Can't connect right now! retry

پاکستان
10 دسمبر ، 2019

کے الیکٹرک پر 5 کروڑ روپے جرمانہ عائد

ملک میں بجلی فراہم کرانے والی کمپنیوں کے نگران ادارے نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بارشوں کے دوران کراچی میں کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر کے الیکٹرک پر 5 کروڑ روپے جرمانہ عائد کردیا۔

نیپرا کے مطابق کے الیکٹرک پر جرمانہ بارش کے دوران کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں اور طویل دورانیہ تک بجلی کی فراہمی معطل رہنے کی وجہ سے کیا گیا۔

نیپرا کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کو نیپرا ایکٹ 1997 کی سیکشن 27 بی اور سیکشن 28 کے تحت شوکاز نوٹس جاری کیا گیا اور کے الیکٹرک کو بھی سماعت کے دوران موقع دیا گیا۔

نیپرا کے مطابق کے الیکٹرک اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی اور یہ کہ کے الیکٹرک ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کا ڈیزائن متعلقہ کوڈ اور مینوئل کی ضروریات کو پورا نہیں کرتا۔

نیپرا کا کہنا ہے کہ تفتیش میں کے الیکٹرک کے لائسنس کی شرائط وضوابط اور نیپرا قوانین کی خلاف ورزی کا انکشاف ہوا جب کہ کمپنی بجلی تقسیم سے کرنٹ کی لیکج نا ہونے، حفاظتی معیارات برقرار رکھنے میں ناکام رہی۔

یاد رہے کہ امسال مون سون سیزن کے دوران کراچی میں شدید بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے کے واقعات میں 30 افراد جاں بحق ہوئے تاہم نیپرا کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 19 تھی۔

نیپرا نے کے اپنے فیصلے میں الیکٹرک کو حکم دیا ہے کہ وہ سوگوار خاندانوں کو جلد سے جلد معاوضہ فراہم کرنے کے اپنے وعدوں کو پورا کرے اور اس کا دستاویزی ثبوت فراہم کرے۔

کے الیکٹرک کو اپنی داخلی تفتیش مکمل کرکے اور اپنے ملازمین/انتظامیہ کی ذمہ داریوں کا تعین کرکے حتمی رپورٹ نیپرا کو پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

کے الیکٹرک کا مؤقف

کے الیکٹرک نے کراچی میں پیش آنے والے افسوسناک حادثات سے متعلق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA) کے حالیہ فیصلہ پر نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد موزوں جواب جمع کروائے گی، کے الیکٹرک قانون کی پاسداری کرنے والا ذمہ دار ادارہ ہے جو کہ تمام آپریشنز متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق سرانجام دیتا ہے اور صارفین کو بجلی کی محفوظ اور قابل بھروسہ فراہمی کیلئے پرعزم ہے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM