بلوچستان میں ’بلیک گولڈ‘ نکالنے والے مزدوروں کی حالت زار

بلوچستان میں کان کنوں کی محنت سے مالکان کو تو مالامال ہو رہے ہیں مگر ان کی اپنی زندگیوں کو خطرات بہت بڑھ گئے ہیں۔

ضلع سوات کے رہائشی 52 سالہ عمر فاروق کا کنبہ 8 افراد پر مشتمل ہے اور واحد کفیل ہونے کے ناطے اپنے گھرانے  کی کفالت سمیت تعلیم، صحت اور دیگر اخراجات کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے ان کی کمر جھک گئی ہے۔

روزی کی تلاش اسے بلوچستان میں واقع سورینج کی کوئلہ کان لے آئی جہاں اسے مزدوری تو ملی لیکن معاوضے کی رقم سے صرف اس کے گھر والوں کی چٹنی روٹی کا بندو بست ہی ہو سکا۔

وہ بھی اپنے دیگر سیکڑوں ساتھی کان کنوں کی طرح اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کئی سو فٹ گہرائی میں جاکر کوئلہ تلاش کرتا ہے جس کے  بدلے میں اتنی معمولی رقم ملتی ہے کہ مشکل سے گھر کے اخراجات پورے ہوتے ہیں اکثر علاج معالجہ کے لئے اسے عزیز و اقرباء سے ادھار لینا پڑتا ہے۔

— فوٹو: راوی 

قدرت نے بلوچستان کو قیمتی دھاتوں، انمول پتھروں، سونے سے بھری کانوں، ہیرے جواہرات سے مالامال کوئلے کی کانوں سے نوازا ہے لیکن صوبہ پر حکومت کرنے والوں کی بے پرواہی اور بے توجہی اور بدعنوانی کے رجحان نے قدرت کی بیش بہا نعمت کے خزانے کو لوگوں کی لیے عذاب بنا دیا۔

تواتر سے ہونے والے اندہوناک حادثات نے کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے درجنوں افراد کو موت کی وادی میں پہنچا دیا ہے۔ کنبے کے یہ غریب کفیل تو چلے گئے لیکن ان کے خاندان والے جیتے جی جیسے مر ہی گئے۔ وہ جو ان کی روزی روٹی کا انتظام کیا کرتے تھے اب منوں مٹی تلے دب چکے ہیں۔

کان کی سرنگ — فوٹو: راوی 

المیہ یہ نہیں کہ ان حادثات میں کتنی انسانی جانیں گئیں اور کتنے ہنسے بستے گھر اجڑ گئے بلکہ المیہ یہ ہے کہ ان حادثات کے بعد بھی ارباب اختیار خاموش تماشائی بنے ہوئے دولت جمع کرنے میں مگن ہیں۔ آئے دن کہیں نا کہیں " بلیک گولڈ" کے نام سے مشہور کوئلے کی کانوں میں حادثات ہو رہے ہیں مگر ان کانوں کے مالکان کی آنکھیں دولت کی چمک سے خیرہ ہیں۔ 

ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے 70 سے زائد غریب مزدور زندگی گنوا بیٹھتے ہیں۔ مزدور انجمنیں اس بدتر صورت حال کا ذمہ دار مالکان اور حکومتی اہلکاروں کی ملی بھگت کو ٹھہراتی ہیں۔

کوئلہ و دیگر سامان کان میں لے جانے والی مشینری — فوٹو: راوی 

انہیں مزدوروں کی زندگی کی حفاظت اور کام کے معیاری ماحول کی کوئی فکر نہیں ہے۔ 

ان کانوں میں کام کرنے والے مزدوں نے شکوہ کیا کہ حکومت اپنی نااہلی اور بدعنوانی کی وجہ سے مالکان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی اور انہیں مزدوروں کے استحصال کی کھلی چھٹی دی ہوئی ہے۔

بلوچستان میں کان کنی کا آغاز بیسویں صدی میں ہوا، یہاں سے نکلنے والے کوئلے کا بڑا حصہ پاکستان ریلوے کے انجن چلانے اور پاور ہاؤسز میں بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

اس کے علاوہ سندھ، پنجاب اور صوبہ سرحد جو اب خیبر پختون خوا کہلاتا ہے، میں قائم اینٹ کی بھٹیوں کے کام آتا۔ روز بروز کوئلے کی بڑھتی مانگ نے یہ "بلیک گولڈ " یعنی سیاہ سونا کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔

مزدور کان کے دہانے پر موجود ہیں — فوٹو: راوی 

سورانگ، ڈیگاری، مچ، خوست اور شاہریگ کا شمار ان چند علاقوں میں ہوتا ہے جو نہایت منافع بخش ثابت ہوئے ہیں اور یہاں سے نکلنے والا کوئلہ کو نکالنے کی لاگت انتہائی کم اور مارکیٹ میں اس کی قیمت انتہائی زیادہ ہے۔

کان میں داخل ہونے کی سرنگ — فوٹو: راوی 

حکومتوں میں موجود با اثر شخصیات خزانے سے لبریز ان کانوں کے ٹھیکے اپنی مرضی سے منظور نظر افراد کو دیتے رہے اور انہوں نے یہ جاننا بھی گوارہ نہ کیا کہ آیا  ٹھیکہ لینے والی کمپنی کے پاس ضروری تجربہ اور مناسب مشینری خریدنے کے لیے سرمایہ ہے یا نہیں۔ ان سے سب سے بڑھ کر مزدوروں کی زندگی کی حفاظت کے لیے ضروری انتظامات کا علم ، تجربہ اور منصوبہ بندی بھی ان کے پاس ہے یا نہیں؟

اہم بات یہ ہے کہ زیادہ تر کوئلے کی کانیں پرائیویٹ ٹھیکیداروں کے پاس ہیں جو 1923 کول مائن ایکٹ کے تحت آتے ہیں۔ بلوچستان کے چیف کول مائنینگ انسپکٹر کے مطابق صوبے میں پانچ ہزار سے زائد کانوں کا دورہ کرنے اور حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کے لیے صرف پانچ مائنگ انسپکٹر ہیں یعنی ایک انسپکٹر کے ذمہ 1000 کانوں کا معائنہ کرنا ہے جو ناممکن ہے۔

کان کن کان میں جانے کے لیے تیار ہیں — فوٹو: راوی 

ایک محتاط اندازے کے مطابق کوئلے کی کانوں میں 50 ہزار سے زائد مزدور کام کر رہے ہیں جو اپنی زندگی داؤ پر لگا کر سالانہ تین لاکھ ٹن کوئلہ نکالتے ہیں جس میں مچ اور سورنج سے ایک لاکھ ٹن، ڈککی اور حرانی سے ایک لاکھ چالیس ہزار جبکہ ساٹھ ہزار ٹن دیگر کانوں سے نکالا جاتا ہے۔ 

ماہرین کا ماننا ہے کہ صوبہ بھر میں لاتعداد غیر قانونی کانیں بھی ہیں جو کسی بھی قانون سے بالا تر ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہر سال کھربوں روپے منافع کمانے والی اس صنعت سے بلوچستان مائن اینڈ منرل ڈیپارٹمنٹ سالانہ محض ڈھائی ارب روپے وصول کرتا ہے۔

مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ حکومتی ادارہ جس کی ذمہ داری قانون پر عمل درآمد کروانا ہے اس کے اہلکار قوانین سے لاعلم اور قانون بنانے والے بے فکر ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ زیادہ تر کانوں میں محض زمین میں گڑھا کرکے سرنگ بنا کر کوئلہ نکالا جا رہا ہے جب کہ سرنگ میں ہوا کے گزرنے ، ٹرالی سےکوئلہ نکالنے اور سرنگ کو مضبوط کرنے اور دھسنے سے بچانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جاتے۔

مزدور کوئلے کی تلاش میں کان میں موجود ہیں — فوٹو: راوی

انٹرنیشنل لیبر آرگنائیزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کوئلے کی کانوں میں ہونے والے حادثات میں سب سے زیادہ مزدور بلوچستان میں مرتے یا زخمی ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ ٹن کوئلہ نکالنے کے عمل کے دوران تقریباً تیس مزدور اپنی جان گنواں دیتے ہیں ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ زیادہ تر حادثات کی وجہ نا مناسب آلات اور زندگی کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کا نہ ہوناہیں۔

حالیہ دنوں میں کان مالکان نے حادثے میں مرنے والے مزدور کے گھر والوں کو دی جانے والی رقم تیس ہزار سے بڑھا کر دو لاکھ روپے کر دی ہے جب کہ حکومت نے زندگی کا معاوضہ پانچ لاکھ روپے مقرر کیا ہے۔ 

مزدور انجمنوں کا کہنا ہے مزدور کے گھر والوں کے لیے اس معاوضہ کا حصول کچھ آسان نہیں۔

