Geo News
Geo News

Time 19 دسمبر ، 2019
پاکستان

خشونت سنگھ نے کیا پیشگوئی کی تھی؟

 نفرت کی بنیاد پر شروع کی گئی کوئی بھی تحریک مسلسل خوف اور تصادم پیدا کرکے آگے بڑھتی ہے—فوٹو فائل

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خشونت سنگھ نے پہلے ہی دیکھ لیا تھا کہ متعصب اور انتہاپسند نظریات کی وجہ سے بھارت کہاں جارہا ہے۔

ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان نے بھارتی دانشور کے ایک آرٹیکل کا اقتباس شیئر کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سیاست دان نے اپنی کتاب میں لکھا کہ نفرت کی بنیاد پر شروع کی گئی کوئی بھی تحریک مسلسل خوف اور تصادم پیدا کرکے آگے بڑھتی ہے۔

خشونت سنگھ کی کتاب دی اینڈ آف انڈیا سے لیے گئے اقتباس میں لکھا ہے کہ ہرفاشسٹ حکومت کو کمیونٹیز، گروپس کی ضرورت ہوتی ہے جنہیں شیطانی رویے میں پیش کرکے آگے بڑھایا جا سکے۔

خشونت سنگھ کے مطابق نفرت اور خوف پر مبنی تحریک صرف خوف اور تنازع پیدا کرکے ہی خود کوبرقرار رکھ سکتی ہے۔

یاد رہے کہ بھارت کی پارلیمنٹ نے شہرت کے قانون میں حال ہی میں ایک ترمیم منظور کی ہے جس کے مطابق مسلمانوں کے علاوہ تمام مذاہب کی اقلیتوں کو بھارت کی شہریت دی جائے گی۔ مذکورہ ترمیم کی وجہ سے بھارت کی مختلف ریاستوں میں شدید احتجاج جاری ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں جنیوا میں پناہ گزینوں کی عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دنیا کی توجہ بھارتی حکومت کے انتہا پسندانہ اقدامات کی جانب مبذول کروائی تھی۔

وزیراعظم نے کہا تھا کہ پاکستان میں 40 لاکھ پناہ گزین مقیم ہیں، وہاں ایک نیا انسانی بحران سر اٹھا رہا ہے دنیا اس جانب توجہ دے۔

خشونت سنگھ کون؟

خشونت سنگھ بھارت کے مشہور مصنف، تاریخ دان اور نقاد تھے۔ وہ ایک قانون دان، صحافی اور سیاست دان تھے اور انہوں نے 1947ء میں تقسیم ہند کا بہت قریب سے معائنہ کیا تھا اور اس واقعہ نے انہیں اتنا متاثر کیا کہ انہوں نے "ٹرین ٹو پاکستان" نامی کتاب لکھی جسےغیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔

انہیں بھارت نے 1974ء میں پدم بھوشن ایوارڈ بھی دیا تھا لیکن امرتسر میں بھارتی فوج کے آپریشن بلیو اسٹار کے بعد انہوں نے پدم بھوشن لوٹا دیا تھا۔