09 جولائی ، 2020
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف رکن اکبر ایس بابر نے کہا ہے کہ غیرملکی فنڈنگ کیس میں تاخیری حربے استعمال کیے گئے اور تحریک انصاف نے فنڈنگ قوانین کی دھجیاں اڑائی ہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام "جیو پاکستان" میں گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہا کہ تحریک انصاف اور عمران خان سے اداروں کو کام سے روکنے کی توقع نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں الیکشن کمیشن پر مکمل اعتماد ہے، جب تمام ریکارڈ آئے گا تو حقیقت سامنے آجائے گی۔
یاد رہے کہ اکبر ایس بابر نے 2014 میں پاکستان تحریک انصاف کے خلاف درخواست دی تھی جس میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنی بنیاد رکھنے کے لیے دو آف شور کمپنیوں کے ذریعے تین ملین ڈالر اکٹھے کیے تھے۔
اکبر ایس بابر کے مطابق اس رقم کا آڈٹ کبھی نہیں کروایا گیا اور پی ٹی آئی اب بھی اسکروٹنی کے عمل سے گریز کر رہی ہے۔
الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز یعنی بدھ کو اکبر ایس بابر کی درخواست پر حکم نامہ جاری کرتے ہوئے اسکروٹنی کمیٹی کو 17 اگست تک رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
حکم نامہ میں الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کا معاملہ 2 سال گزر جانے کے باوجود سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ الیکشن کمیشن کو جمع نہیں کرائی گئی، بجائے اس کے کہ کمیٹی فریقین کی درخواستیں کمیشن کو فیصلہ کے لیے بھیجے، اسکروٹنی کمیٹی مختصر ترین مدت میں حتمی رپورٹ کمیشن کو جمع کرائے ۔