Can't connect right now! retry

دنیا
02 اکتوبر ، 2020

نگورنو کاراباخ تنازع: آرمینیا نے سیز فائر پر رضا مندی ظاہر کردی

فوٹو: اے پی

یریوان: آرمینیا نے نگورنو کاراباخ کے متنازع علاقے پر آذربائیجان کے ساتھ جاری جھڑپوں میں سیز فائر پر رضا مندی ظاہر کردی۔

عرب خبر رساں ادارے کے مطابق آرمینیا کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں نگورنو کاراباخ میں سیز فائر کرنے پر رضا مندی ظاہر کی گئی ہے۔

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آرمینیا آرگنائزیشن فار سیکیورٹی اینڈ کوپریشن اِن یورپ (او ایس سی ای) کے ساتھ کاراباخ پر دوبارہ سے سیز فائر کرنے پر تیار ہے۔

وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہےکہ نگورنو کاراباخ کے خلاف جارحیت جاری رہی تو اس کا بھر پور جواب دیا جائے گا۔

عرب میڈیا کے مطابق امریکا، فرانس، روس، آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان کاراباخ کے معاملے پر تنازع کے حل کیلئے 1992 میں بننے والی او ایس سی ای کے شریک سربراہ ہیں، ان ممالک نے فوری طور پر آرمینیا اور آذربائیجان سے سیز فائر کا مطالبہ کیا تھا۔

آرمینیا کے مزید 54 فوجی ہلاک

آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان نگورنو کاراباخ کے معاملے پر اتوار سے جاری جھڑپوں میں آرمینیا کے مزید 54 فوجی ہلاک ہوگئے جس سے ہلاکتوں کی تعداد 158 تک جا پہنچی ہے۔

آذربائیجان کی جانب سے اب تک کسی فوجی کی ہلاکت رپورٹ نہیں کی گئی ہے تاہم آرمینین شیلنگ میں 19 عام شہریوں کی ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔

دوسری جانب اس حوالے سے ترکی کا کہنا ہےکہ اس معاملے میں ان تین ممالک کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔

بین الاقوامی طور پرترکی آذربائیجان کا بڑا حمایتی ملک ہے جب کہ آرمینیا میں روس نے فوجی اڈہ قائم کررکھا ہے۔

گزشتہ دنوں فرانس کے وزیراعظم میکرون نے ترکی پر الزام عائد کیا تھا کہ انٹیلی جنس رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہےکہ عسکریت پسند گروپوں کے 300 جنگجو ترکی سے آذربائیجان کے راستے شام میں داخل ہوئے ہیں۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM