Can't connect right now! retry

پاکستان
22 نومبر ، 2019

پشاور بی آر ٹی مکمل ہونے کی ایک اور ڈیڈلائن گزرنے کا خدشہ


بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) پشاور رواں سال بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اور اس کی تکمیل کی ایک اور ڈیڈلائن گزر جانے کا خدشہ ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق بی آر ٹی کے 30 بس اسٹیشنز پر کام مکمل نہیں ہوا، 14 بس اسٹیشنز پر جنوری کے آخر میں کام مکمل ہوگا۔

کنٹریکٹر نے اگلے سال مارچ میں کام مکمل ہونے کی نئی تاریخ دے دی، اس سے قبل خیبرپختونخوا حکومت نے بی آر ٹی کو دسمبر میں مکمل کرنے کی چھٹی ڈیڈلائن دی تھی۔

بی آر ٹی کے 30 بس اسٹیشنوں پر کام مکمل نہیں ہوا، چمکنی سے امن چوک تک 16 اسٹیشنوں پر 90 فیصد کام مکمل ہوا ہے۔ 16 بس اسٹیشنوں پر دسمبر کے آخر میں کام مکمل ہوگا۔ امن چوک سے حیات آباد تک 14 بس اسٹشینوں پر 85 فیصد کام مکمل کیا جاسکا ان اسٹیشنز پر کام جنوری کے آخر میں کام مکمل ہوگا۔

بی آر ٹی کے لیے 3 بس ڈپوز پر بھی کام مکمل نہیں کیا جاسکا۔ حیات آباد بس ڈپو پر 10 فیصد کام بھی مکمل نہیں ہوا۔ حیات آباد سے کارخانو مارکیٹ تک اضافی روٹ پر بھی کام مکمل نہیں کیا جاسکا ہے۔

روٹ پر کام جنوری کے آخر میں مکمل ہوگا۔ فیڈر روٹس کے 154 بس اسٹاپس پر بھی صرف 50 فیصد کام مکمل کیا جاسکا ہے۔

دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی انجینیئر محمد عزیر نے بتایا کہ بی آر ٹی منصوبے پر کام رواں مالی سال کے اندر مکمل کرلیں گے۔ ایشائی ترقیاتی بینک کے ساتھ جو قرض کا معاہدہ کیا گیا ہے اس کے تحت منصوبہ جون 2021 میں مکمل ہونا ہے اور بینک سے کیے گئے معاہدے کے تحت کام کی رفتار بہت تیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی عوام کے لیے حکومت کا بہترین تحفہ ہے جس میں خصوصی افراد کے سوار ہونے کے لیے ریمپ جبکہ شہریوں کے لیے سائیکل ٹریک اور تینوں ڈپوز پر پارک اینڈ رائیڈ کی سہولت ہوگی۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM