Can't connect right now! retry

پاکستان
12 ستمبر ، 2020

لاہور موٹروے پر خاتون سے زیادتی کے دونوں ملزمان کا سراغ مل گیا

لاہور موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کرنے والے دونوں ملزمان کا سراغ لگالیا گیا۔

متاثرہ خاتون سے حاصل نمونے ملزمان کے ڈی این اے سے میچ کر گئے ہیں، ڈی این اے نمونے فارنزک لیبارٹری کے ڈیٹا بینک میں پہلے سے موجود تھے، دستیاب شناخت کے مطابق ایک ملزم کا نام محمد عابد  اور دوسرے کا وقار ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق 27 سالہ عابد کا تعلق بہاول نگر سے ہے، وہ لاہور آتا جاتا رہتاہے، ملزم عابد اشتہاری مجرم ہے کئی وارداتوں کا ریکارڈ ہے۔ ملزم تاحال فرار ہے اور سے کی تلاش جاری ہے۔

عابد 2013 میں ڈکیتی کے دوران ماں بیٹی سے زیادتی میں بھی ملوث تھا، دوسرا ملزم وقار مرکزی ملزم عابدکا ساتھی ہے، وقار کا بھی کرمنل ریکارڈ موجود ہے۔

دونوں افراد کی گرفتاری تاحال عمل میں نہیں آئی ہے اور پولیس انہیں تلاش کرنے میں  مصروف ہے۔

عابد کے نام پر چار سمیں تھیں جو مختلف اوقات میں وہ بند کرچکا، آئی جی پنجاب
دستیاب شناخت کے مطابق ایک ملزم کا نام محمد عابد اور دوسرے کا وقار ہے— فوٹو: اسکرین گریب

آئی جی پنجاب انعام غنی نے پریس کانفرنس میں  بتایا کہ گزشتہ رات 12 بجے کے قریب کنفرم ہوا کہ عابد علی واقعے میں ملوث ہے، عابد علی کا پہلے ڈی این اے ٹیسٹ ہوا تھا جس سے نمونے میچ کرگئے، راتوں رات ہم نے ملزم کی تمام تفصیلات حاصل کیں، عابد کے نام پر چار سمیں تھیں جو مختلف اوقات میں وہ بند کرچکا۔

آئی جی پنجاب نے بتایا کہ ایک سم جو ملزم استعمال کررہا تھا اس کے نام پر نہیں تھی، قلعہ ستارشاہ میں چھاپے کے دوران ملزم عابد اور اس کی بیوی فرار ہوگئے، دوسرے ملزم وقار کے گھر بھی چھاپہ مارا گیا لیکن وہ فرار ہوچکا تھا۔

آئی جی پنجاب نے بتایا کہ  دونوں ملزمان کا ریکارڈ ہمیں مل چکا ہے ہم ان کے تعاقب میں ہیں، امید ہے بہت جلد دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیں گے، ریپ کیسز پر کام کررہے ہیں زیادہ تر کیسز کے ملزمان گرفتار ہیں۔

ملزمان کی گرفتاری میں مددکرنیوالوں کیلئے 25 ، 25 لاکھ روپے کاانعام رکھاہے، وزیراعلیٰ پنجاب
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ 72 گھنٹے سے بھی کم وقت میں ملزمان کا سراغ لگالیا گیا— فوٹو: اسکرین گریب

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ 72 گھنٹے سے بھی کم وقت میں ملزمان کا سراغ لگالیا گیا ، پولیس اورمتعلقہ اداروں کو ہدایات کی ہیں کہ ایسےواقعات کی روک تھام کیلئےاقدامات کئےجائیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے، ملزمان کی گرفتاری میں مددکرنیوالوں کیلئے 25 ، 25 لاکھ روپے کاانعام رکھاہے، ملزمان کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنیوالوں کانام صیغہ راز میں رکھاجائےگا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ جن درندوں نےخاتون سے زیادتی کی ہےجلد قانون کی گرفت میں ہوں گے، میرا متاثرہ خاتون سےبھی رابطہ ہواان کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

سی سی پی او نے غیر ذمےدارانہ بات کی، وزیراعلیٰ پنجاب

عثمان بزدار نے کہا کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے غیر ذمےدارانہ بات کی، آئی جی پنجاب نے سی سی پی او کو شو کاز دیا ہے،آئی جی پنجاب نے سی سی پی او سے 7 روز میں جواب مانگا ہے، سی سی پی او کےجواب پر لیگل ایکشن لیا جائےگا۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان کےخلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، ملزمان کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیاجائےگا، پوری کوشش کریں گے کہ ملزمان کو سخت سے سخت سزادلوائیں، ملزم وقار الحسن کیخلاف ڈکیتی کے2 مقدمات ہیں اوروہ 14دن پہلےہی ضمانت پررہاہواہے۔

اس سے قبل پولیس نے پہلے جن 63 افراد کو حراست میں لیا تھا ان میں سے کسی کا ڈی این اے خاتون کے حاصل کردہ نمونوں سے میچ نہيں ہوا۔

پولیس ذرائع کا بتانا ہے کہ فارنزک سائنس ایجنسی کے ڈی این اے بینک میں ملزم کا ڈی این موجود تھا،ملزم کا جرائم پیشہ ریکارڈ بھی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کا نام ابتدائی طور پر محمد عابد بتایا جا رہا ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بھی ملزم کا نام محمد عابد ہی بتایا گیا۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ ملزم سے متعلق اہم پیش رفت ہوئی ہے لیکن ابھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

واقعے کا پسِ منظر

9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا۔

اطلاعات کے مطابق دو افراد نے موٹر وے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا، موٹر وے کے گرد لگی جالی کاٹ کر سب کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور پھر خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔

ایف آئی آر کےمطابق گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون رات کو تقریباً ڈیڑھ بجے اپنی کار میں اپنے دو بچوں کے ہمراہ لاہور سے گوجرانوالہ واپس جا رہی تھی کہ رنگ روڈ پر گجر پورہ کے نزدیک اسکی کار کا پیٹرول ختم ہو گیا۔

کار کا پٹرول ختم ہونے کے باعث موٹروے پر گاڑی روک کر خاتون شوہر کا انتظار کر رہی تھی، پہلے خاتون نے اپنے ایک رشتے دار کو فون کیا، رشتے دار نے موٹر وے پولیس کو فون کرنے کا کہا۔

جب گاڑی بند تھی تو خاتون نے موٹروے پولیس کو بھی فون کیا مگر موٹر وے پولیس نے مبینہ طور پر کہا کہ کوئی ایمرجنسی ڈیوٹی پر نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق موٹروے ہیلپ لائن پر خاتون کو جواب ملا کہ گجر پورہ کی بِیٹ ابھی کسی کو الاٹ نہیں ہوئی۔

ایف آئی آر کے مطابق اتنی دیر میں دو مسلح افراد موٹر وے سے ملحقہ جنگل سے آئےاور کار کا شیشہ توڑ کر زبردستی خاتون اور اس کے بچوں کو نزدیک جنگل میں لے گئے جہاں ڈاکوؤں نے خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس سے طلائی زیور اور نقدی چھین کر فرار ہو گئے۔

خاتون کی حالت خراب ہونے پر اسے اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے ۔ خاتون کی طبی ملاحظے کی رپورٹ فرانزک کے لیے بھجوا دی گئی ہے جبکہ خاتون کے رشتے دار کی مدعیت میں پولیس نےمقدمہ درج کر لیا۔

پولیس کے مطابق زیادتی کا شکار خاتون کے میڈیکل ٹیسٹ میں خاتون سے زیادتی ثابت ہوئی ہے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM