Time 03 اکتوبر ، 2020
بلاگ

قائداعظم کا قوم کے نام کھلا خط

فوٹو: فائل 

عالم ِبالا

جناح ہاؤس

پیارے پاکستانیو!!

میں گزشتہ چند دنوں سے پاکستان کے سیاسی اور معاشی حالات پر بہت پریشان ہوں۔ فاطمہ جناح اور لیاقت علی خان نے بھی مجھے اپنی تشویش سے آگاہ کیا، جس کے بعد میں نے اِتّمامِ حُجّت اور اصلاحِ احوال کی خاطر کھلا خط لکھنے کا فیصلہ کیا۔

یہاں مجھے یہ خبریں مل رہی ہیں کہ اپوزیشن جلد ہی احتجاجی تحریک چلانے والی ہے، پہلا جلسہ اکتوبر میں کوئٹہ میں ہوگا اور پھر ہر بڑے شہر میں جلسوں کے بعد جنوری میں لانگ مارچ اور اسلام آباد کی طرف ریلی کا بھی پروگرام ہے۔ 

دوسری طرف حکومت بھی مفاہمت یا ڈائیلاگ کا دروازہ کھولنے کے لیے تیار نہیں، ایسے میں صورتحال تصادم اور ڈیڈ لاک کی طرف جاتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے، اِس طرح کے حالات میں کسی شخصیت یا ادارے کو صلح جوئیانہ کردار ادا کرنا چاہیے اور دونوں طرف سے تصادم کی طرف بڑھتے ہوئے فریقوں کو روکنا چاہیے، اِس وقت افسوس کی بات یہ ہے کہ تاحال کوئی شخصیت یا ادارہ ایسا نہیں جو غیرمتنازعہ ہو اور ملک میں افہام و تفہیم کے لئے اپنا کردار ادا کر سکے۔

مجھے پتا چلا ہے کہ علامہ اقبال بھی اس ساری صورتحال پر سخت پریشان ہیں، اُنہوں نے مجھے پیغام بھجوایا ہے کہ میں اپنے اثر و رسوخ سے پاکستان کو سیاسی اور معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے کردار ادا کروں ابھی چند دن پہلے پنڈت نہرو، علامہ اقبال سے ملنے آئے تھے، وہ بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی کے فاشزم پر بہت رنجیدہ تھے، وہ راہول اور سونیا گاندھی کے لئے بھی بہت فکر مند تھے۔ 

اندرا گاندھی نے ذوالفقار علی بھٹو کو بتایا ہے کہ مہاتما گاندھی وزیراعظم مودی کی پالیسیوں پر شدید ناراض ہیں اور انہیں اندیشہ ہے کہ مودی کہیں ہندوستان میں فسادات کا ایسا بیج نہ بو دے جس سے ہندوستان کی اندرونی لڑائیاں اس کی تقسیم پر منتج ہوں، خیر بھارت والے اپنے ملک کی خبر لیں، ہمیں تو پاکستان کی زیادہ فکر ہے۔

پیارے پاکستانیو!!

میرے بچو یہ ملک میں نے بڑی مشکل سے انگریزوں اور ہندوؤں دونوں سے لڑ کر حاصل کیا تھا، میں نے شروع ہی سے اس میں پارلیمانی جمہوریت کی بنیاد رکھی، پارلیمان کے ذریعے سے صلاح مشورے اور افہام و تفہیم سے ملک چلانے کا اصول وضع کیا۔ 

حکومت اور اپوزیشن دونوں جمہوری نظام کے پہیے ہیں حکومت نظام کو چلاتی ہے تو اپوزیشن اس کی غلطیوں پر نظر رکھتی ہے لیکن اگر حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے سے تصادم میں الجھ جائیں تو جمہوریت کا سارا نظام ہی بےمعنی اور بےاثر ہو جاتا ہے۔

میں خود بدعنوانی، اقربا پروری اور ذخیرہ اندوزی کے سخت خلاف تھا، بطور گورنر جنرل پاکستان میں نے بہت سی تقریروں میں ان سماجی اور سیاسی برائیوں کے خلاف لڑائی کا اعلان کیا مگر جب حکومتوں اور اداروں پر جانب داری کا الزام لگ جائے اور اپوزیشن اور عدالتیں ہم آواز ہو جائیں کہ احتساب کا ادارہ غیرجانب دار نہیں تو پھر ایسے میں حکومت کو بھی تحمل، برداشت اور رواداری سے کام لینا چاہیے۔

میں نے ہمیشہ قانون کو بالاتر سمجھ کر اس کی پابندی کی کبھی جیل نہیں گیا لیکن میں نے کبھی قانون کے ذریعے اپنے مخالفوں کو نیچا دکھانے کی کوشش بھی نہیں کی، قانون کا احترام تبھی قائم رہتا ہے اگر یہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے مساوی طور پر استعمال ہو، میں تشویش سے دیکھ رہا ہوں کہ اپوزیشن کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے، اسی لئے اپوزیشن جنگ پر آمادہ ہو گئی ہے، یہ صورتحال پریشان کن ہے۔

عزیز پاکستانیو!!

اپنے کھلے خط کے ذریعے میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کو انتباہ کرنا چاہتا ہوں کہ آپ دونوں ہی غلط راستے پر چل رہے ہیں، اپوزیشن جلسے جلوس کرنے کا قانونی اور آئینی حق رکھتی ہے مگر دھرنے اور ریلیاں ملک کو عدم استحکام کی طرف لے جائیں گی۔ 

عمران خان کا دھرنا یا مذہبی و سیاسی جماعتوں کے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ، ان سب کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے، ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں کو بیٹھ کر یہ طے کرنا چاہیےکہ کسی گروہ یا پارٹی کو اسلام آباد یا کسی شہر کا گھیراؤ کر کے اپنے مطالبات منوانے کے طریقے پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔ 

حکومت کو پورے پانچ سال کا مینڈیٹ پورا کرنا چاہیے، دوسری طرف حکومت اپوزیشن کو نیب مقدمات میں پھنسا کر جو گرفتاریاں کر رہی ہے، وہ بند کرے، اپوزیشن کو اس کا جائز مقام دے کر، اسے صلاح مشورے اور قانون سازی کے عمل میں شریک کرے۔

 آئندہ انتخابات کو غیرجانب دارانہ اور شفاف بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتیں اتفاق رائے سے لائحہ عمل طے کریں، نیب کے قانون کو موثر، غیرجانب دار اور شک و شبہ سے بالاتر رکھنے کے لیے دوسرے ممالک کے احتسابی اداروں کے ماڈل کو اپنایا جائے، حکومت اور اپوزیشن ملک سے غربت، بےروزگاری اور مہنگائی کو دور کرنے کے لیے اقدامات پر غور کریں۔

پیارے پاکستانیو!!

میں نے اپنے دل کی باتیں لکھ دی ہیں، آپ ان پر عمل کریں گے تو ملک ترقی کرے گا اور اگر عمل نہیں کریں گے تو حالات مزید خراب ہوں گے۔

فقط

ایم اے جناح


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