دنیا
07 جولائی ، 2016

ڈھاکا حملے ،ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف بھارت میں تحقیقات کا آغاز

ڈھاکا حملے ،ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف بھارت میں تحقیقات کا آغاز

 


بھارت کے سیکورٹی اداروں نے ڈھاکا دہشتگرد حملے کے بعد بھارتی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف تحقیقات شروع کردیں۔


بنگلادیشی اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ دو دہشتگرد ڈاکٹر ذاکرنائیک سے متاثر تھے لیکن اسلامک ریسرچ اسکالر نے تمام الزامات مستردکرتے ہوئے کہا ہے داعش اسلام دشمنوں کی سازش ہے ،اسے اینٹی اسلامک اسٹیٹ کہا جائے۔


بھارت کے معروف اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کو انتہاپسندی پھیلانے کے الزامات کا ایک بار پھر سامنا ہے۔ ان الزامات کو ہوا اُس وقت ملی جب تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ ڈھاکا حملے میں ملوث دہشتگرد روحان امتیاز اور نبراس السلام ڈاکٹر ذاکر نائیک سے متاثر تھے۔


بنگلادیشی میڈیا نے یہ خبر بھی دی کہ وزیراعظم حسینہ واجد کی عوامی لیگ کے رہنما کے بیٹے روحان امتیاز نے انٹرنیٹ پر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی مبینہ ویڈیو شیئر کی جس میں انتہاپسندی کا پیغام تھا۔ بھارتی حکام نے تصدیق کی ہے کہ سیکورٹی ادارے ڈاکٹر ذاکر نائیک پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کررہے ہیں۔


بنگلادیشی میڈیا کی اس خبر کو لے کر بھارتی ٹی وی چینلز نے بھی سوالات اٹھائےلیکن ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے بیانات اور تقریریں توڑ مروڑ کر پیش کی گئیں۔


داعش کو اینٹی اسلامک اسٹیٹ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا کہ داعش درحقیقت مسلمانوں کے خلاف دشمنوں کی سازش ہے۔


ڈاکٹر ذاکر نائیک ان دنوں سعودی عرب میں ہیں اور گیارہ جولائی کو بھارت واپس جائیں گے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق وطن واپسی پر بھارتی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی اور دیگر ادارے ڈاکٹر ذاکر نائیک سے پوچھ گچھ کرسکتے ہیں۔

مزید خبریں :