Can't connect right now! retry

انٹرٹینمنٹ
22 جولائی ، 2019

اہلیہ پر مبینہ تشدد: شوبز شخصیات کی محسن عباس پر تنقید

اداکار محسن عباس اہلیہ فاطمہ سہیل کی جانب سے لگائے گئے الزمات کو مسترد کر چکے ہیں۔ فوٹو: فائل

 اداکار اور میزبان محسن عباس حیدر کی جانب سے اہلیہ فاطمہ سہیل پر تشدد کا واقعہ سامنے آنے کے بعد شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی پھٹ پڑیں۔

گذشتہ روز اداکار اور میزبان محسن عباس کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے شوہر پر تشدد اور بےوفائی کا الزام عائد کرتے ہوئے زخموں والی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی تھیں۔

فاطمہ سہیل کے الزامات کے بعد اداکار محسن عباس نے گزشتہ روز لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اہلیہ کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا تھا۔

آج جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے محسن عباس حیدر کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے بتایا کہ جب تین ماہ کی حاملہ تھی اس وقت بھی محسن نے مجھ پر تشدد کیا، میں نے اپنا گھر بچانے کی بہت کوشش کی لیکن انہوں نے میرے نمبر بلاک کر دیئے تھے۔

فاطمہ سہیل کا مزید کہنا تھا کہ محسن میڈیا کو کنفیوز کرنا چاہتا ہے، یہ جھوٹ ہے کہ میں نے گھر اپنے نام کرنے کا تقاضہ کیا۔ 

انہوں نے کہا کہ محسن کا ایک ماڈل کے ساتھ افیئر تھا جس کا اعتراف اس ماڈل نے بھی کیا تھا۔

بچے کے خرچے کے حوالے سے محسن عباس حیدر کی اہلیہ نے بتایا کہ محسن  بچے کا خرچہ اٹھا رہے ہیں۔

شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھی سوشل میڈیا پر اس حوالے سے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

لالی وڈ اداکارہ ماہرہ خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرلکھا کہ کیا کوئی کسی کو یہ حق دیتا ہے کہ اس پر یا کسی اور پر ہاتھ اٹھایا جائے؟ یہ ناقابل معافی جرم ہے، ہم سب اس طرح کے تشدد کے واقعات کو بہت معمولی سمجھتے ہیں، خدارا اپنے بچوں کے لیے ہی سہی اسے روکیں۔


اداکار گوہر رشید نے بھی اس حوالے سے ٹوئٹر پر بیان جاری کیا۔

گوہر رشید نے بتایا کہ میں فاطمہ سہیل کے ساتھ ناانصافیوں کا گواہ ہوں، 2018 میں جب محسن عباس حیدر نے فاطمہ پر تشدد کیا تھا تو میری دوست انہیں اسپتال لیکر گئی تھیں اور میری دوست نے ہی مجھے پورے معاملے کے بارے میں بتایا۔


اداکار نے لکھا کہ فاطمہ سہیل میری بہنوں کی طرح ہیں، وہ اپنی شادی بچانے اور اپنے بچے کی صحت کی خاطر یہ سب برداشت کر رہی تھیں اور ہمیں اس بات کی عزت کرنی چاہیے۔




گوہر رشید کا کہنا ہے کہ فاطمہ اب وہ بول رہی ہے تو ہمیں سچ کا ساتھ دینا چاہیے، ایسے آدمی کسی بھی معاشرے کے لیے ناسور ہیں، میں اس شخص کو ذہنی مریض نہیں خطرہ سمجھتا ہوں، فاطمہ کو انصاف چاہیے اور اسے ہماری مدد کی ضرورت ہے۔





دوسری جانب اداکارہ دُعا ملک اور ہمائمہ ملک نے بھی سوشل میڈیا پر کہا کہ ہم اس واقعے کے گواہ ہیں۔

اداکارہ دعا ملک نے انسٹاگرام پر پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے کہا کہ میں اس واقعے کی واحد گواہ ہوں اور میں یہ راز 3 سال سے اپنے دل میں رکھ کے بیٹھی ہوئی تھی، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ محسن نے اسے سڑک پر کس طرح مارا تھا۔

دُعا ملک کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ جو کہ بعد ازاں ڈیلیٹ کردی گئی۔

دُعا ملک نے اپنی پوسٹ میں ایسے بہت سے واقعات کا ذکر کیا اور اپنے آپ کو گواہ کہا لیکن بعدازاں انہوں نے اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کر دی۔


فوٹو: بشکریہ اداکارا دعا ملک انسٹاگرام

اداکارہ دعا ملک کی جانب سے ایک اور پوسٹ شیئر کی گئی جس میں انہوں نے کہا کہ ’میں اب بھی اپنے فیصلے پر قائم ہوں کہ میں ان سب واقعات کی گواہ ہوں،  گھریلو تشدد کے ذریعے آپ کسی خاتون کو ڈرا نہیں سکتے‘۔




ہمائمہ ملک کا کہنا تھا کہ میری بہن دعا مجھے پچھلے 3 سالوں سے فاطمہ کے ساتھ ہونے والے تشدد کے بارے میں بتایا کرتی تھی، کاش کے فاطمہ پہلے بول دیتی۔

اداکارہ ہانیہ عامر نے فاطمہ سہیل کی تشدد زدہ تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ تمام محنت، شہرت، راتوں کو جاگ کر اپنی نیند خراب کر کے شوٹ کرنا، ان ساری چیزوں کو کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی اگر آپ ایسے ہوں۔




مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM