Can't connect right now! retry

دنیا
27 اگست ، 2019

مقبوضہ وادی میں لاک ڈاؤن کا مسلسل 23 واں روز، چپے چپے پر قابض فوج تعینات

فائل فوٹو

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی حکومت کی جانب سے کرفیو نافذ کیے 23 روز ہوگئے۔

مقبوضہ وادی کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہوئے 23 روز ہوگئے جہاں مودی حکومت کی جانب سے کرفیو کے 23 ویں روز بھی مواصلاتی نظام معطل اور پابندیاں برقرار ہیں۔

کرفیو کے باعث کشمیری اشیائے خوردونوش سمیت ضروری سے محروم ہوچکے ہیں جب کہ ادویات کی بروقت فراہمی نہ ہونے سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

قابض بھارتی فوج احتجاج کچلنے کے لیے گھروں میں گھس بے گناہ نوجوانوں کو گرفتار کر رہی ہے جب کہ خواتین کی بے حرمتی، چادر اورچار دیواری کا تقدس پامال کیا جارہا ہے۔

اس کے علاوہ حریت اور سیاسی رہنما گھروں یا جیلوں میں بدستور بند ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کا پس منظر

بھارت نے 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کردیا تھا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔

راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 125 جبکہ مخالفت میں 61 ووٹ آئے تھے۔ بھارت نے 6 اگست کو لوک سبھا سے بھی دونوں بل بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے ہیں۔

آرٹیکل 370 کیا ہے؟

بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔

آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا ہے۔

بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے۔

پاکستان کا رد عمل

پاکستان نے بھارت کے اس اقدام کی بھرپور مخالفت کی اور اقوام متحدہ، سلامتی کونسل سمیت ہر فورم پر یہ معاملہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

پاکستان نے فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اور قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھارتی اقدم کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم اور سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے بعد پاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔

وزیر ریلوے شیخ رشید نے سمجھوتہ ایکسپریس اور تھر ایکسپریس ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تو وہیں اب لاہور سے دہلی جانے والی دوستی بس سروس اور لاہور سے امرتسر جانے والی امرتسر بس سروس بھی بند کردی ہے۔

چین کا بھارتی اقدام پر مؤقف

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چوینگ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پرکشیدگی اور آرٹیکل 370 کو ختم کرنے سے متعلق سوالات پر تحریری جواب میں کہا کہ چین کو کشمیر کی موجودہ صورتحال پر 'شدید تشویش' ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ چین نے سرحدی علاقے میں بھارتی مداخلت کی ہمیشہ مخالفت کی ہے اور اس بارے میں ہمارا مؤقف واضح اور مستقل ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنا قانون یکطرفہ تبدیل کرکے ہماری خودمختاری کو نقصان پہنچایا، ایسے اقدامات ناقابل قبول اور کبھی قابل عمل نہیں ہوسکتے۔

ترجمان کے مطابق بھارت سرحدی معاملات پر بیان اور عمل میں ہوشمندی کا مظاہرہ کرے اور بھارت چین سے کیے گئے معاہدوں پر قائم رہے، بھارت ایسے کسی بھی عمل سے باز رہےجو سرحدی امور کو مزید مشکل بنادے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا اجلاس

پاکستان اور چین کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس 16 اگست کو ہوا جس میں 15 رکن ممالک کے مندوبین اجلاس میں شریک ہوئے۔

یو این ملٹری ایڈوائزر جنرل کارلوس لوئٹے نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بریفنگ دی جبکہ اقوام متحدہ کے قیام امن سپورٹ مشن کے معاون سیکریٹری جنرل آسکر فرنانڈس نے بھی شرکاء کو بریفنگ دی۔

مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ایک گھنٹہ 10 منٹ جاری رہا۔

یو این ایجنسی کے جاری بیان کے مطابق کشمیر پر سلامتی کونسل میں براہ راست بات چیت ہوئی، بھارتی زیر انتظام مسلم اکثریتی کشمیر کا خصوصی درجہ تھا جو کہ بھارت نے 5 اگست کو وہ حیثیت ختم کردی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کشمیر پر یو این کی پوزیشن سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ہے، مسئلہ کشمیر کا حتمی درجہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت طے ہونا ہے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM