غربت سے خود کفالت تک : تبدیلی کا ایک سفر

پا کستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جس کی آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے ۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق،ہمارے ملک میں دس افراد میں سے چار انتہائی غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ غربت میں کمی کے لیے مختلف حکومتوں نے کئی منصوبے بنائے۔ لیکن اس سلسلے میں کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ پروگرام درا صل ان لوگوں کے لئے قائم کیا گیا تھا جو انتہائی غربت میں اپنی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہے۔ اس پروگرام کے تحت ایک غریب خاندان کو حکومت کی جا نب سے ہر سہ ماہی میں ایک رقم دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی زندگیوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرسکیں۔ اس منصوبے کی شروعات دس سال قبل ہوئی تھی اور اب تک 55 لاکھ سے زائدخاندان اس سے مستفید ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ ہر سال آگے بڑھ ر ہا ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی حکومت نے اس مد میں 124 ارب روپے مختص کئے ہیں جو پاکستان کے مختلف اضلاع کی غریبوں میں تقسیم ہوں گے ۔ لیکن ایک سوال جو بار بار کیا جا تا ہیں ہے وہ یہ کہ آخر کب تک حکومت ٹیکس دہندگان کا پیسہ ان غریبوں میں تقسیم کرے گی ۔

حکومت ان غریبوں کی غربت مٹانے کے لئے ٹھوس عملی اقدامات کیوں نہیں کرتی۔ ان حقائق کا ادارک کرنے کے لیے ادارے نے وسیلہ تعلیم اور وسیلہ صحت جیسے اقدامات کا انعقادکیا تاکہ تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں اس پروگرام میں شامل افراد تک پہنچائی جا سکیں ۔

اس ہدف کے حصول کے لئے معاشی میدان میں بہت سے ٹھوس اقدامات کرنا باقی ہیں۔پاکستان پاورٹی ایلی ویشن فنڈ نے اس ضمن میں ایک منفرد منصوبہ کا تجربہ کیا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کا انتخاب کیا گیا جو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے کئی سالوں سے ایک امدادی رقم وصول کر رہے تھے مگر اپنی غربت کی زندگی سے نکلنے میں ناکام رہے۔پاکستان پاورٹی ایلی ویشن فنڈنے منتخب افراد کو مختلف مواقع فراہم کیے جن میں کچھ لوگوں کوخصوصی ہنر سے آ راستہ کرنااورکچھ لوگوں کو فنی تعلیم سے آراستہ کرناہے تاکہ یہ لوگ برسرروزگارہو کر اپنی ذات اور اپنے خاندان کے لئے خاطر خواہ آمدنی حاصل کرسکیں ۔

اعداد و شمار کے مطابق، اس منصوبے کے لئے چنے گئے خاندانوں کی غربت میں نمایاں کمی ہورہی ہے ۔ اسکے ساتھ ساتھ اس نیم سرکاری ادارے نے لوگوں کو غیرسودی قرضے فراہم کیے اور ایسے وسائل جیسے مویشی مہیا کیے جس کے زریعے آمدنی مستقل بنیادوں پر حاصل کی جاسکتی ہے۔

پاکستان پاورٹی ایلی ویشن فنڈ کی سینئر ہیڈ کوالٹی ایشورنس، ریسرچ اور ڈیزائن سامعہ لیاقت علی خان نے جیو نیوز کو بتایا کہ اب تک ایک لاکھ گیارہ ہزار اور چارسو سے زائدافراد کو یہ سہولیات فراہم کی گئی اور 60 فیصد سے زیادہ افراد کامیابی کے ساتھ اپنی زندگیوں کو غربت و افلاس سے نکالنے میں بہت حد تک کامیاب ہوچکے ہیں اور اب وہ باعزت طورپر اپنا روز گار کما کر اپنے اور اپنے گھر والوں کی بنیادی ضروریات کوپورا کرنے میں کافی حد تک خود کفیل ہوچکے ہیں۔ 

پاکستان پاورٹی ایلی ویشن فنڈ نے ان افراد کی بھرپور رہنمائی اور نگرانی کی اور وہ سہولیتں فراہم کی تاکہ یہ افراد اپنے معاشی طور پر اپنے قدموں پر کھڑے ہوسکے۔ تاہم دیگر افراد کی ایک بڑی تعداد جو غربت مٹاؤ منصوبے میں شامل کیے گئے وہ بھی کچھ مراحل سے گزرکراپنی منزل یعنی غربت سے خاتمے تک پہنچنے میں کا میاب ہوجائیں گے۔لوگوں کی ایک مختصر تعداد ایسی بھی ہے جنھیں کچھ نہ کچھ مالی امداد جاری رکھنی پڑے گی۔ 

پاکستان پاورٹی ایلی ویشن فنڈ نے دراصل یہ منصوبہ نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام کی تحت کیا جو پانچ سال پر محیط ہے اور اسکا آغاز2018میں ہوا۔ اس ضمن میں حکومت پاکستان اور انٹرنیشنل فنڈ برائے زراعت کے مابین مالی تعاون طے پایا ہے جس کے تحت اس پروگرام کے لئے مجموعی طور پر150 ملین ڈالر مختص کئے گئے ہیں۔

پاکستان میں اب تک یہ غربت کے خاتمے کا انوکھا مگر کامیاب تجربہ ہے ۔ اسی منصوبہ سے نہ صرف لوگوں کی زندگیوں میں خوش آئند تبدیلی آئی بلکہ لوگوں کو روزگار میسر آیا اور چھوٹی سطح پر کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ ملا اور معشیت کو بھی یقینی فائدہ ہوا ہے ۔

اسی طرح کے تجربات دنیا میں 77 ممالک میں بھی کیے گئے اور وہاں بھی غربت میں کافی کمی ہوئی۔

پاکستان کے اس نیم سرکاری ادارے نے اب تک اس پروگرام کو ملک کی 375 یونین کونسلوں تک پہنچایا ہے۔ مستقبل میں اس پروگرام کو مزید پسماندہ علاقوں پھیلایا جائے گا جس سے غربت میں مزید کمی ہوگی ۔

مزید خبریں :