Time 29 جنوری ، 2020
دنیا

ٹرمپ نے امن منصوبہ پیش کر دیا، مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت رکھنے کا عزم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطین کی مخالفت کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم  نیتن یاہو کے ساتھ فلسطین اسرائیل امن منصوبے کا اعلان کر دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرعظم نیتن یاہو کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس میں مشرق وسطٰی میں قیام امن کے لیے اپنا منصوبہ پیش کیا۔

وائٹ ہاوس میں منعقدہ اس تقریب میں فلسطین کے کسی نمائندے کو مدعو ہی نہیں کیا گیا جب کہ تقریب میں عمان، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے سفیروں نے شرکت کی۔

 اس حوالے سے اقوام متحدہ کا کہناہے کہ اسرائیل فلسطین امن کے لیے 1967 سے پہلے کی حد بندی کے ساتھ ہیں۔

امریکی صدر کی جانب سے اعلان کیے جانے والے امن منصوبے میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا غیر منقسم دارالحکومت رکھنے کا عہد شامل ہے جب کہ فلسطین کو مقبوضہ مشرقی یروشلم کے اندر دارالحکومت بنانے کی اجازت ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ  کا کہنا ہے کہ  اسرائیلیوں یا فلسطینوں کو اپنے گھروں سے بے دخل نہیں کیا جائے گا، ہوسکتا ہے کہ ان کا پیش کر دہ منصوبہ فلسطینیوں کے لیے آخری موقع ہو۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق منصوبے کے نقشے میں مغربی کنارے میں اسرائیل سے منسلک یہودی بستیاں دکھائی گئی ہیں اور مغربی کنارے کو غزہ سے ایک سرنگ کے ذریعے جوڑا گیا ہے۔

منصوبے سے واضح ہوتا ہے کہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے غیر قانونی قرار دی جانے والی اسرائیلی بستیاں برقرار رکھی جائیں گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کی جانب سے پہلے کی جانے والی کوششوں کو مبہم قرار دیا اور 80 صفحات پر مبنی اپنے منصوبے کو 'حقیقت پسندانہ دو ریاستی' حل قرار دیا۔

امن منصوبے کے خدوخال کو صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے مسودے کی شکل دی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو آج ماسکو جائیں گے جہاں وہ روسی صدر سے ان تجاویز پر بات کریں گے، صدر ٹرمپ کے منصوبے پر غور کے لیے عرب لیگ نے ہفتے کے روز اجلاس طلب کر لیا ہے۔

اس حوالے سے ناقدین کہتے ہیں امریکی صدر نے ایسا خاکہ پیش کیا جس سے اسرائیل کو من مانی کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے، ٹرمپ نے وہی منصوبہ دیا جو اسرائیل چاہتا تھا۔

مزید خبریں :