Geo News
Geo News

Time 14 مئی ، 2018
پاکستان

اگر میں غدار ہوں تو قومی کمیشن بنایا جائے، نواز شریف


بونیر: سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ اس شخص کو غدار کہا گیا جو ملک کے لیے مرتا ہے، اگر میں غدار ہوں تو ایک قومی کمیشن بنایا جائے تاکہ حساب کتاب ہو جائے۔

بونیر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کے پی کے لیے کچھ نہیں کیا، سوات کے لوگوں سے جب پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے ہمیں ذلیل و رسوا کیا اور صوبے میں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہماری حکومت ہوتی تو بونیر میں موٹر وے بن چکی ہوتی لیکن اگر ابھی نہیں بنی تو 2018 کے بعد بن جائے گی۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے قوم کے ساتھ جو بھی وعدے کیے پورے کیے، دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کیا اور امن قائم کرنے کا وعدہ پورا کیا، پاکستان کی ترقی کا وعدہ پورا کیا۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہماری حکومت آئی تو صوبے کی تقدیر بدل دیں گے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ اس شخص کو غدار کہا گیا جو ملک کے لیے مرتا ہے، اگر میں غدار ہوں تو پھر ایک قومی کمیشن بنایا جائے، مجھے بھی بلایا جائے اور دوسرے لوگوں کو بھی بلایا جائے، تحقیقات کی جائے اور کمیشن کی رپورٹ پوری قوم کے سامنے رکھی جائے، پھر جو بھی مجرم ثابت ہو اسے سر عام پھانسی پر لٹکایا جائے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کو ہم اس طرح نہیں چھوڑیں گے، منی لانڈرنگ پر بھی کمیشن بننا چاہیے اور چیئرمین نیب کو بھی اس میں بلایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف ہمیشہ  اپنے وعدے کی لاج رکھتا ہے اور میں عوام کے ووٹ کی حرمت کو پامال نہیں ہونے دوں گا۔ 

اپنے بیان پر قائم ہوں چاہے جو کچھ بھی سہنا پڑے حق بات کروں گا، نواز شریف

قبل ازیںاسلام آباد میں احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ اپنے بیان پر قائم ہوں چاہے جو کچھ بھی سہنا پڑے حق بات کروں گا اور میں نے جواب مانگا تھا میرے سوال کا جواب آنا چاہیے تھا۔

نواز شریف نے ممبئی حملوں سے متعلق دیا گیا بیان اپنے موبائل فون سے صحافیوں کو دوبارہ پڑھ کر سنایا۔

اس موقع پر نواز شریف نے کہا کہ میں کئی سالوں سے کہتا آرہا ہوں کہ اتنی قربانیاں دی ہیں، دنیا ہمارا بیانیہ تسلیم کرنے کو کیوں تیار نہیں، 50 ہزار لوگ شہید ہوئے، آرمڈ فورسز، پولیس اور شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دیں۔

صحافی نے سوال کیا کہ 'نان اسٹیٹ ایکٹر سے متعلق آپ اپنے بیان پر قائم ہیں' جس پر ان کی صاحبزادی مریم نواز نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ پھر آپ نے ضرب عضب کن کے خلاف کیا۔

نواز شریف نے مریم نواز کو بولنے سے روکتے ہوئے کہا کہ 'آپ نہ بولو'۔

نواز شریف نے کہا کہ میڈیا میں سوال پوچھنے والے کو غدار کہہ رہے ہیں، غدار اُسے کہا جارہا ہے جس نے ایٹمی دھماکے کیے، میں حق بات کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا اور حق بات کرنا قومی، دینی اور اخلاقی فرض سمجھتا ہوں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا محب وطن وہ ہیں جنہوں نے آئین توڑا، ججوں کو دفاتر سے نکالا اور کیا کراچی میں 12 مئی کو خونی کھیل کھیلنے والے محب وطن ہیں؟

نواز شریف کا متنازع بیان

ایک انٹرویو کے دوران ممبئی حملوں سے متعلق اپنے متنازع بیان میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ عسکری تنظیمیں نان اسٹیٹ ایکٹرز ہیں اور ممبئی حملوں کے لیے پاکستان سے غیر ریاستی عناصر گئے، کیا یہ اجازت دینی چاہیے کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز ممبئی جا کر 150 افراد کو ہلاک کردیں، بتایا جائے ہم ممبئی حملہ کیس کا ٹرائل مکمل کیوں نہیں کرسکے۔

نواز شریف کے بیان پر بھارتی میڈیا نے اسے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جب کہ ملکی سیاسی رہنماؤں کی جانب سے نواز شریف کے بیان کی شدید مذمت کی گئی۔

نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق متنازع بیان پر پاک فوج کی تجویز پر قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت ہوا اور قومی سلامتی کمیٹی نے ممبئی حملوں سے متعلق سابق وزیراعظم نواز شریف کے حالیہ متنازع بیان کو مکمل طور پر غلط اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے تمام الزامات کو متفقہ طور پر مسترد کردیا۔