Can't connect right now! retry

پاکستان
25 دسمبر ، 2019

رانا ثناء اللہ کیس میں ساری شہادتیں عدالت میں ہیں: اے این ایف

مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناءاللہ کی منشیات برآمدگی کیس کے حوالے سے انسداد منشیات فورس (اے این ایف) کا کہنا ہے کہ ساری شہادتیں عدالت میں موجود ہیں لہٰذا اب ملزم پر ذمہ داری ہے  وہ اس بارے میں جواب دے۔

اے این ایف ہیڈکوارٹر راولپنڈی میں  قانونی ٹیم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیف پراسیکیوٹر اے این ایف کا کہنا تھا کہ رانا ثناءاللہ کے حوالے سے حقائق مکمل طور پر میڈیا پر نہیں آرہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یکم جولائی 2019 کو رانا ثناء اللہ کے خلاف مقدمہ درج ہوا جس کے بعد ہم نے تاخیر کے بغیر 23 جولائی کو چالان جمع کروایا، گواہوں کے بیانات، برآمدگی اور کیمیکل ایگزامنرکی رپورٹ سمیت ساری  شہادتیں عدالت میں موجود ہیں، اب ملزم پر ذمہ داری ہے کہ وہ اس بارے میں جواب دے۔

چیف پراسیکیوٹر اے این ایف کا کہنا تھا کہ یہ کیس میڈیا پر اجاگر ہوگیا لیکن پراسیکیوشن کو نہیں سنا گیا، تاثر دیا گیا کہ پراسیکیوشن کی جانب سےتاخیرکی گئی جو غلط ہے،کیس سے متعلق ہم شہادت دیں گے لیکن صحیح وقت پردیں گے۔

اے این ایف پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ہم نے وقت پر سارا عمل مکمل کیا، اب تک 16 تاریخیں ملی ہیں، ہم نے عدالت سے استدعا کی آپ روزانہ کی بنیاد پر کیس کو سنیں، 21 دسمبر کو ہڑتال چل رہی تھی اور اسی دن ملزم نے ایک اور درخواست دے دی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ رانا ثناء اللہ کی پہلی ضمانت کی درخواست ٹرائل کورٹ میں دی گئی جو مسترد ہوئی پھر انہوں نے ضمانت کی دوسری درخواست دی وہ بھی مسترد ہوئی، ابھی تفصیلی فیصلہ نہیں آیا اس کے بعد ہی کوئی مؤقف دیں گے۔

کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے: شہریار آفریدی

قبل ازیں وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی نے پریس کانفرنس میں ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ہم نے رانا ثناء اللہ منشیات برآمدگی کیس میں 17 روز میں تمام ثبوت عدالت کے سامنے رکھ دیئے تھے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ رانا ثناء اللہ سے منشیات برآمدگی کے کیس میں کسی بھی لیول پر ڈیل نہیں ہو گی، جتنا دباؤ آئے گا برداشت کروں گا، تمام ثبوت اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں، کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

شہریار آفریدی کا مزیدکہنا تھا کہ میڈیا پر تاثر یہ دیا گیا کہ رانا ثناء اللہ شاید بری ہو گئے ہیں لیکن قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ اب بھی ملزم ہیں۔

یاد رہے کہ انسداد منشیات فورس (اے این ایف) نے رانا ثناءاللہ کو 2 جولائی 2019 کو فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوئے گرفتار کیا تھا اور اے این ایف نے دعویٰ کیا تھا کہ رانا ثناء کی گاڑی سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کی گئی۔

گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور کی تھی، عدالت نے رانا ثناء اللہ کو 10، 10 لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM