فٹ بال ورلڈ کپ: کون کتنے پانی میں؟

2018 ورلڈ کپ کا میلہ روس میں سج چکا، ساری دنیا کی نظریں روس کے ساتھ ساتھ کوالیفائی کرنے والی 31ٹیموں پر جم چکی ہیں

2018 ورلڈ کپ کا میلہ روس میں سج چکا ہے اور ساری دنیا کی نظریں روس کے ساتھ ساتھ کوالیفائی کرنے والی 31ٹیموں پر جم چکی ہیں۔

2014 ورلڈ کپ جرمنی نے فائنل میں ارجنٹائن کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 0-1 سےہرا کر چوتھی بار عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ 2018 ورلڈ کپ میں 32 ٹیموں کو چار ،چار گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔

گروپ اے: روس، سعودی عرب، مصر، یوروگوائے

روس

2018 ورلڈ کپ میں میزبان روس کو فیورٹ قرار نہیں دیا جاسکتا۔روس نے 8 میچز میں سے صرف ایک کامیابی حاصل کی۔ حال ہی میں روس کو برازیل کے خلاف 0-3 اور فرانس کے خلاف 3-1 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

فٹبال کی عالمی درجہ بندی میں روس اس وقت 63 ویں نمبر پر موجود ہے۔ روس عالمی چیمپئن بننے سے ابھی تک محروم ہے۔ روس کا سفر چوتھی پوزیشن سے کبھی آگے نہیں بڑھ سکا۔ روس نے 1966 میں چوتھی پوزیشن حاصل کی تھی۔ روس کی ٹیم 11ویں بار میگا ایونٹ میں شرکت کررہی ہے۔

سعودی عرب

سعودی عرب کی ٹیم پانچویں مرتبہ میگا ایونٹ میں شرکت کررہی ہے۔ سعودی عرب نے امریکا میں ہونے والے 1994 ورلڈ کپ میں پہلی بار شرکت کی تھی ۔ا سٹرائیکر محمد الصحلا وی کی عمدہ کارکردگی کی بدولت سعودی عرب فیفا ورلڈ کپ میں قدم رکھنے میں کامیاب ہوا۔

کوالیفائرز میں سعودی عرب نے 10میں سے چھ میچوں میں فتوحات حاصل کیں۔ تین میں شکست جبکہ ایک میچ برابر رہا۔ محمد الصحلا وی نے 16 گولز کے ساتھ نمایاں فٹبالر رہے۔ سعودی عرب فٹبال ٹیم کو وارم اپ میچ میں ورلڈ چیمپئن جرمنی کے ہاتھوں1-2 سے ناکامی ہوئی۔

مصر

مصری کھلاڑی محمد صلاح کی ٹیم 1990 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ میں کھیلے گی۔ محمد صلاح نےٹیم کو میگا ایونٹ میں رسائی دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ گروپ ای میں محمد صلاح 5 گول کے ساتھ ٹاپ اسکورر ہیں۔ مصر کو کوالیفائنگ میچز میں چار میں کامیابی، ایک میں ناکامی ملی جبکہ ایک برابر رہا۔

خیال رہے کہ انگلش پریمیئر لیگ اورچیمپئنز لیگ میں تباہ کن پرفارمنس کامظاہرہ کرنے والے محمد صلاح نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مرکوز کی۔ ان کی مسلسل عمدہ کارکردگی کی وجہ سے ان کو ’’گول مشین ‘‘ کا خطاب دیا گیا۔

گول مشین یعنی محمد صلاح رواں سیزن میں اب تک مجموعی طور پر 43 گول داغ چکے ہیں جبکہ انگلش کلب لیور پول کی جانب سے 33 میچز میں 31گول کرتے ہوئے ریکارڈ قائم کرچکے ہیں۔ مصری فٹبالر محمد صلاح نے سال کے بہترین فٹبالر کا ایوارڈ جیتا۔ توقع ہے کہ وہ میگا ایونٹ میں اپنی جارحانہ پرفارمنس جاری رکھیں گے۔

یوروگوائے

لوئس سوریز کی ٹیم یوروگوائے کو دو بار عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل ہے۔ یوروگوائےکے تین اہم اسٹارز ڈیفینڈر ڈیاگو گوڈین، ایڈسن کاوانی اور لوئس سوریزفارم ہیں۔

ٹیم میں نئے کھلاڑیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ کوالیفائرز ایونٹ میں ایڈسن کاوانی 10،لوئس سوریز5 گولز کے ساتھ نمایاں پلیئرز رہے۔یوروگوائے نے وارم اپ میچ میں یکطرفہ مقابلے میں ازبکستان کو 0-3 سے ہرایا۔

خیال رہے کہ لوئس سوریز نے گزشتہ ورلڈ کپ میں اٹلی کےگریگیو چیلاینی کو میچ کے دوران دانتوں سے کاٹ کر زخمی کردیا تھا جس کے بعد ان پر چار ماہ کی پابندی اور 66,000 جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

گروپ بی: پرتگال، اسپین، مراکش، ایران

پرتگال

کرسٹیانو رونالڈ کی ٹیم، پرتگال دو بار 1966 اور 2006 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک پہنچی لیکن 2014 ورلڈ کپ کے گروپ اسٹیج تک ہی محدود رہی۔

پرتگال نے سوئٹزر لینڈ کے خلاف 2-0 سے کامیابی حاصل کرکے میگا ایونٹ میں جگہ پکی کی۔ پرتگالی ٹیم نے سعودی عرب کو شکست دی جبکہ پرتگال اور امریکا کے خلاف میچ برابر رہا۔ اس کے بعد پرتگالی فٹبالر رونالڈ کے دو گول کی بدولت مصر کو 2-1 سے شکست دی۔

تاہم ہالینڈ کے ہاتھوں 3-0 سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ چوتھی بار یوئیفا پلیئر آف دی ایئر کا اعزاز حاصل کرنے والے کرسٹیانورونالڈوکوالیفائرز ایونٹ میں 15گولز داغ چکے ہیں۔

اسپین

ہسپانوی ٹیم نے کوالیفائنگ گروپ میں فاتحانہ اختتام کرتے ہوئے 10 میں سے 9 میں کامیابی حاصل کی۔ اسپین نے صرف اٹلی کے خلاف میچ 1-1 سے برابر کیا۔

اسپین 2014 میں اپنے اعزاز کے دفاع میں ناکام رہا اور گروپ اسٹیج سے آگے ہی نہ بڑھ سکا لیکن رواں برس ورلڈ کپ میں ایک مضبوط ٹیم کے طور پر نظر آرہی ہے۔ اسپین نے دوستانہ میچ میں ارجنٹینا کو تختہ مشق بنایا اور 6-1سے میچ جیتا۔

اسپینش ٹیم نے کوسٹا ریکا کو ہرایا جبکہ روس اور ورلڈ چیمپئن جرمنی کے خلاف میچز ڈرا کئے۔ اسپین نے وارم اپ میچز میں تیونس کے خلاف 0-1 سے کامیابی حاصل کی لیکن سوئٹزرلینڈ کے خلاف 1-1 سےمیچ برابر رہا۔

خیال رہے کہ اسپین 2010 ورلڈ کپ جیت چکا ہے۔ اسپین کو ورلڈ کپ جیتوانے والے اینڈریا انسٹابھی رواں برس عالمی ایونٹ میںایکشن میں نظر آئیں گے۔

مراکش

مراکش کی ٹیم نے 1998 کے بعد 2018 ورلڈ کپ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی۔ شمالی افریقی ٹیم میں کئی نوجوان اور پرعزم کھلاڑیوں نے ٹیم کو 20 برس بعد میگا ایونٹ میں پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ان میں آئیکس، حکیم زئیچی اور یونس بیلہندی شامل ہیں۔

مراکش کی ٹیم اپنے ٹیبل پر چھ میچز میں تین فتوحات کے ساتھ سرفہرست رہی جبکہ تین میچز برابر ہوئے۔موروکو کی ٹیم مجموعی طور پر 5ویں بار ایونٹ میں شرکت کررہی ہے۔

ایران

ایران 2018 ورلڈ کپ میں کوالیفائی کرنے والی پہلی ایشین ٹیم ہے اور اس نے مسلسل دوسری بار میگا ایونٹ میں رسائی حاصل کی۔

ایران نے کوالیفائر میچز میں 10میں سے چھ میں کامیابی حاصل کی جبکہ عمان اور ترکمانستان کے خلاف برابر رہے۔ ایران نے وارم اپ میچ میں ازبکستان کے خلاف 0-2 سے فتح اپنےنام کی۔

ایران کی ٹیم 1978،1988،2006 اور2014 کے ایونٹس میں شرکت کرچکی ہے۔ ایران کی ٹیم 2014 ورلڈ کپ میں کامیابی کی جھلک دیکھنے سے محروم تھی تاہم تو ان کے کوچ کارلوس کئیورز ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچنے کے لیے پرعزم ہیں۔

گروپ سی: فرانس، آسٹریلیا، پیرو، ڈنمارک

فرانس

فرانس کی ٹیم مسلسل چھٹی بار ورلڈ کپ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی۔ فرانس 1998 کا عالمی چیمپئن رہ چکا ہے جبکہ 2006 کا رنرز اپ،1958 اور1986 میں تیسری پوزیشن اور 1982ورلڈ کپ میں چوتھی پوزیشن حاصل کرچکا ہے۔

فرانس کو کوالیفائر میچ میں سوئیڈن کےخلاف 1-2 سے ناکامی ہوئی۔ لکسمبرگ اور بیلا روس کے درمیان میچز ڈرا ہوئے۔ فرانسیسی ٹیم نے وارم اپ میچ میں اٹلی کے خلاف 1-3 اور ری پبلک آف آئرلینڈ کے خلاف 0-2 سے کامیابی حاصل کی۔

آسٹریلیا

آسٹریلیا کی ٹیم نے شام کو ورلڈ کپ کوالیفائرز، پلے آف میچ کے سکینڈ لیگ میں 3-2 سے شکست دے کر میگا ایونٹ میں رسائی حاصل کی۔

آسٹریلیا کی ٹیم میگا ایونٹ 5 بار شرکت کرے گی لیکن آسٹریلین ٹیم 2006 میں راؤنڈ آف 16میں ہمت ہار بیٹھی۔ آسٹریلین ٹیم نے وارم اپ میچ میں اعصاب شکن مقابلے میں ہنگری کو 1-2 سے کامیابی حاصل کی اور چیک ری پبلک کو 0-4 سے شکست سے دوچار کیا۔

پیرو

پیرو کی 36 برس بعد فیفا ورلڈ کپ میں واپسی ہوئی۔ پیرو نے آخری بار 1982ورلڈ کپ میں ایکشن میں نظر آئی تھی۔ پیرو کی ٹیم ورلڈ کپ کوالیفائرز،پلے آف میچ میںنیوزی لینڈ کو ہرا کر 2018ورلڈ کپ میں پہنچی۔

پیرو کےاسٹار پلیئرز ایڈسن فلورز اور پاؤلو گوریئرو نے 5،5 اور کرسچین کیوا نے 4 گول کئے۔ اب تک اس کی کارکردگی بدستور بہترین ہے۔

پیرو نے دوستانہ میچ میں آئس لینڈ کیخلاف کامیابی حاصل کی جبکہ وارم اپ میچ میں اسکاٹ لینڈ کو 0-2سے شکست سے دوچار کیا۔

خیال رہےکہ پیرو کی ٹیم پانچویں بار ایونٹ میں شرکت کررہی ہے ۔پیرو نے 1978میں چھٹے راؤنڈ اور 1970میں کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کی۔

ڈنمارک

یورپ کی بہترین ٹیموں سے ایک ڈنمارک نے 2012 یورپین چیمپئنز کے بعد سے کسی اہم ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لیا لیکن ڈنمارک نے ورلڈ کپ کوالیفائرز، پلے آف میچز میں ری پبلک آف آئر لینڈ کے خلاف 0-4 سے کامیابی حاصل کرکے ورلڈ کپ کا پروانہ حاصل کیا۔

ڈنمارک کی ٹیم 5ویں ایونٹ میں حصہ لے رہی ہے ۔ ڈنیش ٹیم کا سفر 2006 میں راؤنڈ آف 16میں تمام ہوا۔ ڈنمارک کے سپر اسٹار کھلاڑی کرسٹین ایرکسن پر جمی ہوئی ہیں ۔ان کی پرفارمنس روس میں ڈنمارک کی قسمت کا فیصلہ کرسکتی ہے۔

گروپ ڈی: ارجنٹینا، آئس لینڈ، کروشیا اور نائیجریا

ارجنٹینا

دو مرتبہ کی چیمپئن ارجنٹینا کی ٹیم گزشتہ برس فیصلہ کن معرکے میں جرمنی کے خلاف شکست کھا گئی تھی اور رواں برس کوالیفائنگ راؤنڈ میں بھی باہر ہونے سے بال بال بچ گئی۔

ارجینٹنا کو اس راؤنڈ میں حریف ٹیموں کے خلاف سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا اور ایک موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ ارجنٹینا ورلڈ کپ میں شرکت کرنے سے محروم رہے گی لیکن دنیا ئے فٹبال کے بے تاج بادشاہ لائنل میسی نے ارجنٹینا کو میگا ایونٹ میں پہنچایا۔

کوالیفائنگ میچز کے آخری میچ میں ارجنٹینا نے ایکواڈور کے خلاف 1-3 سے کامیابی حاصل کی۔ 2018ورلڈ کپ 30سالہ لائنل میسی کیلئے نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ بارسلونا کے فٹبالر لائنل میسی اعلان کرچکےہیں کہ وہ میگا ایونٹ میں شرکت کرنے کے بعد انٹرنیشنل فٹبال سے کنارہ کشی اختیار کرلیں گے۔

خیال رہے کہ ارجنٹینا 1978 اور 1986 میں ورلڈ کپ جیت چکا ہے۔

آئس لینڈ

آبادی کے اعتبار سے سب سے کم آبادی والے ملک آئس لینڈ نے پہلی بار فیفا ورلڈ کپ کی دوڑ میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے لیکن میگا ایونٹ میں جگہ بنانے کے بعد سینٹرل امریکن ٹیم وارم اپ میچز میں شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ نہ کرسکی۔

آئس لینڈ نے انڈونیشیا کے خلاف کامیابی کے بعد قطر کے خلاف میچ ڈرا کیا تاہم آئس لینڈ کو چیک ری پبلک، میکسیکو اور پیرو کے ہاتھوں پے درپے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

کروشیا

کروشیا کو میگا ایونٹ میں قدم رکھنے کےلیے کوالیفائز میچز میں سخت جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا۔

کروشیا نے پلے آف سیکنڈ راؤنڈ میں یونان کو فرسٹ لیگ میں 1-4 سے شکست دی جبکہ سیکنڈ لیگ بغیر ہار جیت کے ختم ہوگیا۔

اس طرح ایگری گیٹ اسکور پر کروشیا نے یونان کا قصہ تمام کرتے ہوئے 2018ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا۔

کروشیا کی ٹیم نے 1998 ورلڈ کپ میں ڈیبیو کرتے ہوئے تیسری پوزیشن اپنے نام کیا ۔ کروشیا رواں سال 5 بار میگا ایونٹ میں حصہ لے رہا ہے۔

نائیجریا

نائیجریا کی ٹیم 2018 ورلڈ کپ کا پروانہ حاصل کرنے والی پہلی افریقی ٹیم ہے۔ نائیجرین ٹیم نےچار فتوحات حاصل کرکے میگا ایونٹ میں قدم رکھا جبکہ اس کو الجزائر کے ہاتھوں 3-0 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کیمرون کے خلاف میچ ایک، ایک سے برابر رہا۔

نائیجریا کی چھٹی بار ورلڈ کپ میں شرکت کررہی ہے۔ نائیجرین ٹیم چار بار راؤنڈ آف 16 میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی۔

گروپ ای:برازیل، سوئٹزرلینڈ، کوسٹاریکا، سربیا

برازیل

اب کچھ بات ہوجائے اس ٹیم کی جس کو ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ 5 بار فیفا ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز حاصل ہے۔

میزبان روس کے بعد برازیل کی ٹیم کوالیفائی کرنے والی پہلی ٹیم ہے۔گبرائیل جیسس، نیمار اور پولنہو ٹیم کو ایک اور ٹائٹل جیتوانے میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ کوالیفائرز میچز میں گبرائیل جیسس 7، نیمار اور پولنہو 6 گولز کئے۔ اگرچہ 2014 ورلڈ کپ میں برازیل کو جرمنی کے ہاتھوں 1-7 سے ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم رواں برس برازیل کو ورلڈ چیمپئن جرمنی کے ساتھ فیورٹ قراردیا جارہا ہے۔

ورلڈ کپ سے قبل برازیل نے دوستانہ میچ میں ہی دفاعی چیمپئن جرمنی کیخلاف 0-1 سےکامیابی حاصل کرکے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔

سوئٹزر لینڈ

سوئس فٹبال ٹیم 11ویں روس کی میدان میں ایکشن میں نظر آرہی ہے ۔ سوئس ٹیم تین بار 1934, 1938, 1954 کوارٹر فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی۔

وارم اپ میچز میں سوئٹزرلینڈ اور اسپین کے درمیان مقابلہ 1-1 سے برابر رہا تاہم سوئٹزر لینڈ جاپان کیخلاف 0-2 سے کامیابی اپنے نام کی۔

کوسٹا ریکا

وسطی امریکا کے چھوٹے سے ملک کوسٹاریکا نے پہلی بار 2014 ورلڈ کپ میں رسائی حاصل کی تھی اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوارٹر فائنل میں پہنچی تھی لیکن ہالینڈ نے پینالٹی شوٹ پر شکست دے کر کوسٹا ریکا کےخواب چکنا چور کردیئے۔

ورلڈکپ فٹبال تیاری کے سلسلے میں کوسٹا ریکا کو بیلجیئم کے ہاتھوں 1-4 سے شکست سے دوچار ہونا پڑا اسی طرح انگلینڈ کے خلاف 0-2 سے شکست کھا گئی اس سے قبل شمالی آئرلینڈ کو 0-3 سے ہرایا تھا۔

سربیا

سربیا نے 8 برس بعد دوبارہ ورلڈ کپ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی۔ ورلڈ کپ کوالیفائرز، یوئیفا گروپ ڈی میں ٹاپ کرنے والی ٹیم سربیا کو واحد ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ سربیا نے بولیویا کے خلاف عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کرتے ہوئے 1-5 سے کامیابی اپنے نام کی۔

گروپ ایف: جرمنی، میکسیکو، سوئیڈن، جنوبی کوریا

جرمنی

دفاعی چیمپئن جرمنی کے پاس پانچویں بار ورلڈ کپ جیتنے اور برازیل کا ریکارڈ برابر کرنے کا نادر موقع ہے لیکن دوستانہ میچز اور وارم اپ میچز میں جرمنی کی کارکردگی متاثر نہیں رہی ۔

ورلڈ کپ وارم اپ میچز میں جرمنی کو آسٹریلیا کے ہاتھوں 0-1 سے شکست ہوئی جبکہ سعودی عرب کے خلاف 1-2 سے کامیابی اپنے نام کی۔

اس سے قبل دوستانہ میچز میں جرمنی کو برازیل کے خلاف 1-0 سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا جبکہ انگلینڈ اور اسپین کے خلاف میچز فیصلہ کن ثابت نہ ہوسکے البتہ ورلڈ کپ کوالیفائرز میچ میں ناقابل شکست رہا۔

جرمن کھلاڑی رابرٹ لیونڈسکی کوالیفائرز میچز میں 16 گول کے ساتھ ٹاپ اسکورر ہے۔ ٹونی کروس اور رابرٹ لیونڈسکی جرمنی کےاہم کھلاڑی ہیں جو ٹیم کو ایک بار پھر عالمی چیمپئن بنوانے میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔

جرمنی کی فیفا ورلڈ رینکنگ میں ٹاپ پوزیشن پر حکمرانی جاری ہے۔ جرمنی 19ویں بار شرکت کررہی ہے۔ اس کے علاوہ جرمنی کو 1954،1974 اور1990کا ورلڈ کپ بھی جیتنے کا اعزاز حاصل ہے۔

میکسیکو

میکسیکو نے باآسانی 2018 ورلڈ کپ میں جگہ بنائی لیکن کوالیفائرز میچز میں صرف ایک میچ میں ناکامی ہوئی۔ میکسیکو کو سنسنی خیز مقابلے میں ہنڈراس کے خلاف 3-2 سے شکست ہوئی۔ میکسیکو کی ٹیم 16ویں بار ایکشن میں نظر آئے گی۔ میکسیکن ٹیم نے 1970 اور1986ورلڈ کپ میں کوارٹر فائنلز جگہ بنائی تھی۔

سوئیڈن

سوئیڈن کی ٹیم نے 2006 ورلڈ کپ میں اٹلی کو پلے آف میچ میں شکست دے کر فائنل کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔ اس وقت سوئیڈن کے بہترین کھلاڑی نے ایک ٹوئٹ کیا تھا کہ’’ہم لوگ زوئیڈن ہیں۔‘‘سوئیڈن کی ٹیم سپر اسٹار ذلاٹن ابراہیمووچ کی غیر موجودگی میں میدان میں اترے گی۔

خیال رہےکہ ذلاٹن ابراہیمووچ نے 2016 یورو کپ کے بعد بین الاقوامی فٹبال سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا۔ سوئیڈن کی ٹیم 1958 کی رنرز اپ ٹیم رہ چکی ہے اور 2006 کے بعد پہلی بار ایونٹ میں شرکت کررہی ہے ۔

جنوبی کوریا

جنوبی کوریا کو کوالیفائرز ایونٹ میں 10 میچز میں سے 4 میں کامیابی جبکہ تین میں شکست ہوئی جبکہ تین میچز برابر ہوئے۔جنوبی کوریا 10ویں بار شرکت کررہی ہے جبکہ 2002 ورلڈ کپ میں چوتھی پوزیشن حاصل کی تھی۔

گروپ جی: بیلجیئم، پاناما، تیونس، انگلینڈ

بیلجیئم

بیلجیئم فٹبال ٹیم کا ورلڈ چیمپئن بننے کا خواب تاحال ادھورا ہے۔ اس کا سفر 1986 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک ہی محدود رہا ہے ۔ ہمیشہ کی طرح اس وقت بیلجیئم کے پاس سب سے مضبوط اسکواڈ موجود ہے جس کے زیادہ تر کھلاڑی انگلش پریمیئر لیگ کیلئے کھیلتے ہیں۔

توقع ہے کہ بیلجیئم کے کھلاڑی رومیلو لوکاکو، ایڈن ہیزرڈ، مارونے فیلانی عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کرتے ہوئے گزشتہ دو ٹورنامنٹس کی طرح رواں برس بھی ٹیم کو کوارٹر فائنل تک پہنچانے میں کامیاب ہوں گے۔

بیلجیئم نے کوالیفائرز ایونٹ میں 10میں سے 9میچز میں فتوحات سمیٹ کر میگا ایونٹ میں دھماکے دار انٹری کی۔

اس کے بعد دوستانہ میچز میں میکسیکو کے خلاف 3-3 سے برابر کرنے کے بعد جاپان کو 0-1 اور سعودی عرب کو 0-4 سے شکست سے دوچار کیا۔

پاناما

پاناما کی ٹیم پہلی بار 2018 ورلڈ کپ میں کوالیفائی کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ پاناما نے کوسٹا ریکا کے خلاف تاریخی فتح حاصل کرکے پہلی بار ورلڈ کپ میں پہنچنےکا اعزاز اپنے نام کی۔

