Can't connect right now! retry

پاکستان
05 اکتوبر ، 2017

سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف کیخلاف ناکافی ثبوت پر نیب انکوائری ختم

سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما راجا پرویز اشرف کے خلاف نیب ریفرنس ختم کردیا گیا ہے۔

نیب اعلامیے کے مطابق راجا پرویز اشرف کے خلاف بد عنوانی اور کرپشن کا کوئی ٹھوس ثبوت /مواد نہیں ملا جب کہ نیب ایگزیکٹو بورڈ نے فیصلے کی منظوری دے دی۔ 

راجا پرویز اشرف کے ساتھ سندھ کے وزیر صنعت محمد علی ملکانی، شیرازی برادران سابق ایم این اے شفقت شاہ شیرازی اور سابق ایم پی اے اعجاز شیرازی ، فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز فاؤنڈیشن انتظامیہ اور صوبائی ہائی وے ڈیپارٹمنٹ جہلم کے خلاف بھی بدعنوانی کے الزامات واپس لیتے ہوئے نیب انکوائریز بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

راجا پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور کیس میں تحقیقات ہورہی تھی جو گزشتہ تین سال سے جاری تھی۔ 

نیب ایگزیکٹو بورڈ نکے بدھ کے روز چوہدری قمر زمان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سابق چیئرمین متروکہ املاک آصف ہاشمی اور سابق وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی عظمت حیات کے خلاف کرپشن کے سنگین الزامات کے تحت دو ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کرنے کی منظوری دے دی گئی۔

آصف ہاشمی پر الزام ہے کہ انہوں نے 777 غیر قانونی تقرریاں کیں اور قومی خزانے کو 77کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا جبکہ سابق وائس چانسلر پر الزام تھا کہ انہوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور اضاخیل میں یونیورسٹی کی زمین کی خریداری میں قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا۔ 

ایگزیکٹو بورڈ نے چار انویسٹی گیشنز کی منظوری دی ۔ چیف ایگزیکٹو آئیسکو پر ٹرسٹ انوسمنٹ بنک میں غیر قانونی سرمایہ کاری کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو 12کروڑ 70لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ 

دوسری انوسٹی گیشن لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسروں اور عملے کے خلاف شروع کی جائے گی، انہوں نے ذیشان بلڈرز کو اراضی الاٹمنٹ میں اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جس سے قومی خزانے کا 30کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ 

تیسری انویسٹی گیشن سٹیٹ بنک اور بنک اسلامی کے بعض افسروں اور ملازمین کے خلاف کی جائے گی ۔ جس پر 20ارب روپے کے رعائتی قرضے جاری کرنے کا الزام ہے۔

 جبکہ چوتھی انویسٹی گیشن وائس چانسلر عبدالولی خان یونیورسٹی مردان ڈاکٹر احسان علی کے خلاف کی جائے گی ۔ جن پر یونیورسٹی کے فنڈز کی خوردبرد کرکے قومی خزانے کو 41کروڑ روپے نقصان پہنچانے کا الزام ہے ۔ 

نیب نے سندھ کے ایم پی اے نواب محمد تیمور تالپور کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے ، انڈس موٹر کمپنی حیدرآباد /کراچی کے ڈیلرز کے خلاف لوگوں کو ٹویوٹا گاڑیوں کی بکنگ میں دھوکہ دینے اور لوگوں سے 25کروڑ روپے بٹورنے کے الزامات میں انکوائریز کھولنے کی منظوری دے دی۔

 تیسری انکوائری پنجاب اسپورٹس بورڈ کی طرف سے یوتھ فیسٹول میں فنڈز کی وسیع خورد برد کے الزام پر کی جائے گی ۔

نیب نے کے پی ٹی کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ کے خلاف قومی خزانے کو 12ارب روپے کا نقصان پہنچانے ۔ 

سکھر ڈویژن DAD افسروں اور عملے کے خلاف سرکاری فنڈزمیں غبن سے 2 ارب روپے سے زیادہ کے نقصان پر کارروائی کی منظوری دے دی گئی۔ 

کریک میرین پروجیکٹ کراچی میں 3 ارب روپے سے زیادہ کی بد عنوانیوں کی انکوائری بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ چیئرمین نیب چوہدری قمر زمان نے واضح کیا کہ نیب بدعنوان افراد کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا رہےگا۔

نوٹ: یہ خبر 5 اکتوبر کے روزنامہ جنگ میں شائع ہوئی ہے۔


مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM