28 مئی ، 2016
28 مئی 1998، دن تین بجکر 15 منٹ پرپاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بنا اور یوں مادر وطن کا دفاع ناقابل تسخیر ہو گیا، دشمنوں کے ناپاک عزائم خاک میں مل گئے۔
سفر کا آغاز کٹھن تھا تو دھماکوں کے بعد عالمی پابندیوں کے باوجود مضبوط دفاعی نظام کا حصول بھی مشکل۔ اس سفر پر پاکستان آگے بڑھتا رہا۔یوم تکبیر، ملکی تاریخ کا وہ سنہرا دن جب 1998 میں بھارتی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرکے ملکی دفاع ناقابل تسخیر بنا دیا، یہ سارا سفر آساں نہ تھا۔
دنیاکےنقشے سے پاکستان کانام مٹانے کی سازش کے آگے کبھی ذوالفقارعلی بھٹوآگے بڑھے ،کبھی جنرل ضیا اور اسحاق خان ، پھر بے نظیر بھٹو نے قدم بڑھائے، لیکن نواز شریف سب پر بازی لے گئے جب انھوں نے عالمی دباؤ کے باوجود قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کیا ۔
ایٹمی دھماکوں کی بدولت پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہوا مگر صرف دھماکے ہی کافی نہیں تھے، اس صلاحیت کے ساتھ مکمل ڈلیوری سسٹم کی بھی ضرورت تھی، 1998 میں غوری میزائل سے ایک نیا سفر شروع ہوا، غزنوی، ابدالی، شاہین اور حتف میزائلز کی ایک وسیع رینج موجود ہے، کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین کے طور پر نصر میزائل کے ساتھ خطے میں توازن برقرار رکھا ہے ۔
بہترین کمانڈ اینڈ کنٹرول میکنزم، قابل اعتماد، قابل بقا فورس، ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے کاحامل میزائل سسٹم، اور ایٹمی تنصیبات کی حفاظت کا عالمی معیار ، ماہرین کہتے ہیں ان چاروں شعبوں میں پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر خود کو منوا چکا ہے ۔
ایٹمی قوت بننے کے بعد اب پاکستان کی کوشش ہے کہ اسے نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کی رکنیت مل جائے تاکہ توانائی بحران کے خاتمے سمیت ملکی ترقی کا پہیہ تیز چل سکے۔