09 جولائی ، 2017
حالیہ تحقیق کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ کتاب میں تصاویر کی بھرمار کے مقابلے میں ہر صفحے پر ایک واضح تصویر سے بچوں کے سیکھنے کا عمل دو گنا ہوجاتا ہے۔
انگلینڈ کی یونیورسٹی آف سسیکس کی ماہر نفسیات زو فلیک کہتی ہیں کہ بہت چھوٹے بچوں کی کتابوں میں زیادہ تصاویر ان کی توجہ بانٹ دیتی ہیں تاہم اگر ایک صفحے پر ایک ہی واضح تصویر ہو تو اس سے بچے کے پڑھنے، سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت دو گنا ہوجاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چار سال تک کے بچوں کے لیے کتابوں میں ایک سے زائد تصاویر سے ان کی توجہ کمزور ہوتی ہے اور اس طرح انہیں پڑھنے میں بھی دقت پیش آتی ہے۔
ماہرین کے مطابق زیادہ تصاویر سے بچے لکھے ہوئے لفظ پڑھنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں اور نہ ہی بچے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ انہیں تصویر کو کس جانب دیکھنا ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ کتابوں میں تصاویر کی بھرمار بچوں کے پڑھنے میں حائل ہوتی ہے اس لئے کتابوں کے ایک صفحہ پر ایک واضح تصویر ہونی چاہیئے۔