وفاقی کان کنی فیڈریشن کے صدر بخت نواب نے بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مزدوروں کے لیے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائے  کیوں کہ ''کام کے دوران ہمیں لا تعداد مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہوا کی مناسب گزرگاہیں نا ہونے کے باوجود آکسیجن سلنڈر نہیں دیئے جاتے اور بڑی تعداد میں مزدوروں کو بغیر حفاظتی ہیلمٹ کام کرنے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔"

کان کن زمین کی تہہ میں موجود ہیں — فوٹو: راوی 

سوات سے کوئلے کی ان کانوں میں روزی روٹی کمانے کے لیے آئے عمر گل کا کہنا ہے کہ مزدور کو کوئلہ نکالنے کے لیے اس کی تہہ کی لکیر کے ساتھ جانا ہوتا ہے۔ ہم ایک تجربہ کار کان کن کی پیروی کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ جب کوئی تہہ ٹوٹتی ہے یا ختم ہو جاتی ہے تو مزدور دوسری جگہ سے سرنگ کھودنا شروع کرتے ہیں۔ کام شروع کرنے سے پہلے اس جگہ کا لینڈ سروے نہیں کیا جاتا یعنی زمین کا جائزہ لے کر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کہاں کیا ہے۔

عمر گل کے مطابق کان کنی کے لیے ضروری تکنیکی سہولیات بھی نا ہونے کے برابر ہوتی ہیں یعنی سارے مزدور بس اللہ کے سہارے کام کر رہے ہوتے ہیں، یہ صورت حال حکومت کے علم میں ہے لیکن وہ لاتعلق ہے یوں لگتا ہے کہ انہیں مزدوروں کی زندگی کی کوئی فکر نہیں۔

کان کن کوئلہ ٹرک پر لاد رہے ہیں — فوٹو: راوی 

عالمی قوانین کے مطابق کان کی ابتداء سرنگ کھود کر کی جاتی ہے جسے گرنے سے بچانے کے لیے وقتی طور پر اقدامات کیے جاتے ہیں اور بعد میں چھت اور دیواریں مضبوط کر کے مستقل کر دیا جاتا ہے۔ 

ماہرین کہتے ہیں کہ کھدائی شروع ہوتے ہی مزدور کی جان کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں، سرنگ کی چھت کو گرنے سے بچانے کے لیے لگائے جانے والے اسٹرکچر میں معمولی سی غفلت مزدور کی جان لے سکتی ہے اور کمپنی مالکان کو معلوم ہوتا ہے کہ جان لیوا حادثے کی صورت میں وہ مالی طور پر تباہ ہو جائیں گے۔

کان کنی کرنے والے  مزدوروں کی حالت — فوٹو: راوی 

بلوچستان کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں میں پشتون، پنجابی، سرائیکی اور دیگر زبانیں بولنے والے افراد شامل ہیں۔ سینٹرل مائنز فیڈریشن کے صدر بخت نواب کے مطابق "کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدور سخت موسم اور نہایت نا مناسب حالات میں ہزاروں فٹ گہرائی میں کھدائی کرتے ہیں لیکن ان کے لیے پینے کا صاف پانی اور کان کے نزدیک ڈاکٹر کی سہولت آج بھی ایک خواب ہے۔"

کول لیبر یونین کوئلے کی کانوں میں ہونے والے جان لیوا حادثات میں اضافے سے پریشان ہے۔ یونین کے ایک رکن نے بتایا کہ کوئلے کی کانیں بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں قائم ہیں اور مالکان کو صرف اپنی کمائی سے غرض ہے، ان کو مزدوروں کی زندگی اور کام کی مناسب سہولیات کی کوئی پرواہ نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس معاملے میں حکومت کے کان کنی کا محکمہ کے اہلکار بھی ذمہ دار ہیں۔

کان کنی کرنے والے مزدوروں کی حالت— فوٹو: راوی 

ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر حادثات 1500 فٹ سے 5000 فٹ گہرائی میں ہوتے ہیں اور کان کی دیواریں مضبوط بنانے، میکینیکل اور بولٹنگ ، فائبر سے بنی کنکریٹ کی شیٹیں، کھدائی کے دوران چھت اور ستونوں پر دباؤ اور بوجھ کو جانچنے اور کم کرنے کے لیے سینسر وغیرہ نا ہونا جان لیوا حادثات کا باعث بنتے ہیں۔

بلوچستان میں دیگر معدنیات کے ذخائر کے ساتھ کوئلے کی کانوں کی صنعت بھی صوبہ کی آمدنی اور لوگوں کو روزگار مہیا کرنے ایک بڑا ذریعہ ہے۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ یہاں مزدوروں کے حکومت کا تحفظ یقینی بنائے۔