی گئی۔ آخری بار 19مارچ کو صدر مملکت نے وزارت داخلہ کی سفارش پر شفقت حسین کی سزائے موت پر عمل درآمد ایک ماہ کے لیے ملتوی کرنےکاحکم دیا تھا، یہ ایک ماہ مکمل ہونے کو آیا اورجرم کے وقت شفقت حسین کی عمر سےمتعلق ایف آئی اے کی تحقیقات بھی مکمل ہوچکیں۔