Can't connect right now! retry

مچھروں سے بچاؤ کیلئے نئی کوششیں شروع

فوٹو: فائل

مچھر ایک مہلک مخلوق ہیں جو ہر سال لاکھوں اموات کا سبب بنتے ہیں۔

مچھروں پر تحقیق کے دوران معلوم ہوا ہے کہ مچھر اپنے پروں کی مدد سے بھنبھناتے ہیں اور یہ آواز ان کے تولیدی عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مچھر اپنے جنسِ مخالف کو اس بھنبھناہٹ سے تلاش کرتے ہیں۔

برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، سائنسدانوں کا خیال ہے کہ وہ اس آواز میں خلل ڈال کر مچھروں کے مسئلے کا تدارک کر سکتے ہیں۔

سائنسدان مچھروں کے بھنبھنانے کی آواز کی مدد سے ان کی آبادی کو کم کرنے پر تحقیق کر رہے ہیں اور انہیں انسانی آبادی سے دور رکھنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مادہ مچھر کے پروں کا وزن کم ہوتا ہے، اسی لیے اس کی بھنبھناہٹ ہلکی ہوتی ہے جبکہ سیکڑوں کے جھنڈ میں اپنی مادہ کو تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سائنسدانوں کو یقین ہے کہ وہ مچھروں کی زبان یا بھنبھنانے کے انداز کو سمجھ سکتے ہیں اور ان کی آواز میں خلل ڈال کر خطرے کا تدارک کیا جا سکتا ہے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM