پاکستان ریلوے کے نظام کی دلچسپ کہانی

ٹرین کے چلنے سے منزل مقصود تک پہنچنے تک کئی ایسے تصورات ہیں جو ہم بچپن سے سنتے چلے آرہے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

پاکستان ریلوے کو ملکی ٹرانسپورٹ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، یہ محکمہ اپنے اندر عروج و زوال اور پھر استحکام کی تاریخ لیے ٹریک پر چلے جا رہا ہے، ایک اندازے کے مطابق ریل کے ذریعے سالانہ کروڑوں افراد سفر کرتے ہیں اور مسافروں کے ساتھ ساتھ مال برداری کے لیے بھی اس محکمے کی خدمات گراں قدر ہیں۔

یہ محکمہ ملک کے اُن چند بڑے محکموں میں شامل ہے جس کے ملازمین کی تعداد سینکڑوں میں نہیں بلکہ ہزاروں میں ہے اور 75 ہزار سے زائد ملازمین دن رات خدمات انجام دے کر ریل کا پہیہ چلا رہے ہیں، اگر یہ کہا جائے کہ یہ محکمہ 75 ہزار سے زائد خاندانوں کی کفالت کر رہا ہے تو غلط نہ ہوگا۔

کئی فلموں میں بھی ریل یا ریلوے اسٹیشن پر عکس بندی کی گئی لیکن ہر وہ شخص جسے کبھی ٹرین میں سفر کرنے کا اتفاق ہو یا نہ ہو اس کے ذہن میں ٹرین کے چلنے سے منزل مقصود تک پہنچنے تک کئی سوالات جنم لیتے ہیں، کہ آیا ٹرین کا ڈرائیور اسے کس طرح چلا رہا ہوتا ہے، ٹرین کی ایک ٹریک سے دوسرے ٹریک پر منتقلی، ٹرین کے آگے سبز اور سرخ رنگ کے چھوٹے جھنڈے لہرانا، اسٹیشن پر ٹرین کے پہنچنے پر ٹرین کے پہیوں پر ٹارچ کیوں ماری جاتی ہے، وغیرہ۔۔

سٹی اسٹیشن میں قائم کنٹرول آفس: فوٹو/ راقم الحروف

یہ تمام وہ سوالات ہیں جن کا مشاہدہ ہم اکثر سفر کے دوران کرتے ہیں لیکن ہمیں معلوم نہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے، ان تمام سوالات کے جواب جاننے کے لئے ہم نے کراچی کے سٹی اسٹیشن میں قائم کنٹرول روم کا دورہ کیا اور وہاں پر خدمات انجام دینے والے ریلوے کے چند افسران سے ملاقاتیں کیں جو سودمند رہیں، اس سے بہت کچھ جاننے کو ملا اور کچھ ایسی باتوں کا علم ہوا جو کئی لوگوں کے لئے یقیناً نئی ہوں گی۔

بوگیوں میں لگا ہینڈل کھینچنے سے کیا ہوتا ہے؟

فوٹو: راقم الحروف

عام تاثر ہے کہ بوگی کے اندر موجود چین یا ہینڈل کھینچنے سے ٹرین خود رک جاتی ہے لیکن ایسا نہیں ہے، جب کسی بوگی سے چین کھینچی جاتی ہے تو ڈرائیور کے پاس موجود پریشر گیج سے اسے اشارہ ملتا ہے۔

چین کھینچنے سے گاڑی کا پریشر ٹوٹ جاتا ہے اور گاڑی بھاری ہوجاتی ہے جس سے ڈرائیور کو پتا چلتا ہےکہ کسی بوگی سے چین کھینچی گئی ہے۔

بیک وقت 2 سے 3 بوگیوں سے جب چین کھینچی جائے تو ٹرین جام ہوجاتی ہے۔

ڈرائیور کے سگنل دینے کا اشارہ

ٹرین ڈرائیور ہر اسٹیشن یا سگنل سے پاس ہوتے ہوئے ہارن دیتا ہے جو ریل کی اصطلاح میں ’وسل‘ کہلاتا ہے، وسل کے بعد گاڑی کے پیچھے موجود گارڈ دن کے اوقات میں ہرے رنگ کا جھنڈا دکھا کر اس کے سگنل کی تائید کرتا ہے اور رات کے اوقات میں ایک لائٹ دکھاتا ہے۔

لالٹین یا سبز جھنڈا لہرانا

فائل فوٹو

اکثر لوگوں کو تجسس ہوتا ہے کہ رات کے اوقات میں ٹرین کے گزرتے وقت ایک شخص لالٹین لے کر کیوں کھڑا ہوتا ہے یا دن میں سبز رنگ کا جھنڈا کیوں لہرایا جاتا ہے؟

اسٹیشن سے جب گاڑی گزرتی ہے تو لالٹین دکھا کر یا سبز رنگ کا جھنڈا لہرا کر 'پروسیڈ' سگنل دیا جاتا ہے جس کا مطلب ’سب کچھ ٹھیک ہے‘۔

آج بھی بعض اسٹیشنز پر ٹرین کو پروسیڈ سگنل دینے کے لئے رات کے اوقات میں لالٹین کا استعال کیا جاتا ہے۔ 

اس کے علاوہ جب اسٹیشن پر ٹرین رکتی ہے تو ٹارچ لے کر آنے والا عملہ پیٹرولنگ پر مامور ہوتا ہے جو بوگیوں کے نیچے ٹوٹ پھوٹ پر نظر رکھتا ہے۔

ٹرین کے پہیے پر ہتھوڑے مارنے کا مقصد

ٹرین کے اسٹیشن پہنچنے پر ایک اہلکار بوگی کے پہیوں پر ہتھوڑے مار کر وہیل کی آواز چیک کرتا ہے، اگر اصل لوہے کی آواز یعنی 'ٹن ٹن' کی آواز تو وہیل درست سمجھا جاتا ہے لیکن 'ٹھک ٹھک' کی آواز ہو تو فوری طور پر اس ڈبے کی رپورٹ بنائی جاتی ہے۔

اگر کچھ ٹوٹ پھوٹ کا خدشہ ہو تو فوری طور پر رپورٹ بنا کر اسٹیشن ماسٹر کو دی جاتی ہے جس کی بناء پر ٹرین سے اس متاثرہ بوگی کو ہٹا دیا جاتا ہے۔

ٹرین کی ایک پٹری سے دوسری پٹری پر منتقلی

عام طور پر لوگوں کو علم نہیں کہ ریل گاڑی کا پہیہ 4 سے 5 انچ کا ہوتا ہے اس میں ایک خاص قسم کا ابھار ہوتا ہے جو گاڑی کو مڑنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

فوٹو: راقم الحروف

ٹرین کے اس مڑنے کے عمل کو ریلوے کی اصطلاح میں 'وہیل فلینک' کہا جاتا ہے۔

وہیل کا ابھار پن ٹرین کو ایک پٹری سے دوسری پٹری پر منتقل کرتا ہے، اگر وہیل کا یہ ابھار ختم ہوجائے تو ٹرین دوسری پٹری پر منتقل نہیں ہوسکتی۔

انجن اور بوگیوں کی تعداد

ایک مال گاڑی زیادہ سے زیادہ 40 بوگیوں پر مشتمل ہوتی ہے جب کہ مسافر گاڑی میں 19 بوگیاں ہوتی ہیں۔

مسافر ٹرین کی اکانومی کلاس میں 88 مسافر ایک بوگی میں سفر کرسکتے ہیں جب کہ بزنس کلاس میں 54، لوور اے سی میں 74 اور سلیپر میں صرف 16 مسافر سفر کرتے ہیں۔

