13 مئی ، 2015
اسلام آباد........دہشت گردوں اور ملک دشمنوں نے اس بار پاکستان کی ایسی برادری پر وار کیا ہے جو نہ صرف ہنزہ سے کراچی تک امن و محبت کی پیامبر ہے، بلکہ پاکستان کے طول و عرض میں ترقی، خوشحالی اور استحکام میں بڑا حصہ بھی ڈال رہی ہے۔ برف پوش پہاڑوں، باغات، ندیوں اور جلترنگ چشموں میں گھرے ہنزہ سے لے کر کراچی کے ساحلوں تک امن و برداشت کے علم بردار اسماعیلی برادری کے لوگ نہ صرف پاکستان کے وفادار ہیں بلکہ خوشحالی کے پیامبر بھی ہیں۔ علم سے محبت، امن اور اپنی مدد آپ کے ذریعے ترقی و خوشحالی کا راز اسماعیلی برادری کو اپنے پرنس کریم آغا خان کے ذریعے کچھ اس طرح ملا کہ آج ہنزہ میں شرح تعلیم 90فیصد ہے، جو پاکستان میں سب سے زیادہ ہے، اسماعیلی بچیوں کی تعلیم پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ ملکی معیشت میں بھی اسماعیلی برادری کا کردار انتہائی جاندار ہے۔ اسماعیلی خواتین بھی دکانداری سے ریستوران چلانے، گھریلو صنعتیں چلانے، کھیتی باڑی کرنے سمیت دستکاری میں بھی کمال رکھتی ہیں۔ اسماعیلی برادری کے لوگ نہ صرف بے حد انسان دوست، بلکہ بہترین مہمان نواز بھی ہیں۔ آغا خان فاؤنڈیشن پاکستان میں غربت کے خاتمے، عورتوں کی تعلیم و ترقی اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کے لیے بھی کوشاں ہے۔ ماحولیات، صحت، طرز تعمیر، چھوٹے قرضہ جات کی فراہمی، دیہی ترقی، قدرتی آفات سے بچاؤ،شمالی علاقہ جات میں صاف پانی کی فراہمی، پن بجلی کے چھوٹے منصوبے، اپنی مدد آپ کے تحت آب پاشی کے منصوبے، زرعی ترقی، مقامی پھلوں کے مربع جات، زمین کی بحالی سمیت جنگلات کے بچاؤ اور ان کے فروغ میں بھی اسماعیلی برادری کا کردار انتہائی اہم ہے۔