Geo News
Geo News

Time 09 دسمبر ، 2019
پاکستان

پہلے بی پلان ہوا تھا، پھر سی ہوا پھر زیڈ ہوجائے گا: وزیراعظم کی اپوزیشن پر تنقید

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ جہاں جمہوریت تھی وہ ملک آ گے چلے گئے،  ہمارے پاس بادشاہت تھی جس کی وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے۔

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر اپوزیشن پر تنقید کی ہے اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دن پہلے بی پلان ہوا تھا، پھر سی ہوا اور پھر زیڈ ہوجائے گا، کوئی پلان بی نہیں ہوتا، آپ ساری کشتیاں جلا کر جاتے ہیں۔

بلاول پربھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں فیملی سسٹم سے لیڈر بننے والے جمہوریت کی نفی کررہے ہیں، 11 سال تک پارٹی کا چیئرمین رہنے والا ایک نئی تھیوری لاتا ہے اور کہتا ہے کہ بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا مجھے کہا گیا کہ آپ سائنس اور ٹیکنالوجی کو سنجیدہ نہیں لے رہے، فواد چوہدری کو سائنس و ٹیکنالوجی کا وزیر بنا دیا لیکن ایک اچھے کپتان کو پتا ہوتا ہے کہ کس کھلاڑی کو کس نمبر پر کھلانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ نے انسان کو بے پناہ طاقت سے نوازہ ہے، اللہ جتنا آپ کو نوازتا ہے اتنی ہی آپ پر ذمہ داری ڈالتا ہے, ہر چیز ایک وژن سے شروع ہوتی ہے، انسان جو پہلے صرف تصور کرتا تھا اس نے اس چیز کو کامیاب کر کے دکھایا۔

عمران خان نے کہا کہ جو بھی آج تک بڑا انسان بنا ہے اپنی ذات سے نکل کر ہی بنا ہے، بل گیٹس واقعی بڑا انسان ہے، اپنی صلاحیت سے اس نے بہت پیسا بنایا، بل گیٹس خود پر کم اور دیگر امدادی کاموں پر زیادہ پیسے خرچ کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا ہمیشہ اپنے دل کی سنو اور جنون صرف دل میں ہی ہوتا ہے، اگر ٹیلنٹ اور جنون کا مقابلہ ہو تو جنون اس کو ہرا دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب آپ کشتیاں جلا کر آگے نکلتے ہیں تو کوئی پلان بی نہیں ہوتا اور زندگی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں، جو انسان کامیاب ہوتا ہے وہ برے وقت میں خود کو سنبھالتا ہے اور جب تک آپ ہار نہیں مانیں گے تو آپ کو کوئی ہرا نہیں سکتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہر برا وقت آپ کو اوپر جانے کیلیے تیار کرتا ہے، لوگ ریٹائر ہوتے ہی بوڑھے ہو جاتے ہیں، بال سفید ہو جاتے ہیں، میں بھی کرکٹ ختم کر کے دوسروں کی طرح باتیں کرتا اور سال کے کروڑوں روپے کما لیتا۔

انہوں نے کہا کہ بادشاہت کبھی بھی جمہوریت کا مقابلہ نہیں کر سکتی، ہمارے ہاں بادشاہت تھی، جن ملکوں میں جمہوریت تھی وہ بہت آگے چلے گئے۔

ان کا کہنا تھا جو معاشرے پیچھے ہو جاتے ہیں ان میں میرٹ ختم ہو جاتا ہے، اگلے چار سال تک یاد دلاتا رہوں گا کہ ہمیں کس طرح کا پاکستان دیا گیا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں فیملی سسٹم جمہوریت کی نفی ہوتی ہے، فیملی سسٹم کی وجہ سے 11 سال ایک پارٹی کا چیئرمین رہنے والا تھیوری لے کر آتا ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے۔