2 انجنوں کا استعمال

گاڑی کو عام طو پر ایک ہی انجن منزل مقصود تک لے کر جاتا ہے لیکن کوئٹہ واحد ڈویژن ہے جہاں پہاڑی سلسلہ ہونے کی وجہ سے ٹرین میں 2 انجنوں کا استعمال کیا جاتا ہے، ایک انجن ٹرین کو آگے کی طرف سے کھینچتا ہے اور دوسرا انجن ٹرین کی پچھلی طرف سے اسے آگے کی طرف دھکیلنے کا کام کرتا ہے۔

ٹرین کی رفتار کے قواعد

فائل فوٹو

بڑے اسٹیشن پر ٹرین 15 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے داخل ہوتی ہے، کراچی کے کینٹ اسٹیشن سے چلنے والی ٹرین لانڈھی اسٹیشن تک 95 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے۔

لانڈھی اسٹیشن سے حیدرآباد جنکشن تک ٹرین کی رفتار 105 کلو میٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے اور حیدرآباد کے بعد لودھراں تک ٹرین 120 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے۔

ٹرین ڈرائیورں کے انچارج عابد حسین کے مطابق سندھ میں ٹرین کی سست رفتاری سے چلنے کی وجہ پرانے پل ہیں تاہم انجن 120 کلو میٹر فی گھنٹہ اور اس سے بھی زیادہ رفتار سے چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایمرجنسی بریک

فوٹو: راقم الحروف

ٹرین کو روکنے کے لیے کم از کم 2 منٹ کا وقت درکار ہوتا ہے اور ٹرین ایک سے 2 کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے رکتی ہے۔

ٹرین میں 2 طرح کے بریک سسٹم ہوتے ہیں جن میں ایک ’ائیر بریک‘ اور دوسرا ’ویکیوم بریک‘ کہلاتا ہے، ریلوے کی استعداد بڑھانے کے لئے شامل کیے گئے نئے امریکی انجنوں میں ایئر بریک ہی ہے جسے زیادہ اچھا بریک سمجھا جاتا ہے۔

ریلوے نے میل ایکسپریس یعنی بڑے روٹ پر چلنے والی مسافر گاڑیوں کو ائیر بریک پر منتقل کردیا ہے اور اب تقریباً گاڑیاں ائیر بریک پر آچکی ہیں۔

ائیر بریک میں سلنڈر میں ہوا داخل ہوتی ہے اور لیوریج سسٹم سے بریک لگتی ہے جب کہ ویکیوم بریک میں ویکیوم ہوا خارج کرتا ہے۔

ٹرین اسٹاف کی تبدیلی

عام تاثر ہے کہ پہلے اسٹیشن سے چلنے والا ڈرائیور یا اسسٹنٹ ڈرائیور آخری منزل تک ٹرین کو لے کر چلتے رہتے ہیں لیکن ایسا نہیں، ٹرین کا اسٹاف ہر ڈویژن پر تبدیل ہوتا ہے۔

کراچی سے ٹرین پر ڈیوٹی دینے والے ملازمین روہڑی اسٹیشن پر تبدیل ہوتے ہیں، اسی طرح روہڑی کا اسٹاف ملتان اور ملتان سے ٹرین پر چڑھنے والا اسٹاف راولپنڈی اور پھر وہاں سے چلنے والا اسٹاف آخری اسٹیشن پشاور پر تبدیل ہوتا ہے۔

فوٹو: راقم الحروف

ڈرائیورز کی ڈیوٹی کا باقاعدہ ایک روسٹر ہوتا ہے جسے محکمہ ریلوے میں ’ڈرائیورز لنک‘ کہا جاتا ہے، اس لنک میں ڈرائیور کی ڈیوٹی کے اوقات کار موجود ہوتے ہیں۔

ریلوے کی اصطلاح میں ’ہوم شیڈ سے آؤٹ شیڈ‘ تک ڈرائیور 12 گھنٹے آرام کرتے ہیں یعنی ایک ڈرائیور اپنے اسٹیشن سے مقررہ اسٹیشن تک گاڑی لے جانے کے بعد 12 گھنٹے آرام کرتا ہے۔

ڈرائیورز کا تجربہ

فوٹو: راقم الحروف

ٹرین انجن کا ڈرائیور بننے کے لیے وسیع تجربہ درکار ہوتا ہے اور مسافر ٹرین چلانے والا ڈرائیور 20 سے 22 سال مال گاڑی یا چھوٹی ٹرینیں چلانے کے بعد بڑی ٹرینیں چلانے کا اہل ہوتا ہے جن میں شالیمار، قراقرم، بزنس ایکسپریس، ہزارہ ایکسپریس، نائٹ کوچ اور دیگر شامل ہیں۔

ریلوے میں اسسٹنٹ ڈرائیور کے عہدے پر بھرتی کی جاتی ہے جس کے بعد ڈرائیور کو مختلف مراحل سے گزارا جاتا ہے، اسسٹنٹ ڈرائیور ترقی پاکر ڈپٹی ڈرائیور بنتا ہے اس کے بعد وہ ڈرائیور کے عہدے پر فائز ہوتا ہے۔

کراچی ڈویژن میں کل ڈرائیورز کی تعداد 81 ہے اور ایک روز میں لنک پر 25 ڈرائیورز چلانا ہوتے ہیں۔

گاڑیوں کی تعداد

موجود وقت میں کراچی سے روزانہ 12 مال گاڑیاں چلتی ہیں اور مسافر گاڑیوں کی تعداد 17 سے 18 ہے۔

برانچز

ریلوے میں مختلف برانچیں ٹرین کو چلانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں، ان میں ٹریفک برانچ، لوکو برانچ، سگنل برانچ، کریجر ویگن اور انجینئرنگ برانچ شامل ہے۔

ٹریفک برانچ کو ریلوے کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے، ٹریفک برانچ کنٹرول روم میں موجود ہوتی ہے جہاں سے گاڑیوں کو مانیٹر کیا جاتا ہے جس میں گاڑیوں کے اوقات کار اور ان کی مختلف اسٹیشنز سے روانگی کو ترتیب دیا جاتا ہے۔

کراچی کے سٹی اسٹیشن میں قائم کنٹرول روم _فوٹو: راقم الحروف

لوکو برانچ میں ٹرین انجن اور ڈرائیورز آتے ہیں اور یہ برانچ ان کے اوقات کار اور ڈیوٹیز دیکھتی ہے۔

سگنل برانچ کی ذمہ داری سگنل کی ہوتی ہے جو ایک بڑی ذمہ داری ہے کیونکہ ٹرین ڈرائیور سگنل کے اشاروں پر چلتا ہے اور ان سگنلز کو ہی ڈرائیور کی آنکھیں تصور کیا جاتا ہے۔

سٹی ریلوے اسٹیشن کے کنٹرول روم میں عملہ اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے: فوٹو/ راقم الحروف

‘کریجر ویگن برانچ‘ سے مراد مال گاڑیوں کی برانچ ہے، ریلوے میں ویگن مال گاڑی کو کہتے ہیں، یہ برانچ مال گاڑیوں سے متعلق معاملات کو دیکھتی ہے۔

انجینئرنگ برانچ کی ٹریک سے متعلق ذمہ داریاں ہیں اور یہ برانچ کی مرمت وغیرہ کے معاملات دیکھتی ہے، اس کے علاوہ کنٹرول روم میں بیٹھے افراد گراف کے ذریعے ٹرینوں کی آمد اور روانگی کو کنٹرول کرتے ہیں اور یہ انجینئرنگ برانچ سے مسلسل رابطے میں ہوتے ہیں۔

محکمہ ریلوے کا کراچی ڈویژن جس کی حد کراچی سے ٹنڈوآدم تک ہے۔ فوٹو: راقم الحروف

محکمہ ریلوے کراچی ڈویژن کے ڈپٹی چیف کنٹرولر ظفر بھٹہ نے بتایا کہ ریلوے کے 7 آپریشنل ڈویژن ہیں جہاں سے ٹرینوں کی آمد و رفت کی نگرانی کی جاتی ہے، ان میں کراچی، سکھر، ملتان، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور راولپنڈی شامل ہیں۔ ایک ڈویژن کی ذمہ داری ٹرین کے دوسرے ٹریک تک پہنچنے تک ہوتی ہے اور کسی بھی خرابی یا ہنگامی صورت میں، جس ٹریک پر ٹرین ہوگی، متعلقہ ڈویژن اسے حل کرنے کی کوشش کرے گا۔

ڈپٹی چیف کنٹرولر ظفر بھٹہ تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے۔

محکمہ ریلوے کی 3 حصوں میں تقسیم

انتظامی طور پر محکمہ ریلوے کو 3 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں آپریشنز، مینوفیکچرنگ اور ویلفیئر شامل ہیں۔ 

آپریشن ڈویژن کو مزید 3 ذیلی شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں انفراسٹرکچر، مکینیکل انجینئرنگ اور ٹریفک ڈیپارٹمنٹ شامل ہے۔ اس کے علاوہ محکمے میں کئی دیگر چھوٹے چھوٹے شعبے ہیں جن کے ذمے مختلف امور ہیں، ان میں پلاننگ، لیگل افیئر، پبلک ریلیشن، ریلوے اکیڈمی اور دیگر شامل ہیں اور ان تمام شعبہ جات کی نگرانی آپریشن یونٹ کی ہے۔

ریلوے کی رول بک

محکمہ ریلوے کی رول بک کے سرورق پر جلی حروف میں عملے کو سختی سے تاکید کی گئی ہے کہ مسافروں سے نرم لہجے میں ڈیلنگ کی جائے اور جتنا ممکن ہوسکے مسافروں کا سفر آسان بنائیں لیکن عملی طور پر ایسا دیکھنے کو بہت کم ملتا ہے۔ 

ریلوے عملے کے نرم رویے کا عملی مظاہرہ دیکھنا ہو تو کبھی کراچی کے کینٹ اسٹیشن جائیں وہاں جاکر اندازہ ہوتا ہے کہ عملے کو بات چیت کا سلیقہ بھی سکھانے کی اشد ضرورت ہے۔

پاکستان ریلوے کی رول بک
پاکستان ریلوے کے اسٹاف کیلئے قواعد کی بک

ریلوے کے چیف آپریٹننگ سپرنٹنڈنٹ کے ہدایت نامے کا دوسرا نکتہ کہتا ہے کہ سفر کرنے والی خواتین اور بچوں کی حفاظت کے لئے خصوصی توجہ دی جانی چاہیے اور ان سے باعزت طریقے سے برتاؤ کیا جائے، اگر کسی مدد کے لئے طلب کیا جائے تو ڈیوٹی پر موجود ریلوے کا عملہ یا پولیس اہلکار فوری طور پر خواتین کی شکایت کا ازالہ کریں۔

رول بک کا تیسرا نکتہ کہتا ہے کہ اسٹیشن مینیجر، اسٹیشن سپرنٹنڈنٹ، ٹرین کی جانچ کرنے والے ذمہ دار افسر یا دیگر افسران پہلے اسٹیشن ( جہاں سے ٹرین چلنا شروع ہوتی ہے) پر اس بات کو یقینی بنائیں کہ ٹرین کی تمام بوگیاں صاف ستھری ہیں، باتھ روم میں پانی موجود ہے، پنکھے اور بلب ٹھیک ہیں، ایئرکنڈیشن درست حالت میں کام کررہا ہے۔

ٹرین کی صفائی

سٹی اسٹیشن پر ٹرین کی دھلائی کیلئے بنایا گیا واشنگ یارڈؒ: فوٹو/ راقم الحروف

کسی بھی مسافر ٹرین کی روانگی سے قبل اس کی مکمل صفائی کی جاتی ہے اور ٹرین کو دھونے کے لیے ایک الگ سے شعبہ موجود ہے جسے ’واشنگ یارڈ‘ کہا جاتا ہے۔

اس شعبے میں ٹرین کی دھلائی اور مکمل صفائی ہوتی ہے۔

کراچی میں سٹی اسٹیشن پر ٹرین کی صفائی ستھرائی کے لیے مکمل انتظام رکھا گیا ہے اور اس کام پر مامور عملہ پوری تندہی سے اپنا کام انجام دیتا ہے۔

مذکورہ تمام قواعد کا خیال ان بوگیوں میں تو رکھا جاتا ہے جن میں مخصوص مسافر (بھاری کرایہ برداشت کرنے والے) سفر کرتے ہیں۔

سٹی ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کی دھلائی اور صفائی پر مامور عملہ اپنا کام انجام دیتے ہوئے: فوٹو/راقم الحروف

لیکن اکانومی کلاس کی بوگیوں کا حال برا ہوتا ہے، ان میں سیٹوں پر پڑی گرد، واش روم میں الٹی لٹکی ٹوٹیاں اور اپنی مرضی سے چلنے والے پنکھے اور لائٹیں ہی نظر آتی ہیں۔

’شیخ رشید کے دور میں سب سے زیادہ ٹرینیں چلیں‘

— اسپیشل فارمین پاور کے انچارج محمد عابد 

کراچی ڈویژن کے اسپیشل فارمین پاور (اسسٹنٹ ٹرین ڈرائیور) کے انچارج محمد عابد کے مطابق محکمہ ریلوے کی وزارت جس وقت شیخ رشید کے پاس تھی اس وقت اپ اینڈ ڈاؤن ٹریک پر 58 ٹرینیں چلا کرتی تھیں۔

’’یعنی 27 ٹرینیں روزانہ کراچی سے لاہور اور راولپنڈی کے لئے جایا کرتیں اور اتنی ہی ٹرینیں وہاں سے کراچی آیا کرتی تھیں۔‘‘

ریلوے کی ترقی کا پلان_ ویژن 2025

2014 میں وزارت ریلوے نے محکمے کی ترقی کے لئے ویژن 2025 پیش کیا جس کے تحت ریلوے کے نظام کو بہتر کرتے ہوئے عوام کا محکمے پر اعتماد بحال کرنا اور محکمے کی سالانہ آمدن میں اضافہ شامل تھا۔ 

سی پیک منصوبے میں ریلوے کو بھی شامل کیے جانے کے بعد ویژن 2025 کے تحت پہلے مرحلے میں 2017 تک نئے انجنوں کی خریداری، انفرااسٹرکچر میں بہتری، ٹرینوں کی رفتار میں اضافہ، وقت کی پابندی اور مسافر بردار گاڑیوں میں اضافہ کرنا شامل تھا اور اس وقت تک مقرر کردہ اہداف کسی حد تک حاصل کیے جاچکے ہیں۔

ویژن 2025 کے دوسرے مرحلے میں نئے ٹریک کی بحالی، نظام میں اصلاحات اور نئی ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہے اور ان اہداف کو حاصل کرنے کے لئے 2021 تک کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ 

سفر کے لئے دنیا بھر میں تیز ترین ذرائع استعمال ہورہے ہیں اور کئی ممالک بلٹ ٹرین پر منتقل ہوچکے ہیں، امید ہے کہ ایک دن پاکستان میں بھی پرانی ٹرینوں کی بجائے بلٹ ٹرین چلے گی جس کے بعد ٹرینوں کے آگے جھنڈے لہرانے یا لالٹین دکھانے کا عمل ماضی کا قصہ بن جائے گا۔