پاناما کی میگا ایونٹ میں رسائی کی وجہ سے امریکا 2018 ورلڈ کپ سے باہر ہوگیا۔ پاناما کی اس تاریخی کامیابی کے دوسرے دن صدر نے قومی دن قرار دینے کا اعلان کیا۔

تاہم دوستانہ میچز میں پاناما کو سخت مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔گرینیڈا کیخلاف کامیابی کے بعد ایران کے ہاتھوں ناکامی ہوئی جبکہ ویلز کے خلاف میچ بغیر ہار جیت کے ختم ہوگیا۔

وارم اپ میچز میں ڈنمارک اور سوئٹزرلینڈ کے ہاتھوں 6-0سے ہزیمت شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

تیونس

وہاب خضری کی جارحانہ کھیل کی بدولت تیونس کی ٹیم 2018 ورلڈ کپ میں رسائی حاصل کی لیکن لیبیا اور ڈی آر کانگو کے خلاف میچز برابر رہے۔

تیونس کی ٹیم پانچویں بار ورلڈ کپ میں شرکت کررہی ہے لیکن تیونس کی بدقسمت رہے کہ وہ گروپ اسٹیج سے آگے نہ بڑھ سکا۔ تیونس کی ٹیم گزشہ 7 میچز میں بھی مسلسل فتوحات اپنے نام کرتے ہوئے ایران اور کوسٹا ریکا کو ہرایا۔

انگلینڈ

1966 ورلڈ کپ کا عالمی چیمپئن انگلینڈ 15ویں بار روس کے میدان میں ایکشن میں نظرائے گا۔

انگلش فٹبال ٹیم نے 10 میچز میں سے 8 میں کامیابی اپنے نام کی جبکہ سلوونیا اور اسکاٹ لینڈ کے درمیان میچز برابر رہے۔

گروپ ایچ: پولینڈ، سینیگال، کولمبیا، جاپان

پولینڈ

پولش فٹبال ٹیم چیمپئن بننے کا خواب لئے روس پہنچ چکی ہے پولینڈ کی ٹیم 8 بارایونٹ میں شرکت کررہی ہے اس کو 1974 اور1982ورلڈ کپ میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔

پولینڈ کو کوالیفائر میچز میں 8 میں کامیابی ملی جبکہ ڈنمارک کے ہاتھوں بھاری مارجن سے 0-4 سے شکست کاسامنا کرنا پڑا۔

پولینڈ اور قازقستان درمیان میچ 2-2 سے برابر رہا۔

سینیگال

2000 میں ڈیبیو کرنے والی ٹیم سینیگال دوسری بار میگا ایونٹ میں شرکت کررہی ہے۔ سینیگال نے 2002 ورلڈ کپ کوارٹر فائنل تک پہنچی تھی۔

سینیگال نے کوالیفائرز میچز میں چار میں کامیابی حاصل کی جبکہ دو میچز ڈرا ہوئے۔ سینیگال نے وارم اپ میچ میں جنوبی کوریا کیخلاف 2-0سے فتح اپنے نام کی۔

کولمبیا

کولمبیا کی ٹیم گزشتہ برس کوارٹر فائنل تک پہنچی تھی اور رواں برس بھی ایسا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

کولمبیا مسلسل دوسری بار اور مجموعی طور پر 6 بار میگا ایونٹ میں شرکت کررہی ہے۔

کولمبیا کو کوالیفائنگ میچز میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور 18 میچز میں سے 7 میں کامیابی، 5یں ناکامی ہوئی اور 6میچز ڈرا ہوئے۔

جاپان

جاپان نے کوالیفائرز ایونٹ میں 10 میں سے چھ میں کامیابی حاصل کی جبکہ دو ناکامی اور دو میچز ڈرا ہوئے۔

جاپان کی ٹیم چھ بار عالمی چیمپئن کی دوڑ میں حصہ لے چکی ہے اور دوبار 2000 اور2010 ورلڈ کپ میں راؤنڈ آف 16 میں پہنچی۔

14جون سے روس کے میدان میں ٹائٹل کے حصول کے لیے جنگ شروع ہوچکی ہے لیکن عالمی چیمپئن بننے کا فیصلہ 15 جولائی کو ہوگا۔