11 اگست ، 2021
انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں نائیجیرین سفارت کار عبدالرحمٰن ابراہیم پر مبینہ طور پر 3 لوگوں نے حملہ کردیا۔
نائیجیرین سفارت کار پر ان کے گھر کے قریب مبینہ طور پر انڈونیشیا کے امیگریشن حکام کی جانب سے اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ اپنی گاڑی میں کہیں جارہے تھے۔
و یڈیو میں 2 افراد کو دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ عبدالرحمٰن ابراہیم کے ہاتھوں کو پکڑ رہے ہیں جبکہ پاؤں سے ان کی ایک ٹانگ پر دباؤ ڈالا جارہاہے اور تیسرا شخص ابراہیم کے چہرے کو گاڑی کی پچھلی نشست کے ساتھ لگائے دیکھا جا سکتا ہے۔
سفید ٹی شرٹ اور جینز پہنے عبدالرحمن ابراہیم کو پوری ویڈیو میں مسلسل چیختے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
سفارت کار پر حملے کے بعد نائیجیریا کی حکومت نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ نائیجیریا نے جکارتہ سے اپنے سفیر کو بھی واپس بلا لیا ہے اور ابوجا میں انڈونیشیا کے سفیر کو بھی طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر حملے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
پیر کو جاری کردہ ایک بیان میں نائیجیریا کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس نے انڈونیشیا کی حکومت سے اس واقعے کی سخت شکایت کی ہے جبکہ انڈونیشیا کےسفیر نے حکومت کی جانب سے اس واقعے پر معافی مانگی ہے۔
نائیجیریا کے وزیر برائے خارجہ امور اونیاما کا کہنا ہے کہ ابراہیم پر انڈونیشین حکام نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی کے دوران حملہ کیا۔
انڈونیشیا نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نائیجیریا کے سفارت کار سے معذرت کی ہے۔
عبدالرحمٰن ابراہیم نے تصدیق کی ہے کہ جو اہلکار اس واقعے میں ملوث تھے انہوں نے ان سے ذاتی طور پر ملاقات کی اور معافی معانگی۔