جنگ گروپ پر بے بنیاد الزامات: عدالت سے غیر حاضر عمران خان 22 مارچ کو پھر طلب


اسلام آباد: جنگ گروپ پر بے بنیاد الزامات کے کیس میں طلب کیے جانے کے باوجود حاضر نہ ہونے پر عدالت نے عمران خان کو ایک بار پھر 22 مارچ کو طلب کرلیا۔

ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد ایسٹ سکندر خان نے جنگ گروپ کی جانب سے عمران خان کے خلاف ایک ارب روپے ہرجانے کے دعوے کی سماعت کی۔

عدالت کی جانب سے طلبی کے نوٹس کے باوجود چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نہ تو ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے اور نہ ہی ان کی جانب سے کوئی وکیل پیش ہوا۔

جنگ گروپ کے وکیل عامر عبداللہ عباسی ایڈووکیٹ نے کہا کہ نوٹس کی تعمیل کے باوجود عمران خان پیش نہیں ہوئے، 3 مارچ کو نوٹس بذریعہ کوریئر بھجوایا جو 5 مارچ کو بنی گالہ میں وصول ہوا۔

درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے عمران خان کو نوٹس بھجوانے کی کوریئر رسید اور کمپیوٹرائزڈ ڈیلوری رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو پہلی سماعت کے موقع پر عمران خان کو آج کے لیے نوٹس جاری ہوا تھا۔

وکیل درخواست گزار  عامر عبداللہ عباسی ایڈووکیٹ کے مطابق یہ ہتک عزت کا عام کیس نہیں بلکہ عزت کے قتل عام کا کیس ہے، جنگ گروپ 1939 سے صحافت کے شعبے میں عوام کا اعتماد حاصل کیے ہوئے ہے۔

ایڈووکیٹ عامر عبداللہ عباسی کا کہنا ہے کہ عمران خان نے اپنے بیانات میں بلیک میلر، فرعون اور گاڈ فادر جیسے الفاظ استعمال کیے جب کہ ان کی جانب سے فارن فنڈنگ کے ذریعے غیرملکی بیانیے کو سپورٹ کرنے اور بھارت اور امریکا کے ساتھ گٹھ جوڑ کا بھی الزام عائد کیا گیا ۔

وکیل نے کہا کہ عمران خان نے 2014 کے بعد سے جنگ گروپ کے خلاف توہین آمیز، جھوٹے اور گمراہ کن الزامات عائد کیے، عدالت سے استدعا ہے کہ عمران خان کو جھوٹے الزامات عائد کرنے پر عوام کے سامنے غیر مشروط معافی مانگنے کا حکم دے۔

وکیل نے استدعا کی کہ عدالت قانون کے مطابق ہتک عزت کے دعوے کا 3 ماہ میں فیصلہ کرے اور عمران خان کو ایک ارب روپے ہرجانے کی رقم ادا کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

عدالت نے جنگ گروپ کے وکیل کے دلائل پر عمران خان کو ایک بار پھر 22 مارچ کی طلب کرلیا اور انیں طلبی کا نوٹس بھی جاری کردیا گیا ہے۔

جب کہ کیس کی مزید سماعت بھی 22 مارچ تک ملتوی کردی گئی ہے۔

مزید خبریں :