Can't connect right now! retry

کھیل
06 اپریل ، 2020

وقار یونس کی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے پر عامر اور وہاب پر شدید تنقید

وہاب اور عامر آسٹریلیا کے دورے سے چند دن قبل ہمیں دھوکا دے گئے جس کے بعد ہمارے پاس نوجوان ہی چوائس تھے: بولنگ کوچ وقار یونس— فوٹو: فائل 

پاکستان کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ اور ماضی کے عظیم فاسٹ بولر وقار یونس نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر منٹ لے کر انٹر نیشنل لیگز کی وجہ سے وائٹ بال کرکٹ پر فوکس کرنے والے سینیئر  بولرز وہاب ریاض اور محمد عامر کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

وقا یونس نے سڈنی سے پاکستانی صحافیوں کے ساتھ ویڈیو لنک پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹرز نے کبھی فیصلہ نہیں کیا کہ یہ میچ ہمارا آخری میچ ہے، اس کے بعد جب بورڈ نکالتا ہے تو ہم روتے ہیں، اس لیے کھلاڑیوں کو بھی کھلے ذہن کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وہاب اور عامر نے اپنا فیصلہ کرتے وقت سوشل میڈیا سہارا لیا اور بورڈ کو بتانے کی بھی زحمت نہیں کی، اس قسم کے فیصلوں سے ملک کو نقصان ہوتا ہے، وہاب اور عامر کے فیصلے کے بعد آسٹریلیا کے مشکل دورے سے قبل ہم نوجوان بولرز کی جانب گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہاب اور عامر آسٹریلیا کے دورے سے چند دن قبل ہمیں دھوکا دے گئے جس کے بعد ہمارے پاس نوجوان ہی چوائس تھے، موسیٰ اور نسیم ابتداء میں ناکام رہے لیکن نسیم نے پاکستان آکر میچ جتوائے۔

وقار یونس کا کہنا تھا کہ کھلاڑی لیگز کو ترجیح دے کر ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ 

 انہوں نے مزید کہا کہ میرے آنے سے قبل عامر ٹیسٹ چھوڑ چکے تھے لیکن میں اس بات پر اسی لیے تنقید کررہا ہوں کہ اہم ٹور سے پہلے ریٹائر ہوجانے اور مڈل سیکس کے لیے 4 روزہ میچ کھیلنا کسی بھی طرح اچھی روایت نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم نے دونوں بولروں کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ چھوڑنے کے باوجود اس بات کی حمایت کی کہ انہیں محدود اوورز کی کرکٹ جاری رکھنی چاہیے اور موقع بھی دیا جانا چاہیے، پی ایس ایل سے ہمیں دلبر حسین جیسا بولر ملا ہے اور مجھے اس سے بھی امید ہے۔

قومی ٹیم کے بولنگ کوچ کا کہنا تھا کہ کون سا کھلاڑی کونسا فارمیٹ کھیلنا چاہتا ہے انہیں آپ روک نہیں سکتے لیکن ان کی ریٹائر منٹ کے بارے میں پالیسی بنانے کی ضرورت ہے اور پالیسی میں کسی بھی ریٹائرمنٹ لینے والے کھلاڑی کے لیے کرکٹ بورڈ کی رضامندی ضروری ہے۔

ان کاکہنا ہے کہ کرکٹ میں فارمیٹ زیادہ ہیں لہٰذا میری سوچ ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کے لیے میچور بولروں کی ضرورت ہے جبکہ شارٹ فارمیٹ کے لیے زیادہ بولروں کی ضرورت ہے اور ہمارے پاس 8 سے 10 بولروں کا گروپ بن جائے تو پریشانی کم ہوجائے گی، 18 ماہ میں اِس وقت جو بولر ہیں وہ پاکستان ٹیم کو آگے لے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محمد عباس، محمد عامر، وہاب ریاض، نسیم شاہ، شاہین شاہ، عثمان شنواری، موسیٰ خان، حسنین اور چند نئے بولروں کو ساتھ ملا ایک گروپ تیار کررہا ہوں جس میں زیادہ تر بولر نوجوان اور اسپیڈ والے ہیں  اور تجربہ انہیں وقت کے ساتھ ساتھ ملے گا۔

وقار یونس کے مطابق نوجوان بولرز کو سیٹ ہونے کے لیے وقت درکار ہے، ان میں سے کئی بولر کیریئر کے آغاز میں زخمی ہوئے ہیں اور مزید زخمی ہوکر مضبوط ہوں گے جبکہ کوشش کریں گے کہ فاسٹ بولروں کا بڑا پول رکھیں تاکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل ان بولرز کو تیار کرسکوں۔

انہوں نے بتایا کہ مصباح اور ٹرینر تمام بولروں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور انہیں گھر میں ٹریننگ کا پروگرام دے رہے ہیں اور اس دوران ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے بولرز میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ 

خیال رہے کہ محمد عامر اور وہاب ریاض نے گزشتہ سال ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا جس پر انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM